ٹانک ٹریفک پولیس میں جعلی چالان بکس کا انکشاف لاکھوں روپے ہڑپ

ٹانک ٹریفک پولیس میں جعلی چالان بکس کا انکشاف لاکھوں روپے ہڑپ

 ٹانک ( بیورورپورٹ) ٹریفک پولیس میں بوگس چلان بکس کا انکشاف رقم سرکار کے کھاتے میں جمع ہونے کی بجائے انچارج اور افسران کی جیبوں میں،نو عمر رکشہ ڈرائیوروں کو سپیشل رعایتی کارڈ کا اجراء، سیا سی اثررسوخ اور ٹریفک اصولوں سے ناواقف ، بھرتی ناتجربہ کار فوج ٹریفک پر قابو پانے میں ناکام تفصیلات کے مطابق ٹر یفک پولیس محکمہ پولیس کے اعلیٰ افسران اور منتخب سیاسی نمائندوں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بنا ہوا ہے،سیاسی نمائندوں کے سامنے ڈی پی او ٹانک بے بس نظر آتے ہیں،کیونکہ سیا سی نمائندوں کی جانب سے ٹریفک پولیس میں دلچسپی کے بعد ٹریفک پولیس کی نفری میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے لیکن یہ فو ج ٹریفک پر کنٹرول پانے میں بری طرح ناکام ہے، ٹر یفک پولیس کے پاس بوگس چلان بکس کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے، مختلف سٹرکوں پہ موجود ٹریفک اہلکار روزانہ گاڑیوں کو ہزار روپے سے زائد جبکہ رکشہ ڈرائیوروں کو600 روپے کا غیرقانونی پرچہ دیتے ہیں، رکشہ ڈرائیوروں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے پیٹ پالنے کے لئے سارادن مزدوری کرتے ہیں،جبکہ شام کوٹریفک پولیس انکو چھ سوروپے کا پرچہ دیکر نقد رقم وصول کرتے ہیں، ا ور انکو خالی ہاتھ گھروں کو لوٹنا پڑتا ہے ایک ٹریفک اہلکار کا کہنا تھا کہ ٹریفک انچارج نے نو عمر رکشہ ڈرائیوروں اور موٹر سائیکل سواروں کو سپیشل کارڈ جاری کر رکھیں ہیں، ان رکشہ ڈرائیوروں سے کاغذات کی معلومات اور ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی پر ٹریفک اہلکاروں کو پوچھ گچھ کی اجازت نہیں اگر غلطی سے ان سے معلومات کر لیں تو پھر دوسرے دن اس ٹریفک اہلکار کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر