آنے والے انتخابات کا انتظار

آنے والے انتخابات کا انتظار
 آنے والے انتخابات کا انتظار

  

کیا میاں محمد نوازشریف کا سیاسی کیرئیر اختتام پذیر ہو چکا؟ کیا عالمی، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ انہیں مزدوروں، محنت کشوں کے دلوں سے نکالنے میں کامیاب رہی؟ منتخب لیڈر شپ کو بھولی بسری یاد بنانے کا منصوبہ کہاں تشکیل پایا؟

حالات و واقعات میں تسلسل محض اتفاقات کا مجموعہ تھا یا کسی منظم تک بندی کا نتیجہ۔ لیلائے دلربا کو گمنامی کی دیوار میں چنوانے کی شروعات کہاں سے ہوئیں اور اختتام کہاں پر ہوگا؟

ویل۔۔۔چلتے ہیں ذرا 9/11 کے بعد والے امریکہ کی طرف۔ دہشت اور نامعلوم مستقبل کے سائے پوری دنیا پر منڈلا رہے تھے۔ انتقام میں لتھڑی امریکن اسٹیبلشمنٹ، نئی دنیا ڈیزائن کرنے کے متمنی سفید فام اتحادی، خوف سے دبکے اسلامی ممالک اور خاموشی کا لبادہ اوڑھے افریقین بلاک۔

ٹوئن ٹاورز زمین بوسی کی تحقیقات دنوں میں مکمل ہوئیں۔ جارج ڈبلیو بش نے ’’ساتھ دو یا بھگتو‘‘ کی شرط فلوٹ کی، محض چند گھنٹوں بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ’’مشروط‘‘ ساتھ دینے کی حامی بھر کر ایسا فیصلہ کر ڈالا جس کے بھیانک نتائج سولہ سال بعد پوری بدصورتیوں کی صورت سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں۔

آج ۔۔۔آج دو ہزار اٹھارہ میں موجودہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اقرار کر رہی ہے اس غلطی کا جس نے تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں پاکستان کو زوال کی جانب دھکیلا، آنے والی نسلوں کا سودا کرتے ہوئے زمینی، فضائی، بحری راستے امریکہ، اتحادیوں کے سپرد کر دیے گئے۔

ان راستوں کو امریکن کنٹینروں نے نہ صرف مفت میں روندا بلکہ گوٹھوں، قصبوں میں غربت کے بیج بھی بکھیرتے چلے گئے، ان فضاؤں کو اتحادی طیاروں نے نہ صرف چیرا بلکہ خوف کی قوس قزح بھی بناتے چلے گئے، ان پانیوں کو وار شپس نے نہ صرف آلودہ کیا، بلکہ معاشی ترقی کو تباہ کرتے تارپیڈو بھی چھوڑتے چلے گئے۔

ذرا اور آگے بڑھیں۔ مشرف اسٹیبلشمنٹ نے عالمی تجارت میں سکڑتے پاکستانی منافعے کو مزید داؤ پر لگاتے ہوئے پوری قوتوں سے امریکنوں کا ساتھ دیا۔ جوابا ان اہم مہروں پر ڈالروں، پاؤنڈوں کی بارش کر دی گئی۔ آج عوام اینٹیں اٹھائے اس پیپلز پارٹی کو ڈھونڈتے ہیں جس نے پاکستان کو بجلی بحران میں دھکیلا۔

آج عوام جھولیاں پھیلائے اس موجودہ حکومت کو بد دعائیں دیتے ہیں جس نے بجلی کے بلوں میں ہوش ربا اضافہ کیا۔۔۔یہی وہ غلطی تھی موجودہ اور سابقہ جمہوری حکومتوں کی جو عوام کو یہ تک باور نہیں کرواسکیں پاکستانی سماج کو بجلی، گیس، انڈسٹری بندش جیسے عذابوں میں دھکیلنے کی ذمہ دار صرف مشرف حکومت تھی۔

آج بے روزگاری کے تھپیڑے کھاتا پاکستانی مزدور حیران ہے فیکٹریاں کیوں بند ہو رہی ہیں؟ آج انجینئر، سپروائزر، پلے دار پریشان ہیں مالکان ملوں پر تالے لگائے کن نامعلوم دیسوں کو سدھار چکے ہیں؟

کسی جمہوری حکومت نے انہیں باور نہیں کروایا یہ تالہ بندیاں اس رقص دیوانگی کا نتیجہ ہیں جو امریکنوں کے دربار میں پیش کیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی بننے کا ردعمل آنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگا۔

