’’شرارتی مُنڈے‘‘ کی باتیں

’’شرارتی مُنڈے‘‘ کی باتیں
 ’’شرارتی مُنڈے‘‘ کی باتیں

  



لیجئے صاحب! اپنے نعیم بخاری بھی دامن چھڑانے کے ماہر نکلے انہوں نے اپنی ہنسی کی پھلجھڑیوں کے درمیان بڑے ہی گیانی انداز میں کہہ دیا ’’وکیل کبھی نہیں ہارتا، اگر ہارتا ہے تو ہمیشہ موکل ہارتا ہے‘‘۔ان کا یہ جملہ سنتے ہی ہمیں ایک بار تو بلوچستان کے شہرت یافتہ وزیر اعلیٰ یاد آگئے جنہوں نے مشہور زمانہ حقِ فلسفہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا نقلی !نعیم بخاری سینئر وکلاء میں شامل ہیں، ویسے ان کی شہرت کئی پہلوؤں سے انہیں منفرد شخصیت بناتی ہے کہ وہ صرف سینئر وکیل ہی نہیں، کامیاب ٹی وی پروگراموں کے میزبان، کامیاب اداکار،اینکر اور ہنس مکھ ’’نوجوان‘‘ شعبدہ باز کے علاوہ خوبصورت جملہ باز بلکہ جملہ ساز بھی ہیں۔ انہیں برصغیر کی نامور اور منفرد گلوکارہ ملکہ پکھراج کا داماد ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے، چند سال پہلے تک لوگ رشک کیا کرتے تھے کہ وہ طاہرہ سید کے شوہر ہیں(نعیم بخاری اور طاہرہ سید میں باہمی رضا مندی اور احترام کے ساتھ طلاق ہو چکی ہے) ایک عرصے سے نعیم بخاری وقت نکال کر لأ کالجوں میں پڑھا بھی رہے ہیں۔ ان تمام خوبیوں اور شہرت کے سنگ میل میں وہ بطور سینئر وکیل نمایاں ہیں۔اہم ترین خوبی کے حوالے سے جب ان کے اس جملے پر غور کیا جاتا ہے کہ وکیل نہیں، موکل ہارتا ہے، تو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے۔ خوش مزاج لوگ غیر سنجیدہ موڈ میں ایسی باتیں ہی کیا کرتے ہیں۔ نعیم بخاری عمر، شہرت اور تجربے کے حوالے سے جتنے بھی بزرگ ہو جائیں ان کا سراپا اور الہڑ پن انہیں ’’منڈا‘‘ ہی بنائے رکھتا ہے۔ شاید اسی لئے ان کا مقدمہ ہارنے کے بارے میں بے ساختہ جملہ سننے کے بعد ہمارے علاوہ بہت سے لوگوں نے بے ساختہ کہا ’’لوکو وے لوکو اس منڈے نوں روکو!‘‘ یہ شرارتی منڈا ہنسی مخول میں یہ بات کہہ گیا، ہم تو اپنی ہوش سنبھالنے کے بعد ہر وکیل سے یہی سنتے چلے آرہے ہیں کہ مقدمے کا فیصلہ وکیل کی تجربہ کاری،ساکھ اور شہرت پراثر انداز ہوتا ہے۔ جو وکیل اس کی پروا نہیں کرتا،وہ بالآخر ’’متاثر‘‘ ضرور ہوتا ہے۔ بہر حال، بعض معاملات میں یہ کہنا پڑتا ہے۔۔۔ جی ہاں، نیا دور، نئے تقاضے اور نئے نعرے! ایسے وکلاء کی آج بھی کمی نہیں، جو موکل کے مقدمے کو اپنا مقدمہ سمجھ کر عدالت میں دلائل دیتے ہیں اور فیصلے کو اپنی جیت اور ہار قرار دے کر نتائج اخذ کرتے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ پیشہ ورانہ اصولوں اور روایات میں ’’اخلاقیات‘‘ کو اہمیت اور ترجیح دینے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ہار، جب بھی گلے کا ہار بنتی ہے تو ایک مرتبہ ہار کو گلے لگانے والا سوچتا ضرور ہے کہ اس نے اپنے حصے کا کام پوری دیانتداری محنت اور ذمہ داری سے کیا تھا یا نہیں۔اسی لئے وہ لوگ سرخرو ہوتے ہیں(ہارنے کے بعد بھی) جو اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑتے۔ ضروری نہیں کہ جس جج نے فیصلہ کیا، اس کا فیصلہ سو فیصد درست ہو۔ جج صاحبان بھی تو آخر انسان ہی ہوتے ہیں۔ یہی بات دل کو صحیح لگتی ہے کہ ہار ہو یا جیت، فیصلہ وکیل کا صلہ ہوتا ہے، کیونکہ مؤکل تو فیس اور مقدمے کی فائل وکیل کے حوالے کر کے اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ سینئر تجربہ کار اور احساس ذمہ داری رکھنے والے وکیل یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ مقدمہ لیتے ہوئے معاملہ فیس کے حساب سے بہت کم اور میرٹ کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ جس طرح سدا بہار کنوارے اور جوشیلے سیاستدان شیخ رشید نے کہہ دیا کہ نعیم بخاری کوتو قانون کا کچھ پتہ نہیں، خوامخوا، کیس کو لمبا کئے جارہے ہیں! اسی طرح نعیم بخاری نے بھی ہنسی مذاق اور رواروی میں کہہ دیا کہ وکیل نہیں مؤکل ہارتا ہے! شیخ رشید کی ’’رائے‘‘ پر تو یار لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ یہ کسی بے فکرے اور بے قاعدہ ’’وکیل‘‘ کی رائے ہی ہو سکتی ہے، نعیم بخاری بہر حال ٹھیک ٹھاک وکیل ہیں اور عمران خان کے مہیا کردہ’’ثبوتوں‘‘ کی بنیاد پر اپنے طور پر مقدمہ ٹھیک ٹھاک طریقے سے لڑ رہے ہیں۔ صحافی دوستوں نے نعیم بخاری سے پوچھا تھا کہ آپ پاناما کیس سے تنگ آکر ایسی باتیں کررہے ہیں؟ تو نعیم بخاری نے جواب میں واضح کیا تھا( ہنستے ہنستے) ’’یارو! میں تنگ نہیں، بس ذرا تھکا ہوا ہوں‘‘۔ان کے اسی جواب میں ان کے جملہ معترضہ کا سارا مطلب اور مفہوم موجود ہے۔ لہٰذا اِدھر اُدھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔

