ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکہ نے ناقابل یقین کام کرنے کا فیصلہ کرلیا، اب ہتھیار بھی کھیتوں میں ’اُگائے‘ جائیں گے، لیکن کیوں اور کیسے؟ ایسی خبر آگئی کہ انسانی عقل حیران رہ جائے

ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکہ نے ناقابل یقین کام کرنے کا فیصلہ کرلیا، اب ہتھیار ...
ہتھیاروں کی دوڑ میں امریکہ نے ناقابل یقین کام کرنے کا فیصلہ کرلیا، اب ہتھیار بھی کھیتوں میں ’اُگائے‘ جائیں گے، لیکن کیوں اور کیسے؟ ایسی خبر آگئی کہ انسانی عقل حیران رہ جائے

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)دنیا میں سب سے زیادہ ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے والا ملک امریکا اب اپنے ہتھیاروں کی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں سوچ کر پریشان ہونے لگا ہے۔ اس کے دفاعی ماہرین سوچ رہے ہیں کہ کیوں نہ ایسی گولیاں تیار کی جائیں جو قدرتی نباتات سے تیار ہوں اور استعمال کے بعد زمین میں بآسانی گل سڑ کر کھاد کا کام بھی دیں۔

اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے سائنسدانوں کے سامنے یہ مسئلہ رکھا گیا کہ گزشتہ ایک صدی سے زیر استعمال دھات کی گولیاں نہ صرف بہت مہنگی پڑرہی ہیں بلکہ ماحول کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔ یہ گولیاں زمین میں دب جانے کے بعد سینکڑوں سالوں میں زنگ آلود ہو کر ختم ہوتی ہیں اور مٹی وپانی کے لئے آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔ فوجی اپنی تربیت کے دوران ہزاروں لاکھوں گولیاں چلاتے ہیں اور یوں یہ مسئلہ تشویشناک صورت اختیار کرتاجارہا ہے۔

2016ء‘ تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت میں پاکستان پہلے نمبر پر رہا: ریسرچ مارکیٹ کی رپورٹ

ان مسائل کے حل کے لئے امریکی محکمہ دفاع کے سائنسدانوں نے ایسی گولیاں بنانے کے لئے تحقیقاتی کام کا آغاز کیا کہ جو دیگر نامیاتی مادوں کی طرح زمین میں مل کر جلد ہی تحلیل ہونا شروع ہوجائیں۔ ان تجربات کے دوران گولیاں بنانے کے لئے بانس کی لکڑی کے استعمال کی کوشش کی جاچکی ہے، جبکہ گولیوں کے اندر بائیوانجینئرنگ تکنیک سے تیار کردہ ایسے بیج بھی ڈالے گئے ہیں جو کہ زمین میں منتقل ہونے کے کئی ماہ بعد اگنے شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام منصوبے ابھی تجرباتی مراحل میں ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ان منصوبوں پر کام کرنے والے سائنسدانوں کو 8فروری تک اپنی حتمی تجاویز سامنے لانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -