بچپن میں خواجہ سراﺅں والی حرکات کی وجہ سے خاندان نے گھرسے نکال دیا ، دین کی طرف رغبت کے بعد قبول کرلیا:محمد شہباز

بچپن میں خواجہ سراﺅں والی حرکات کی وجہ سے خاندان نے گھرسے نکال دیا ، دین کی ...
بچپن میں خواجہ سراﺅں والی حرکات کی وجہ سے خاندان نے گھرسے نکال دیا ، دین کی طرف رغبت کے بعد قبول کرلیا:محمد شہباز

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایشیائی معاشرے میں خواجہ سراﺅں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے اور اسی وجہ سے عمومی طورپر اہلخانہ بھی ایسے بچوں کو بے دخل کردیتے ہیں اور وہ اپنے ’گرو‘ کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں لیکن دین کی طرف رغبت اور خواجہ سراؤ ں کی سوسائٹی سے کنارہ کشی کرنیوالے محمد شہبازنے بتایاکہ اللہ سے رجوع کیاتوفیملی نے بھی گلے لگالیااور اللہ نے ہی ان کے دل میں رحم ڈالا۔

روزنامہ پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہبازنے بتایاکہ اس نے 16سال خواجہ سراﺅں کیساتھ ضائع کیے اور اس شعبے میں نام سمرن تھا لیکن اب اڑھائی سال سے محمد شہباز نام ہے اور پانچ وقت کا نمازی ہوں جس سے دل کو بھی سکون ملتاہے ۔ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایاکہ خواجہ سراﺅں کیساتھ لوگ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ، اہلخانہ اور محلے دار پسند نہیں کرتے تھے ، گھر میں آنا جانا نہیں تھا کیونکہ ان لوگوں کا خیال ہے کہ عزت میں فرق پڑتا تھا لیکن ہمارا مزاج اور دل بھی ان سے ملاقات کا خواہاں رہنا قدرتی امر تھالیکن جب سے سنت رسول رکھی اور اللہ سے رجوع کیاتو فیملی نے بھی گلے سے لگالیا،یہ سب دین ہی کی وجہ سے ہے کہ آج ہمیں دنیا دیکھ رہی ہے ، اس سے پہلے تو صرف ہمارے گروہ اور ساتھی چیلے ہی آیا جایاکرتے تھے ، ابوہریرہ ہی ہمارے پاس آیا کرتے تھے اور وہی ہمارے امیر بھی ہیں ۔

پاکستان میں اس وقت کل کتنے خواجہ سراءتبلیغی مشن پر ہیں اور مزید بہت کچھ جاننے کیلئے ویڈیو دیکھئے ۔

مزید :

لاہور -