بات ہو رہی تھی نعیم بخاری کے ’’شرارتی منڈا‘‘ ہونے کی اور موضوع بیحد سنجیدہ ہو گیا۔ یہ شرارتی منڈا اس قدر ہنس مکھ اور بات بات پر قہقہے لگانے والا ہے کہ کبھی خاموش اور اداس دکھائی نہیں دیا حالانکہ دوسرے لوگوں کی طرح یہ شخص بھی کبھی نہ کبھی تو اداس ہوتا ہی ہوگا۔ حیرت ہوتی ہے کہ نعیم بخاری المیہ لمحات میں خود پر کیسے قابو پاتے ہوں گے۔ ان کی زندگی میں وہ لمحات بھی آئے کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں جھوٹی ثابت ہوگئیں۔ ان کی شریک حیات جو یہ کہا کرتی تھیں۔۔۔ یہ محفل جو آج سجی ہے اس محفل میں ہے کوئی ہم سا، ہم سا ہے تو سامنے آئے! اس طاہرہ سید نے راہیں جدا کر لیں، وہ لمحات یقیناًانتہائی مشکل اور کٹھن تھے۔ ہم تصور ہی کر سکتے ہیں کہ نعیم بخاری نے ہنستے ہنستے باہمی رضا مندی سے الگ ہونے پر آمادگی ظاہر کی ہوگی تو مسکراہٹ چہرے پر موجودہونے کے باوجود ان کی روح نے شدید زخمی ہو کر ضبط کے بندھن توڑ دیئے ہوں گے لیکن نعیم بخاری۔۔۔ ہنستے مسکراتے اس فیصلے پر قائم رہتے ہوئے۔ احمد فراز کے درج ذیل شعر کی عملی صورت بن گئے ہوں گے۔

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز

ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

دل پر قیامت ٹوٹنے اور روح کے زخمی ہو جانے کے حوالے سے بہت کچھ کہا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ بھی ہوتی ہے۔

وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے

رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے

لیکن ہنستے مسکراتے اور جملے بازی کرتے ہوئے نعیم بخاری نے ہرگز ہمت نہیں ہاری ہوگی بلکہ اپنے فن اداکاری سے اپنے اندر کی کیفیت ظاہر نہیں ہونے دی ہوگی۔شاید ایسے ہی کسی شخص کے بارے میں منیر نیازی نے کہا تھا۔

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو مَیں بھی منیر

غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں

اپنے دکھ اور غم پر قابو پاتے ہوئے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح نعیم بخاری بھی ضبط کی راہوں سے گزرتے رہتے ہوں گے، ان کی آنکھوں کے کونے نمی سے بھیگ جاتے ہوں گے، لیکن غضب کی اداکاری کرتے ہوئے وہ خود کو نارمل ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہوں گے۔ ہمارا خیال ہے، ان کے باکمال اور سدابہار ہنستے مسکراتے رہنے کی عادت نے نامور گلوکارہ ملکہ پکھراج کوبھی متاثر کیا ہوگا اور اسی وجہ سے انہوں نے نعیم بخاری کے لئے اپنی بیٹی طاہرہ سید کا رشتہ منظور کیا ہوگا۔فنکار لوگ ایسی ہی اداؤں پر ’’ہاں‘‘ کر دیا کرتے ہیں ۔ اور یہ بات کسی اور سیانے اور ہمدرد نے چاہے نہ بتائی ہو، طاہرہ سید کے والد شاہ جی نے گھر کا بھیدی ہونے کے ناتے نعیم بخاری کو ضرور بتائی ہوگی کہ شاہ جی خود اس شرارتی منڈے نعیم بخاری کی ہنسی مذاق والی طبیعت کو پسند کرتے ہوں گے۔ گزشتہ سال ہماری ملاقات نعیم بخاری سے اتفاقاً لاہور ہائیکورٹ کے مال روڈ والے گیٹ پر ہوگئی تھی۔ مسلم لیگ کے پرانے اور سو دن والے (نواں 9دن اور پرانا 100دن) نعیم چٹھہ اپنے دوستوں کے ہمراہ گیٹ کے باہر میڈیا کانفرنس کے لئے موجود تھے۔ اس کی کوریج کے لئے الیکٹرانک میڈیا سے عرفان اور پرنٹ میڈیا سے صرف ہم وہاں پہنچے تھے ۔دراصل نعیم چٹھہ جس خلوص اور محبت کا اظہار کرتے ہیں، ان کی فرمائش کو ہم اپنے لئے بزرگوں کا حکم سمجھ کر حاضری ضرور دیتے ہیں۔ موسم گرما رخصت ہو چکا تھا، لیکن دوپہر کا سورج تمازت لئے ہوئے تھا۔عرفان اور ہماری موجودگی کو نعیم چٹھہ اور ان کے ساتھیوں نے پُرہجوم میڈیاکانفرنس قرار دیتے ہوئے گفتگو کا آغاز کیا تو ہم نے دیکھا کہ بائیں جانب گیٹ سے نعیم بخاری باہر نکل رہے تھے۔ آنکھیں چار ہوئیں تو ہم نے ہاتھ کے ہلکے سے اشارے سے ’’سلاما لیکم‘‘ کہہ دیا۔ وہ سیدھے ہماری طرف ہی آ گئے۔ ایہہ پریس کانفرنس ہو رہی اے۔۔۔ کیاپُرہجوم پریس کانفرنس اے(ہنستے ہوئے) مینوں وی میڈیا دا نمائندہ سمجھو۔ چٹھہ صاب میڈیا والے دوستاں دا کج ہور انتظار کر لو۔ یہ سن کر نعیم چٹھہ اس شرارتی منڈے کی طرف متوجہ ہو گئے اور پھر نعیم بخاری کی طرف ہاتھ بڑھا کر بولے۔ تسیں ساڈے نال آ کے بیٹھو، انسانی حقوق دے تحفظ دی گل ہو رہی اے، آ جاؤ۔۔۔ یہ سن کر نعیم بخاری نے میڈیا کانفرنس کی کسمپرسی کو نظر انداز کرتے ہوئے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور کہا’’ اسے کہتے ہیں، نعیم کو بلائے نعیم، کرلمبے ہاتھ!‘‘ یہ سن کر سبھی ہنس پڑے۔ نعیم بخاری نے کہا ’’سر! انسانی حقوق کے تحفظ کے معاملے پر میں آپ کے ساتھ ہوں، لیکن مجھے میڈیا والوں کے ساتھ کھڑا رہنے دیں۔۔۔‘‘ (ہنستے ہوئے) ویسے مَیں نے اگلے ایک منٹ کے بعد یہاں سے رفوچکر ہو جانا ہے۔ کیونکہ مجھے ایک اور جگہ بہت ضروری پہنچنا ہے۔ پھر واقعی ایک منٹ بعد ’’بائی بائی، ٹاٹا‘‘کرتے ہوئے وہ وہاں سے چلے گئے۔ چلتے چلتے ہم نے انہیں چھیڑا۔۔۔ چھوٹے شاہ جی! آپ اب بڑے ہو گئے ہیں، شرارتیں کرنا چھوڑ دیں! یہ سن کر انہوں نے قہقہہ لگایا اور بولے۔ کاش! کوئی یہ فیصلہ کرے کہ اس وقت شرارت آپ کر رہے ہیں یا مَیں کر رہاہوں!!

