سندھ ہائیکورٹ کا محکمہ آبپاشی کے ملازمین کو اپ گریڈ کرنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کا محکمہ آبپاشی کے ملازمین کو اپ گریڈ کرنے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے محکمہ آبپاشی کیس میں توہین عدالت درخواست کی سماعت کرتے ہوئے ملازمین کو اپ گریڈ کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ میں محکمہ آبپاشی کے محکمہ آبپاشی کے گریڈ 5 اور6 کے ملازمین نے درخواست دائر کی تھی کہ ان کو1992سے ترقی نہیں دی گئی جو کہ سروسز رولز کی خلاف ورزی ہے جبکہ اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ ہی دومرتبہ محکمہ کو ترقی دینے کے احکامات جاری کرچکی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے لہذا سیکریٹری خزانہ سندھ اور محکمہ آبپاشی کے سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیا جائے۔ درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی۔ عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ اپ کریڈ کے لئے5 اکتوبر 2013 کو وزیر اعلیٰ نے 15 کروڑ 92 لاکھ مختص کیے جس پر عمل نہیں ہوا۔عدالت نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود آبپاشی اور خزانے سیکریٹری نہ تو پیش ہوتے ہیں اور نہ عمل کرتے ہیں۔ اگر 2 فروری تک ان ملازمین کو 1992 سے اپ گریڈ کر کے اگلی سماعت پر آبپاشی اور خزانے کے سیکریٹریوں نے ذاتی حیثیت میں رپورٹ پیش نہ کی تو ان کے خلاف توہین عدالت ہوگی۔آبپاشی اور خزانہ کے سیکریٹری عدالتی حکم ماننے کو تیار نہیں ، دیکھتے عدالتی حکم پہ عمل کیسے نہیں ہوتا ۔عدالت نے حکم دیا کہ کینال اسسٹنٹ 6 سے 14 اور آب دار وں کو 5 سے 11 گریڈ میں 1992 سے اپ گریڈ کیا جائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول