پٹھانکوٹ۔ سید صلاح الدین۔ مولانا مسعود اظہر ؟

پٹھانکوٹ۔ سید صلاح الدین۔ مولانا مسعود اظہر ؟
 پٹھانکوٹ۔ سید صلاح الدین۔ مولانا مسعود اظہر ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے پہلے اور اس کے بعد متحدہ جہاد کونسل کے سیکرٹری جنرل شیخ جمیل الرحمٰن نے بھی پٹھانکوٹ حملہ کے فوراً بعد اس کی ذمہ داری قبول کر لی۔ لیکن حکومت نے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر اور ان کے ساتھیوں کو پٹھانکوٹ حملہ کی تفتیش کے لئے گرفتار کر لیا۔ سادہ سی بات ہے کہ نہ تو بھارتی حکومت اور نہ ہی پاکستان کی حکومت نے سید صلاح الدین اور شیخ جمیل الرحمٰن کے ذمہ داری قبول کرنے کو قبول کیا ہے۔ اس پر سید صلاح الدین اور شیخ جمیل الرحمٰن کے ساتھ ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے۔

متحدہ جہاد کونسل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے تسلط کے خلاف عسکری جدو جہد کرنے والی تنظیموں کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اس کی ممبر صرف کشمیری تنظیمیں ہی ہو سکتی ہیں۔ غیر کشمیری تنظیمیں متحدہ جہاد کونسل کی ممبر نہیں ہو سکتیں۔ بلا شبہ جیش محمد اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کشمیری نہیں ہیں۔ اس لئے ان کی جماعت اور وہ خود متحدہ جہاد کونسل کے ممبر نہیں ہیں۔ اور جب وہ متحدہ جہاد کونسل کے ممبر ہی نہیں ہیں تو سید صلاح الدین اور شیخ جمیل الرحمٰن ان کی طرف سے کسی کارروائی کو قبول کیسے کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے بھی سید صلاح الدین کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کو نا پسند کیا ہے۔ اور اس کے خلاف بیان دیا ہے۔

سید صلاح الدین اور ان کی تنظیم حزب المجاہدین کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔جب حریت کانفرنس مقبوضہ کشمیر میں عسکری جدو جہد کے حوالہ سے تقسیم ہوئی اور سید علی گیلانی اس سے علیحدہ ہوئے تب بھی سید علی گیلانی نے سید صلاح الدین کی سیاسی حما یت جاری رکھی۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ پہلا موقع ہے جب سید علی گیلانی نے سید صلاح الدین کے کسی عمل سے اختلاف کیا ہے۔ اور اس کی برملا مخالفت کی ہے۔

میرے لئے یہ سوال اہم نہیں ہے کہ مولانا مسعود اظہر نے پٹھانکوٹ کا واقعہ کیا ہے یا نہیں۔ بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی جیش محمد نے کی تھی تو سید صلاح الدین اور شیخ جمیل الرحمٰن نے اس کی ذمہ داری قبول کیوں کی؟ ان کی طرف سے ایسی حماقت کی ہر گز توقع نہیں کی جا سکتی۔

جہاں تک مولانا مسعود اظہر کا تعلق ہے وہ پہلے بھی کئی سال بھارت میں جیل کاٹ چکے ہیں۔ایک بھارتی جہاز کی ہائی جیکنگ کے نتیجے میں رہا ہوئے۔ افغانستان پہنچے اور وہاں سے پاکستان پہنچے۔ ان کا ابتدائی عسکری سفر حرکت المجاہدین سے شروع ہوا۔ پھر ان کا فضل الرحمٰن خلیل سے اختلاف ہوا۔ اور انہوں نے حرکت المجاہدین کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے اپنی جیش محمد بنا لی۔ یہ درست ہے کہ ایک وقت میں مولانا مسعود اظہر کشمیر میں متحرک تھے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب کافی عرصہ سے وہ کشمیر میں متحرک نہیں ہیں۔ بلکہ وہ دیگر کشمیری تنظیموں کا اعتماد کھو چکے ہیں۔ ان کے حوالہ سے بہت سی تھیوریاں رہی ہیں۔ لیکن ان سب تھیوریوں کو اگر قطع نظر کر بھی دیا جائے تو یہ بات حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی سال سے مولانا مسعود اظہر اپنی سرگرمیوں کے لئے آزاد نہیں تھے۔ ان پر نظر بھی تھی اور پہرہ بھی تھا۔ان پر کسی کو اتنا اعتماد نہیں تھا۔ اس لئے یہ ماننا مشکل ہے کہ کسی نے ان کے ساتھ مل کر کوئی پلان بنا یا ہو گا۔ وہ اکیلے بھی کوئی بڑی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہیں یہ بھی ایک سوال ہے۔ اگر انہوں نے اس سب کے باوجود پٹھانکوٹ کی کارروائی کر لی ہے تو بڑی بات ہے۔ لیکن عقل نہیں مانتی۔ تا ہم اس کھیل میں وہی ہو جا تا ہے جس کو عقل نہیں مانتی۔

اطلاعات یہ ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل سے مولانا مسعود اظہر اور ان کی جماعت جیش محمد کو دہشت گرد قرار دلوانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے اسے چین کی حما یت درکار ہے۔ اس سے پہلے بھارت کئی سال تک حافظ سعید کے خلاف یہ سازشیں کرتا رہا لیکن چین نے کئی دفعہ بھارت کی ایسی کوششیں نا کام بنائیں۔ لیکن ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کی حکومت اس قدر دباؤ میں آگئی اس نے چین کو گرین سگنل دے دیا کہ وہ حافظ سعید کو دہشت گرد قرار دلوانے کی قرارداد کو نہ روکے۔ اب بھی بھارت پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ وہ چین سے کہے کہ وہ مولانا مسعود اظہر اور ان کی جماعت کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے دہشت گردقرار دلوائے۔اس ضمن میں مولانا مسعود اظہر کے ساتھ حافظ عبد الرحمٰن مکی اور داؤد ابراہیم کے نام بھی موجود ہیں جنہیں بھارت اقوام متحدہ سے دہشت گرد قرار دلوانا چاہتا ہے۔ اس لئے اگر مولانا مسعود اظہر کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو پھر ان کے خلاف آگے بھی پلان موجود ہے۔

اس سے قبل ممبئی حملوں کے موقع پر بھی پاکستان میں لشکر طیبہ کے ذکی الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن کئی سال پابند سلاسل رہنے کے باوجود وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اسی طرح بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس کے گرفتارملزمان کرنل پروہت اور سوامی آسیم آنند بھی بھارت میں ضمانت پر رہا ہیں۔ اس لئے دونوں طرف صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ لیکن کیا اس بار بھی ماضی کی طرح ہی ہو گا۔ مولانا مسعود اظہر دوبارہ کئی سال پابند سلاسل رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہو جائیں گے۔ اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ بیچارے ذکی الرحمٰن لکھوی ، مولانا مسعود اظہر سب مہرے ہیں۔ لڑائی کہیں اور ہے۔ اور جب تک وہ لڑائی ختم نہیں ہو گی۔ مہرے مرتے رہیں گے۔تا ہم سید صلاح الدین کو سمجھنا ہو گا کہ ان کی غلطی تحریک آزادی کشمیر کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے۔

مزید : کالم