بڑے قلیل عرصے میں جنگجو، پاکستانی شہروں میں گھس آئے، اسلام آباد پر قبضے کی باتیں ہونے لگیں، اغواء برائے تاوان باقاعدہ کاروبار بن گیا، ان حالات میں کون بیوقوف سرمایہ دار تھا جو انڈسٹریل پروڈکشن کو ترجیح اول بناتا۔

آج لگ بھگ ہر شہر میں انڈسٹری دم توڑ چکی ہے۔ ٹیکسوں کے بوجھ اور غیر ذمہ دارانہ عادتوں کی مالک لیبر سے گھبرا کر بڑے سرمایہ دار چائنہ، دبئی جاچکے ہیں۔ ہے کسی میں ہمت جو مشرف دور کے ان پالیسی میکروں کو سپریم کورٹ لے جا سکیں جنہوں نے معیشت کو انڈسٹری کی بجائے ٹریڈنگ کی طرف راغب کیا۔۔۔لیکن نہ تو پیپلز پارٹی اور نہ ہی موجودہ حکومت نے ایسا کیا۔

الٹا موجودہ حکومت نے عوام کو اعتماد میں لینے کی بجائے فرینڈز آف پاکستان کی طرف سے پھینکے گئے قرضے کے جال کو بخوشی گردن کے گرد لپیٹا ،جب آنکھیں باہر ابل پڑیں تو آئی ایم ایف کی طرف دوڑ لگانی پڑی۔

اگر وزیراعظم پہلی تقریر میں عوام کو مشرف دور کے بدترین اقتصادی فیصلوں کے بارے بتلاتے تو آج ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا فقرہ فضاؤں میں نہ اچھالنا پڑتا۔

مشرف نے سماج کو طویل غربت میں دھکیلا اور یہ جرم اس قدر قابل نفرت ہے جس کی نظیر ملنا مشکل۔

ذرا اور آگے بڑھیں۔ یہاں آغاز ہوتا ہے اس عالمگیر ایجنڈے کا جس کا مقصد تیسری دنیا کی مقبول قیادتوں کو کھڈے لائن لگانا تھا۔ امریکہ، یورپ کی ترقی مسلسل زوال پذیر تھی۔ کاسمیٹکس، گارمنٹس، الیکٹرونکس، ادویات اور ہیوی انڈسٹری سمیت اربوں ڈالرز کا منافع کمانے والی امریکن و یورپین کمپنیوں کی فروخت مسلسل گر رہی تھی۔ مغرب میں یہ سوچ عام ہو رہی تھی تیسری دنیا کی صورت موجود اربوں انسانوں پر مشتمل مارکیٹ کی قوت خرید میں کمی کی وجہ بڑھتی ہوئی غربت ہے، اور غربت کی وجوہات کا بنیادی عنصر بدعنوان حکمران ہیں۔ ان حکمرانوں نے تیسری دنیا کے شہریوں کو اس قابل چھوڑا ہی نہیں وہ امریکن و یورپین مصنوعات استعمال کر سکیں، الٹا تیسری دنیا سے پہلی کی طرف ہجرت کا سفر تیز سے تیز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

غربت کے ستائے لوگ جان پر کھیلتے، زمینی، سمندری راستوں کے ذریعے امریکہ، یورپ، آسٹریلیا پہنچنا چاہتے ہیں۔ اتنی بڑی ہجرت نہ صرف امیر ممالک کو لے ڈوبے گی بلکہ مذہبی ونسلی بنیادوں پر ایسے فسادات شروع ہو جائیں گے جن کا اختتام تباہی کی صورت نمودار ہوگا۔

عالمی اسٹیبلشمنٹ نے اس پیغام کو عرب، افریقہ اور ایشیاء کی اسٹیبلشمنٹوں تک پہنچایا۔ طے یہ ہوا جو لیڈر مان جائے آسانی سے جانے دیا جائے، جو چوں چراں کرے بذریعہ میڈیا اینٹی سٹیٹ عنصر کے طور پیش کیا جائے اور جو زیادہ ضد کرے اسے اگلے جہاں پہنچا دیا جائے۔ سعودی عرب میں شروع ہونے والی پکڑ دھکڑ،بے نظیر بھٹو کا قتل، آصف علی زرداری کے خلاف ذوالفقار مرزا کا واویلا۔۔۔

محترمہ کے بعد منصوبے کے تحت اقتدار آصف علی زرداری کے حوالے کیا گیا۔ کچھ کر گذرنے کی آس پرزرداری صاحب خراماں خراماں، مشکلات کے اس شعلوں میں لپٹے مشرفی تخت پر بیٹھے، جس کی آگ کا رنگ کالا پڑ چکا تھا۔

