انسانی خون پینے کی شوقین خاتون ہر ہفتے کس کے جسم سے خون چوستی ہے؟ جان کر کوئی بھی پریشان ہوجائے

انسانی خون پینے کی شوقین خاتون ہر ہفتے کس کے جسم سے خون چوستی ہے؟ جان کر کوئی ...
انسانی خون پینے کی شوقین خاتون ہر ہفتے کس کے جسم سے خون چوستی ہے؟ جان کر کوئی بھی پریشان ہوجائے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سڈنی (نیوز ڈیسک) انسانوں کا خون پینے والے ڈریکولا کا ذکر عموماً ڈراؤنی فلموں اور کہانیوں میں ہی ملتا تھا، مگر آسٹریلیا میں ایک حقیقی ڈریکولا کا انکشاف ہوا ہے جو کہ بچپن سے ہی خون پینے کی عادت میں مبتلا ہے۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ کے مطابق برسبین شہر سے تعلق رکھنے والی38 سالہ خاتون جارجینا کونڈن ایک حقیقی ڈریکولا ہے جو کہ ہر ہفتے اپنے بوائے فرینڈ کا خون چوستی ہے۔ جارجینا کا کہنا ہے کہ جب وہ 12 سال کی تھی تو پہلی دفعہ اسے احساس ہوا کہ اسے خون پینے کی طلب محسوس ہوتی ہے۔ شروع شروع میں وہ اپنے جسم پر ہی زخم لگا کر خون پیا کرتی تھی اور پھر جب وہ 17 سال کی تھی تو ایک سہیلی کے ساتھ خون پینے پلانے کا تعلق استوار کر لیا۔ جارجینا کہتی ہے کہ اس کی سہیلی اس کا خون پینا پسند کرتی تھی اور وہ خود بھی اس عمل سے بہت لطف اندوز ہوتی تھی۔

مزید جانئے: دنیا کا وہ قبیلہ جس کی غذاء انسانی فضلہ اور مردہ انسانوں کا گوشت ہے

اب جارجینا کو زمائل نامی شخص سے محبت ہوچکی ہے اور وہ ہر ہفتے اس کے جسم پر زخم لگا کر اس کا خون پیتی ہے۔ جارجینا کا کہنا ہے کہ وہ خون کے ذائقے کی دیوانی ہے اور اسے پی کر جسم میں ایسی توانائی اور سرور محسوس کرتی ہے کہ جسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔

دوسری جانب اس کا بوائے فرینڈ زمائل ناصرف خوشی سے اسے اپنا خون پلاتا ہے بلکہ اگر وہ کسی اور کا خون پینے کی طرف مائل ہو تو ناراض بھی ہوتا ہے۔ جارجینا کا کہنا ہے کہ زمائل اسے بے وفائی شمار کرتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ وہ صرف اسی کا خون پیئے۔

مزید جانئے: وہ انوکھا قبیلہ جہاں شوہر کی موت پر بیگم کے اعضاء کاٹ دیے جاتے ہیں

مزید : ڈیلی بائیٹس