ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 66

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 66
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 66

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پرتھ کے ہلز سے پرتھ کے ساحل تک

ڈاکٹر ثمینہ کا گھر شہر کے ایک کونے پر تھا۔ ہم وہاں سے چلے اور دریائے سوان سے ہوتے ہوئے کنگز پارک تک آئے تھے ۔ اس کے بعد ہم ڈاؤن ٹاؤن کی طرف گئے ۔ کام کے اوقات کی وجہ سے یہاں رش نہ تھا۔ وہاں سے گزرکر پرتھ کی پہاڑ یوں کی طرف گئے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 65 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایڈیلیڈ کی طرح یہاں کی پہاڑ یاں بھی ایک بہت خوبصورت منظر پیش کر رہی تھیں ۔ تاہم یہاں ایک اضافی چیز یہ تھی کہ موسم میرے حساب سے بہت خوشگوار تھا۔نہ سردی تھی نہ گرمی تھی۔ ایسے میں پہاڑ ی راستوں میں آنے والے بعض مناظر کے پاس اتر کر ان کو دیکھنا، اپنی ذات میں ایک ناقابل فراموش تجربہ تھا۔ایڈیلیڈ کی طرح یہاں بھی انگور کے دور تک پھیلے باغات ، اردگرد کے درخت، سبز گھاس کا لبادہ اوڑ ھے پہاڑ ی ڈھلوانیں ، ان پر چلتی پھرتی بھیڑ یں ، اوپر شفاف نیلا آسمان اور ہر طرف پھیلی خوبصورت خاموشی۔شاید اقبال نے اسی سکوت کا خواب دیکھا تھا۔

شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

دوپہر عام طور پر سورج کی گرمی اور تمازت سے عبارت ہوتی ہے ۔ مگر دوپہر ایسے معتدل موسم اور ایسی پرفضا جگہ پر ہو تو شاید اس سے زیادہ حسین پہر کوئی اور نہیں ہو سکتا۔میں کچھ دیر کار سے اتر کر ان مناظر کو دیکھتا رہا۔ انگور کے کھیت کے پاس اکا دکا گھر ان کے مالکوں کے تھے ۔ میں نے ان گھروں کے باسیوں کو رشک سے دیکھا۔ ان کا تو ہر پہر طلسماتی شان سے طلوع ہوتا ہو گا۔ صبح، دوپہر، شام اور رات کے گھٹتے بڑ ھتے سایوں میں سورج اور سائے ، آسمان اور پہاڑ ، بادل اور برسات، چاند اور چاندنی، اندھیرے اور تاروں کی روشنی میں یہ جگہ ہر پہر میں خدا کی جنت کا زندہ نمونہ تھی۔

خدائی حسن کی ایسی ہی برسات اس شام میں نے پرتھ کے ساحل پر دیکھی۔ راستے میں کسی مقام پر کاشف کو میں نے زبان کا ایک پہلو سمجھاتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ شام نے دلہن کا لبادہ اوڑ ھ لیا کی تعبیر کامطلب کیا ہے ۔مگر اس شام جب ہم ساحل پر پہنچے تو واقعی ڈوبتے سورج کی لالی نے اپنے پیچھے یہی منظر چھوڑ دیا تھا۔ شفق تو بہت جگہ دیکھی ہے ، مگر افق کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی شفق کا جو منظر اس ساحل پر تھاوہ واقعی کسی دلہن کے پھیلے ہوئے آنچل سے کم نہ تھا۔

خدا نے اس دنیا میں اتنا حسن اس لیے تخلیق کیا ہے کہ انسان اس حسن کو دیکھے اور جنت کے لافانی حسن کا طلبگار بن جائے ۔ مگر کم ظرف انسان اس عارضی دنیا کے پیچھے اس طرح لگتا ہے کہ ابدی زندگی کے لافانی حسن کو ہمیشہ کے لیے گنوادیتا ہے ۔انسان کو کیسا عظیم موقع ملا ہے ۔ انسان نے کتنی بے دردی سے اس موقع کو ضایع کر دیا ہے ۔