اسٹیبلشمنٹ نے معاشرے میں موجود اپنے تمام کل پرزے زرداری صاحب کی کردار کشی پر لگا دیے، اوپر سے مشرف حکومت کی کنزیومر مارکیٹ پالیسیوں کی بدولت تیزی سے نمودار ہوتی غربت، سولہ سولہ گھنٹے لوڈشیڈنگ، آدھا دن گیس غائب اور تحلیل ہوتی صنعتیں۔۔۔بہت ہی قلیل عرصے میں پیپلز پارٹی کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ آصف علی زرداری ’’مفاہمت‘‘ کی سیاست میں اتنے تابعدار بن گئے ناکردہ گناہوں کا بوجھ بھی کندھوں پر لاد لیا۔

لگ بھگ ایک دہائی تک ملک کا بیڑہ غرق کرکے کونوں کھدروں میں دبکی اسٹیبلشمنٹ نے دوبارہ پر پرزے نکالنا شروع کر دیے اور انتہائی مہارت سے مشرف دور کی بھیانک کوتاہیوں کا ملبہ پیپلز پارٹی پر ڈال دیا ۔

یوں اسٹیبلشمنٹ نے ایک مرتبہ پھر کروڑوں پاکستانیوں کو نئے مشن پر لگا دیا، وہ مشن تھا پیپلز پارٹی کے مرکز میں ہونے تک ملک تباہ ہونے کا پروپیگنڈہ اور بہتری تبھی ممکن جب آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی پاتال کی گہرائیوں میں دفن ہو جائے۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے پیپلز پارٹی کے ہر اہم منصوبے پر سوموٹو لیا، میڈیا چینلز اور اخبار نویسوں نے ’’عجب کرپشن غضب کہانی‘‘ نامی باقاعدہ ڈرامہ سیریل شروع کردی۔ نتیجہ عین توقعات کے مطابق نکلا۔ پیپلز پارٹی پنجاب سے آؤٹ اور سندھ میں گوٹھوں تک محدود کرنے کے لئے آنے والے سالوں تک اسٹیبلشمنٹ بیک فٹ پر۔

دو ہزار تیرہ کے انتخابات ہوئے۔ اقتدار پوری رعنائیوں سے مسلم لیگ ن کے سپر د ہوا۔ اب مرحلہ تھا میاں محمد نواز شریف سے جان چھڑوانے کا۔ الیکشن کے تین ماہ بعد پہلا مہرہ شیخ رشید کی صورت چینلوں پر نمودار ہوا۔

دھاندلی کی آڑ میں دھرنوں کی صورت عوامی بیداری مہم کا آغاز کیا گیا۔ دھرنا قائدین نے آئینی شقوں میں موجود عام آدمی کے حقوق کی تشریحات شروع کر دیں۔

پاکستانی جمہوریت کو حقیقی ڈیموکریسی کا دشمن قرار دیا گیا۔ آزاد عدلیہ، خودمختار ادارے اور شخصی آزادی پر مبنی نئے سوشل آرڈر کی باتیں عام ہوئیں۔ لوگوں کو بتایا گیا میاں محمد نواز شریف ملک دشمن طاقتوں کے آلہ کار، کشمیر پالیسی پر بھارتی نقطہ نظر کے حامی، سرحدوں کو لکیر قرار دیتے، ڈان لیکس کی صورت فوج کو بدنام کرواتے اور مودی کی تاجپوشی میں ’’بلا اجازت‘‘ شرکت کرتے ہیں۔ وہ نریندرمودی کو لاہور شادی میں بلا کر کروڑوں پاکستانیوں کا دل توڑتے اور جندال سے مری ملاقات میں اپنے تجارتی فوائد کے منصوبے بناتے ہیں۔

اب گیم پوری طرح تیار تھی اور پانامہ سکینڈل کی صورت اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ نیا ایشو بھی آچکا تھا۔ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ نااہلی اقامہ پر ہوئی۔ عالمی و ملکی اسٹیبلشمنٹ کامیاب رہی۔ بے نظیر بھٹو شہید، میاں محمد نواز شریف کو سیاست سے آؤٹ کرنے کی صورت عمران خان کو نئے پاکستان کی تشکیل کی خاطر مزید ’’ٹاسک سونپ‘‘ دیے گئے۔۔۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے میاں محمد نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول کیوں نہیں تھے؟اسٹیبلشمنٹ ایسا کیا چاہتی تھی جو کیا نہ جا سکا؟ ویل۔۔۔ملین ڈالر کا سوال۔۔۔ میاں محمد نواز شریف ان غیر حقیقی توقعات کو پورا کرنے سے انکاری تھے جو گذشتہ چھ دہائیوں کی غلطیوں کا نتیجہ تھیں۔

