کولکتہّ میں غلام علی کی پرفارمنس میلہ لوٹ لیا، ثابت ہوا، اکثریت صلح کن

کولکتہّ میں غلام علی کی پرفارمنس میلہ لوٹ لیا، ثابت ہوا، اکثریت صلح کن

تجزیہ:چودھری خادم حسین

موضوعات تو ایک سے ایک ہیں۔ لیکن آج ثقیل تجزیئے سے گریز کی کوشش ہے۔ ہلکا پھلکا ہو تو بہتر ہوگا۔ پاکستان کے فن کار غزل گائیک جن کو بھارت سے واپس بھیج دیا گیا تھا اور شیوسینا نے ان کو پرفارم نہیں کرنے دیا تھا نے کولکتہ میں میلہ لوٹ لیا اور غزلیں سنا سنا کر بہت داد وصول کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی نے خود استقبال کیا اور سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عوام کی سطح تک بھاری اکثریت امن اور دوستی کی خواہش مند ہے۔ اگر ماضی میں وفود اور فن کاروں کے تبادلے کا سلسلہ روک نہ دیا جاتا تو عوامی سطح پر حالات اور بھی بہتر ہوتے اور بھارتی انتہا پسندوں (شیو سینا وغیرہ) کی دال نہ گلتی اس کے لئے بھی سرکاری خواہش کا ہونا ضروری ہوتا ہے کہ حفاظتی انتظامات اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے اب حالات نے جو کروٹ لی ہے۔ اس میں ویزا پالیسی نرم کرنے اور وفود کے تبادلوں کی ضرورت ہے کہ ماحول بہتر ہوتا ہے۔ یہ توقع تو نہیں کی جا سکتی کہ اس سے تنازعات طے ہو جائیں گے لیکن اتنا ضرور ہے کہ مذاکرات کے لئے فضا ضرور ساز گار ہو گی اور اب یہ بات پھر سے آس دلا رہی ہے کہ واجپئی کی کوشش کو نریندر مودی کامیاب بنا سکتے ہیں۔ دیکھئے آنے والا وقت کیا دکھاتا ہے 15 جنوری بھی سر پر ہے۔ اسلام آباد بھارتی خارجہ سیکریٹری کا منتظر ہے۔ سنجیدہ مبصرین درست کہتے ہیں کہ پاک بھارت تنازعات کا حل بہت مشکل ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ شرط ارادے اور نیت کی ہے۔

یہ بھی ہلکی پھلکی تھی ہماری توجہ تو ہمارے بوم بوم آفریدی نے پھر سے اپنی طرف مبذول کرائی وہ نیوزی لینڈ کے الیکٹرانک میڈیا سے بھی ناراض ہو گئے ہیں کہتے ہیں خوامخواہ سکینڈل بنا دیا چلیں یہ تو اچھا ہوا کہ کوریج کرنے ولے پاکستانی نہیں تھے۔ ویسے یہ کوئی بڑی بات بھی نہیں۔ انسان بھول چوک کا شکار ہو ہی جاتا ہے اگر بوم بوم اور احمد شہزاد دونوں ہی بھول گئے تو کیا ہوا، ایک پاکستانی تو تعاون کے لئے موجود تھا جس نے بروقت ادائیگی کر دی۔ فوٹیج میں شاہد خان کو تیزی سے واپس جاتے ہوئے دکھایا اس لئے یہ پتہ نہیں چلا کہ دونوں کھلاڑیوں نے ’’مہربان‘‘ کا شکریہ بھی ادا کیا کہ نہیں۔ یہ میڈیا والے ستم ظریف ہیں کہ یہ سب دکھا دیا۔ بھول چوک تو ہو ہی جاتی ہے اب شاہد اور شہزاد کوئی بھوکے ننگے تو نہیں ہیں۔ ان کے پاس ڈالر ضرور ہوں گے جو یہاں چل سکتے تھے۔ وہ تو پرس ہی بھول آئے تھے۔ پاکستان میں ہوتے تو ریسٹورنٹ والا ہی بل نہ لاتا یا پھر درجنوں پرستار ادائیگی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے لیکن یہ نیوزی لینڈ تھا اس لئے ادائیگی ہی سے جان چھوٹی۔ ناراض ہونے کی ضرورت نہیں۔ انجوائے کریں۔

ایسا ہی ایک معصوم سا واقعہ لاہور میں ہو گیا۔ ستم ظریف کیمرہ مین نے محترمہ بے نظیر کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو کی بلیوں کی تصویر کشی کر لی کہ جن کو لاہور کے موسم میں ٹھنڈ لگی اور ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس بھجوانا پڑا، میڈیا پر فوٹیج چلی تو جواب واجب ہو گیا۔ آصف کا جواب بہت ہی معصومانہ ہے۔ ٹویٹ کیا ۔ میں بلیاں کراچی سے تو نہیں لائی۔ یہ تو بحریہ ٹاؤن میں آوارہ پھرتی ملی ہیں۔ اگر تم ساتھ بھی لے آئی تو کیا ہوا۔ سیاسی قائدین تو نہ جانے سرکاری جہاز بھر کر کس کس کو اور کیا کیا لے جاتے ہیں۔ اگر آپ کراچی سے بھی لے آئی تھیں تو خرچہ تو اپنا تھا۔ بہر حال یہ خبر بھی عوامی دلچسپی کا باعث بنی، آج اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

مزید : تجزیہ