بچوں سے مکالمہ

راستے میں ہم کئی جگہ اور گئے ۔صوبائی پارلیمنٹ کو دیکھا۔ٹماٹو گارڈن میں گئے جہاں ایک جھیل بھی بنی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ مشہور گراؤنڈ واکا(WACA)گئے ۔ راستے میں پرتھ کا نیا اور بہت بڑ ا اسٹیڈیم بھی دیکھا۔

یہاں کے لوگوں کو کھیل اور فٹنس کا بہت زیادہ ذوق ہے ۔ ا سکول میں ہر بچے کو کسی نہ کسی کھیل میں حصہ لینا ہوتا ہے ۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ ان قوموں کی عیاشیاں ہیں جہاں بنیادی ضروریات مہیا ہوں ۔ہم تو تیس برسوں سے جاری لسانی، فرقہ وارانہ ، سیاسی اور اب دہشت گردی کی قتل و غارتگری کی وارداتوں کو پوری طرح ختم نہ کرسکے تو باقی چیزوں کا کیا ذکر۔کبھی کبھی خیال ہوتا ہے کہ اس ملک کے عوام جنگل کے ان ہرنوں جیسے ہیں جو درندوں کی غذائیں بنتے رہتے ہیں ۔ جب درندے کو بھوک لگی اس نے اپنی پسند کا شکار کر لیا۔ ایسے ہی اس ملک کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اس کی وجہ مگر یہ ہے کہ عوام نے ایسے لوگوں کو اپنے مذہبی، سیاسی اور فکری لیڈر بنارکھا ہے ۔ جو باشعور لوگ ہیں وہ معاشرے کے خیر و شر سے بے نیاز اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ۔اس کے بعد وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ساتھ ہورہا ہے ۔

چائے کے لیے کاشف کے گھر پہنچے ۔ ان کی بیگم نے چائے کے ساتھ بہت اہتمام کر رکھا تھا۔ کاشف کی تین بچیاں تھیں ۔ انھوں نے اپنی ایک بچی کا سوال بیان کیا کہ سائنس تو خدا کو نہیں مانتی۔ یہ سوال آنے والے برسوں میں ہر جگہ بچے کر رہے ہوں گے ۔میں نے تو مذہبی گھرانوں کے بچوں سے بھی یہی سوال سنا ہے ۔ہمیں اس سوال کے جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔

میں نے دوران گفتگو ان میاں بیوی کو یہ سمجھایا کہ بچوں کے ساتھ چھوٹی عمرہی سے مکالمہ ہونا چاہیے ۔ جبکہ عام طور پر والدین چھوٹے بچوں سے صرف دو ہی مواقع پر بات کرتے ہیں ۔ ان کو ڈانٹنے کے لیے یا کوئی حکم دینے کے لیے ۔ اسے مکالمہ نہیں کہتے ۔مکالمہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے ان کی سطح پر آ کر بات کی جائے ۔ اسے والدین کوئی کام نہیں سمجھتے ۔ یہاں تک کہ بچے والدین سے زیادہ ماحول کا اثر قبول کر کے بڑ ے ہوجاتے ہیں ۔ اس عرصے میں بچوں نے جو بننا ہوتا ہے بن چکے ہوتے ہیں ۔

کاشف کے ہاں سے ہم ساحل کے لیے نکلے ۔ دیر ہوگئی تھی اس لیے سورج ڈوبنے کا منظر نکل گیا۔ شام کے وقت ساحل سمندر اور سورج ڈوبنے کا منظر یقینا بہت خوبصورت ہوتا ۔خیر جو مل گیا وہ بھی کم نہ تھا۔وہاں چھائی ہوئی شفق نے خدائی جمال کا وہ مشاہدہ کرادیا جو شایدکسی اور جگہ میں نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا۔(جاری ہے)

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 67 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سیرناتمام