جہاں تک نعیم بخاری کے اس جملے کی بات ہے کہ وکیل نہیں، مؤکل ہارتا ہے‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ طبیعت کے خاص رنگ میں نعیم بخاری نے یہ کہا ہو گا۔ وہ بہت ذمہ دار اور حساس شخصیت کے مالک ہیں۔ کئی سال تک وہ جناب ایس ایم ظفر کی صحبت میں بھی رہے ہیں۔ قانون کو سمجھنے کے لئے ظفر صاحب سے رہنمائی حاصل کرتے رہے ہیں، وہ وکالت میں مقدمے کی ہار اور جیت کے معاملے میں بھی بہت ذمہ دار اور حساس رائے رکھتے ہیں۔ اس روز روا روی اور تھکن سے چور ہونے کی وجہ سے یہ جملہ انہوں نے کہہ دیا ہو گا۔ آنے والے دنوں میں جب انہیں موقع ملے گا تو وہ اپنے اس تاریخی جملے کے حوالے سے اپنا اصل مطلب ضرورواضح کریں گے۔ غالباً وہ اس بات پر زور دینا چاہتے تھے کہ وکیل ہمیشہ مقدمہ لڑتا رہتا ہے، فیصلہ کچھ ہو، وہ ہمت نہیں ہارتا۔ البتہ مؤکل ہمت ہارتا رہتا ہے! بات اگر اب بھی سمجھ نہ آئی ہو تو یہ سمجھیں کہ نعیم بخاری نے یہ جملہ صرف اور صرف اپنا دامن چھڑانے کے لئے کہا تھا اور بس!

مزید : کالم