گوادر مسقط کا حصہ تھا، پاکستان نے برطانیہ سے رابطہ کرکے خریدا: سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی

گوادر مسقط کا حصہ تھا، پاکستان نے برطانیہ سے رابطہ کرکے خریدا: سینئر صحافی ...
گوادر مسقط کا حصہ تھا، پاکستان نے برطانیہ سے رابطہ کرکے خریدا: سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے بتایاہے کہ ایران کی سرحد کیساتھ بحیرہ عرب کے جنوبی ساحل پر 45کلومیٹر دور گوادر بندرگاہ واقع ہے جو2400مربع میل پر واقع ہے اور یہ علاقہ ایک زمانے میں خان آف قلات کی آزاد ریاست تھی ، کئی صدیاں پہلے اس علاقے میں ایک مسقط کا شہزادہ آیاتھا جس نے 1781 ءمیں یہاں پناہ لی تھی ، قلات کے حکمران نے اس کے گزراوقات کیلئے یہ جزیرہ بخش دیا اور سالانہ آمد ن 84روپے تھی ۔

دنیا نیوز کے پروگرام ‘نقطہ نظر‘ میں گفتگوکرتے ہوئے مجیب الرحمان شامی نے بتایاہے کہ اس کے بعد وہ شہزادہ واپس چلاگیا اور مسقط کا حکمران بن گیا، گوادر مسقط کا حصہ بن گیااور گوادر میں مسقط کی حکمرانی قائم ہو   گئی ، قیام پاکستان کے وقت گوادر مسقط کا ہی حصہ تھا ۔ اس وقت پاکستان کے پاس  آپشن تھا  کہ بھارت کی طرح گوادر میں اپنی فوجیں داخل کردیتا لیکن پاکستان نے ایسانہیں کیا اور جب فیروز خان وزیراعظم بنے تواُنہوں نے اپنا مقدمہ تیار کیا اور برطانوی حکومت سے رابطہ کیاجس پر برطانوی حکومت نے سلطان مسقط سے بات چیت کی اور پھر رقم ادا کر کے  گوادر پاکستان کا حصہ بنا , اسے  حکومت پاکستان نے مسقط کے سلطان سے خرید لیا۔

اُنہوں نے بتایاکہ فیروز خان نے وعدہ کیاتھا کہ گوادر کی خریداری کاکوئی جشن نہیں منایاجائے گا تاکہ سلطان مسقط کے جذبات مجروح نہ ہوں ، آج بھی دیکھیں تو گوادر پاکستان کا حصہ ہے اور وفاقی حکومت نے اس کی ادائیگی کی تھی ۔ 1957ءمیں مغربی پاکستان پورا ایک صوبہ تھا اور گوادر بھی اسی صوبے کا حصہ ہوگیا۔ جب یحییٰ خان کی حکومت آئی اور اس وقت  یونٹ کو توڑا گیا، مغربی پاکستان کو توڑاگیاتو بلوچستان کا صوبہ وجود میں آیا۔ اس سے پہلے تاریخ میں بلوچستان نام کا کوئی صوبہ موجود نہیں تھا۔ قلات کی ریاست تھی ، اور  بلوچستان کا علاقہ تھاجہاں برطانوی حکومت براہ راست تھی ، اور پھر خاران کی مکران کی اور لسبیلہ کی ریاستیں تھیں ،ریاست قلات کوسمندرکا ساحل نہیں لگتا ۔خریداری کے بعدبلوچستان کے ساتھ انتظامی طور پر منسلک کردیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس لہجے میں بات کریں جو لہجہ سردار اختر مینگل اور دیگر نے اپنا رکھا ہے.

مزید : لاہور