چودھری سرور تحریک انصاف نہیں چھوڑ رہے ،کتاب کی رونمائی کیلئے برطانیہ گئے

چودھری سرور تحریک انصاف نہیں چھوڑ رہے ،کتاب کی رونمائی کیلئے برطانیہ گئے

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پنجاب کے سابق گورنر اور تحریک انصاف کے رہنما چودھری محمد سرور تحریک انصاف چھوڑ رہے ہیں انہوں نے اگر اس طرح کی خبریں میڈیا میں نشر اور شائع کرنے سے پہلے چودھری سرور سے رابطہ کرلیا ہوتا تو ذرا مختلف قسم کی تصویر اُن کے سامنے آجاتی، لیکن انہوں نے تحریک انصاف کے اندر ’’شاہ محمود‘‘ گروپ کے پروپیگنڈے میں آکر یہ خبر چلا دی کہ چودھری سرور تحریک انصاف کو بھی خیرباد کہہ رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر کی معروضی صورتحال یہ ہے کہ یہ شاہ محمود قریشی ہیں جو چاہتے ہیں کہ چودھری سرور پارٹی چھوڑ جائیں اور انہی کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر چودھری سرور کے بارے میں یہ خبریں شائع ہوئی ہیں کہ وہ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں، جبکہ چودھری سرور کا کہنا ہے کہ وہ ’’پارٹی میں ہیں، پارٹی میں رہیں گے اور پارٹی کیلئے ہر طرح کی قربانی دیں گے‘‘۔ یہ بات خود چودھری سرور نے اپنے ایک انتہائی قریبی دوست کو بذریعہ ای میل بتائی، انہوں نے مزید بتایا کہ وہ برطانیہ میں اچانک نہیں آئے جیسا کہ خبروں میں تاثر دیا گیا ہے وہ تقریباً ایک ہفتے سے برطانیہ میں ہیں اور اُن کی آمد کا مقصد اپنی کتاب ’’مائی ریمارکیبل جرنی‘‘ کی تقریب رونمائی میں شرکت ہے۔ اس سلسلے کی ایک تقریب گزشتہ جمعرات کو لندن میں ہوچکی ہے اور اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں گلاسگو ’’ہلٹن‘‘ میں تقریب کی تیاریاں جاری ہیں۔

چودھری سرور کا کہنا ہے کہ وہ سب کچھ پارٹی ہائی کمان کو بتا کر اس کی اجازت سے طے شدہ پروگرام کے تحت برطانیہ آئے ہیں اور اگر اُن کی غیر حاضری میں پارٹی چھوڑنے کی خبریں لگوائی جا رہی ہیں تو پارٹی کی جانب سے اس کی وضاحت ہونی چاہئے تھی، جو پارٹی کے متعلقہ شعبے نے جاری نہیں کی۔ آپ یہ تو جانتے ہی ہیں کہ تحریک انصاف کے اندر بہت سے دھڑے متحرک ہیں اور خود پارٹی چیئرمین نے لاہور میں ضمنی انتخاب کے موقع پر علیم خان کے انتخابی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی جماعت میں صرف لاہور میں چھ دھڑے ہیں۔ یہ دھڑے بندی نہ ہوتی تو شاید علیم خان جیت ہی جاتے جنہوں نے ایاز صادق کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، وسائل بھی فراخ دلی سے خرچ کئے مگر پھر بھی کامیابی اُن کا مقدر نہ بن سکی۔ جس کا کچھ نہ کچھ ’’کریڈٹ‘‘ دھڑے بندی کو دیا جانا چاہئے۔

پارٹی کے اندر دھڑے بندیوں کی مختلف وجوہ ہیں، پرانے کارکنوں کو یہ شکایت ہے کہ وہ شروع سے پارٹی کے رکن چلے آ رہے ہیں لیکن ’’چھاتہ برداروں‘‘ کی لینڈنگ کے بعد انہیں نظرانداز کردیا گیا اور نئے آنے والوں کو ترجیح دی گئی۔ ’’چھاتہ برداروں‘‘ کی اصطلاح پارٹی میں اُن نئے آنے والوں کیلئے استعمال ہوتی ہے جو آتے ہی پارٹی پر چھا گئے، ان کے خلاف نظریاتی ورکروں یا پرانے ورکروں کو متحرک کیا گیا ہے۔ اس نظریاتی تحریک کے روح رواں جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور حامد خان ہیں تاہم ان پرانے ورکروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ پارٹی میں تو شروع سے ہی ہیں لیکن ان کے پاس اول تو وسائل نہیں اور ہیں بھی تو پارٹی میں انہیں اس حوالے سے کوئی نہیں جانتا جبکہ نئے آنے والوں کی چمک دور دور تک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔ چودھری سرور کے خلاف پارٹی کے اندر جو دھڑا متحرک ہے اس میں سب سے نمایاں تو شاہ محمود قریشی ہیں، اُن کے ساتھ اعجاز چودھری اور رائے حسن نواز بھی ہیں، موخرالذکر اور چودھری سرور کبھی قریبی دوست ہوتے تھے، سرور نے ہی انہیں پنجاب کا ڈپٹی آرگنائزر بنوایا لیکن اب وہ اُن کے مخالف ہوچکے ہیں۔ ایک دھڑا علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال کی قیادت میں متحرک ہے جس میں نعیم الحق نمایاں ہیں جو پارٹی کے ترجمان بھی ہیں، وہ اور علیم خان ایک زمانے میں دوست تھے، اکٹھے مل کر خیراتی کام بھی کرتے تھے، دونوں کا تعلق ککے زئی برادری سے ہے لیکن اب دونوں میں فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں۔ اسی گروپ میں ایم پی اے مراد راس بھی ہیں، اس گروپ کے اجلاس زیادہ تر ولید اقبال کی رہائش پر ہوتے ہیں، اجلاسوں کیلئے یہ گروپ چندہ اکٹھا کرکے اخراجات کرتا ہے۔

پارٹی میں سب سے زیادہ مضبوط گروپ اس وقت جہانگیر ترین، پرویز خٹک (وزیراعلیٰ کے پی کے) اور علیم خان کا ہے، چودھری سرور کا تعلق بھی اسی گروپ سے ہے۔ جہانگیر ترین ابھی حال ہی میں لودھراں سے ایم این اے منتخب ہوئے ہیں، یہ گروپ پارٹی میں سب سے زیادہ مضبوط ہے اور وسائل بھی رکھتا ہے پارٹی چیئرمین نے بھی اپنی حمایت کا وزن اسی کے پلڑے میں ڈالا ہوا ہے۔ اس لیے وہ نہیں چاہیں گے کہ چودھری سرور پارٹی چھوڑ کر جائیں نہ چودھری سرور کا ارادہ ہے، لیکن شاہ محمود قریشی کی یہ خواہش ضرور ہے کہ چودھری سرور پارٹی میں نہ رہیں اس لیے اگر وہ پارٹی نہیں چھوڑتے تو انہیں انٹرا پارٹی الیکشن میں پنجاب کے صدر کے الیکشن میں ہرانے کی کوشش کی جائے گی۔ چودھری سرور کے پارٹی چھوڑنے کی خبروں کے پس منظر میں بھی یہی تصور ہے کہ انہیں پارٹی الیکشن سے پہلے پہلے اس حد تک ناقابل قبول بنا دیا جائے کہ وہ پارٹی الیکشن ہار جائیں۔ شاہ محمود قریشی ایک زمانے میں خود کو عمران خان کے بعد پارٹی کا سب سے بڑا رہنما سمجھنے لگے تھے اور کچھ عرصے تک یہ تاثر قائم بھی رہا۔ کراچی کے جلسے میں انہوں نے جوش جذبات میں مخدوم جاوید ہاشمی کو ’’داغی‘‘ قرار دے کر داد سمیٹنے کی کوشش کی تھی، پھر ملتان کے ضمنی الیکشن میں ہاشمی کو ہروانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور ملتان میں ’’بدنظمی کا شاہکار‘‘ جلسہ بھی کرایا، جس میں کئی لوگ جان سے بھی گئے لیکن اب وہ دن ہوا ہوگئے، پارٹی کے قریبی ذرائع نے ان سطور کے راقم کو بتایا کہ اب تو عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ اگر شاہ محمود خود ہی پارٹی چھوڑ جائیں تو یہ پارٹی کیلئے نیک فال ہوگی۔ عمران خان نجی محفلوں میں کہہ چکے ہیں کہ شاہ محمود قریشی پارٹی کو آرگنائز نہیں کرسکے، لیکن انہیں تنظیمی کام کا بڑا شوق ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے جن لوگوں کو ساتھ لے کر آئے تھے وہ پارٹی کیلئے مشکلات کا باعث ہی بنے ہیں۔

جس پارٹی کی یہ حالت ہے چودھری سرور اگر اسے چھوڑ کر نہیں بھی جا رہے تو سوال یہ ہے کہ انہیں صوبائی صدر کے عہدے کے الیکشن میں شکست ہوگئی تو کیا ہوگا؟ پھر پارٹی چیئرمین کو اُن کیلئے کوئی نیا عہدہ تشکیل کرنا ہوگا۔

مزید : تجزیہ