اسٹیبلشمنٹ معاشرے کو’’خوف کے اس کلچر‘‘ سے نجات دلوانے کی خواہشمند تھی جو سول اداروں کے ذریعے گذشتہ آدھی صدی سے طاری تھا۔ اسٹیبلشمنٹ اس چھابے کو دوبارہ بھرنا چاہتی تھی جس کی روٹیاں مشرف اور حواری کھا گئے تھے۔

اسٹیبلشمنٹ نوجوانوں میں ریاست بارے بڑھتی مایوسی کو اعتماد میں بدلنا چاہتی تھی۔ ذرا یاد کیجئے دھرنوں میں عمران خان کیا کہتے تھے ’’میرے نوجوانوں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خوف کا عنصرہے‘‘۔ ’’ہم ادارے آزاد کریں گے‘‘۔

’’ہم عام فرد کو آزادی کا احساس دیں گے، وقت آنے والا ہے جب غیر ملکی پاکستان میں کام کرنے آئیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔‘‘ ماضی کی کوتاہیوں میں لپٹے سماج میں اتنی بڑی تبدیلیاں کسی صورت ممکن نہیں تھیں۔ اگرچہ ایک وقت آیا میاں محمد نواز شریف ان تبدیلیوں کے لئے فریم ورک بنانے پر آمادہ ہوگئے تھے، لیکن پارٹی میں موجود بہت بڑی تعداد ان بڑی تبدیلیوں کے اثرات سے خوفزدہ تھی۔

انہی افراد نے میاں محمد نواز شریف کو باور کروایا اگر پولیس آزاداور ادارے خودمختار ہوگئے تو ’’حلقے کی سیاست‘‘ کا خاتمہ سمجھئے۔ نہ پولیس سفارش مانے گی، نہ ادارے لیٹر پیڈز پر لکھے احکامات پر عمل درآمد کریں گے، ووٹرز میں ہوا اکھڑ جائے گی۔۔۔ پوری کوششوں کے باوجود پارٹی مخالفت کی بناء پر میاں محمد نواز شریف کو بڑے اصلاحاتی ایجنڈے سے ہاتھ کھینچنا پڑا۔ وقت گذر گیا، ردعمل کے طور پر اقامہ سامنے آگیا۔

ماضی، حال اور مستقبل مسلم لیگ نواز پاکستانی سیاست میں بحیثیت پلئیر موجود رہے گی۔ قابل غور امر یہ ہے بے پناہ عوامی طاقت کی حامل بڑے حجم والی پارٹی اس وسیع البنیاد انقلابی اصلاحاتی ایجنڈے کو نافذ کیوں نہ کرسکی جن کا اب تقریروں میں ذکر کیا جا رہا ہے۔

اگراس انقلابی ایجنڈے کی شروعات ہو جاتیں تو میاں محمد نوازشریف نے تاریخ میں حقیقی ریفارمر کی سی حیثیت اختیار کر لینی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ لاکھ برا چاہتی لیکن لوگوں نے اس میاں محمد نوازشریف کو جھولیاں بھر بھر کر دعائیں دینا تھیں جس نے پولیس کو آزاد کیا، جس نے ہسپتالوں کو خودمختار کیا، جس نے کریانے سٹور سے لے کر خوانچہ فروشوں تک ترک ماڈل ٹیکس نظام نافذ کرکے کھربوں روپیہ خزانے میں جمع کروایا، جس نے سرکاری ٹینڈرز میں پچیس فیصد حصہ بٹورنے والے ممبران اسمبلی سے اس کے شہر جا کر استعفی لیا۔۔۔بہت کچھ ایسا تھا جو اگر ہو جاتا تو مسلم لیگ نواز کو طویل اقتدار سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ وقت وہ جو گذر گیا۔

طاقت کے نئے مراکز ابھر آئے۔ میاں صاحب اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ وہ کونسے ایسے احبات ہیں جنہوں نے انتہائی کہنہ مشق لیڈر کو ایولیوشن کی اگلی اسٹیجز پر جمپ لگانے کی بجائے حلقوں کی متروک سیاست میں دھنسایا۔

ایسی بے رحم سیاست جس میں آج لوکل قیادتیں بینروں، پوسٹروں پر میاں محمد نواز شریف کی تصاویر لگانے سے اجتناب برت رہی ہیں۔ تاہم۔۔۔ تاہم۔۔۔ آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے تمام تر مخالفانہ اقدامات کے باوجود کیا میاں محمد نواز شریف عام لوگوں کے دلوں میں بحیثیت وزیراعظم موجود رہیں گے یا نہیں؟ آنے والے انتخابات میں علم ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -