پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف کون تھے اور ایم کیو ایم لندن میں شامل ہونے سے پہلے وہ کیا کرتے رہے ؟ایسا انکشاف کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف کون تھے اور ایم کیو ایم لندن میں شامل ہونے سے پہلے ...
پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف کون تھے اور ایم کیو ایم لندن میں شامل ہونے سے پہلے وہ کیا کرتے رہے ؟ایسا انکشاف کہ آپ بھی حیران رہ جائیں گے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)کراچی میں حسن گوٹھ کے مقام سے ایم کیو ایم لندن کے سینئر رہنما اور کراچی یونیورسٹی کے سابق استاد پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف کے بارے میں ایسے حیرت انگیز انکشاف سامنے آئے ہیں کہ جنہیں جان کر ہر کوئی حیران و پریشان رہ جائے گا ۔
تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم ) لندن کے سینئر رہنما پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف جن کی لاش آج کراچی کے علاقے حسن گوٹھ سے ملی ہے ،اب تک ان کا مبینہ قتل ایک معمہ بنا ہوا ہے ،ڈاکٹر حسن ظفر عارف22اکتوبر 2016ء میں اس وقت منظر عام پر آئے جب ایم کیوایم لندن کے سینئر رہنما کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے آئے تو رینجرز اورپولیس کی بھاری نفری نے ان کو گرفتار کر لیا ،میڈیا میں ڈاکٹر حسن ظفر عارف کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ کراچی یونیورسٹی میں پروفیسر رہے ہیں، مقتول ڈاکٹر حسن ظفر عارف کا ایم کیو ایم سے کوئی بہت زیادہ پرانا تعلق نہیں ،انہوں نے 15مئی 2016ء کو ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی ،یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم لندن سے اعلان لاتعلقی کیا ،ان کی شمولیت کے فوری بعد الطاف حسین نے انہیں ایم کیو ایم لندن کا عبوری رکن نامزد کیا گیا تھا ۔بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہونگے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی پہلی بار وطن واپسی کی تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم کردار اداکرنے والوں میں پروفیسر حسن ظفر کا نام سر فہرست تھا جنہوں نے پس پردہ رہتے ہوئے بی بی بے نظیر کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔1985ء میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے کی پاداش میں انہیں کراچی یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا ۔نجی ٹی وی کے مطابق 80 کی دہائی میں جب صدر پاکستان ضیا الحق کے خلاف کراچی کے ریگل چوک پر مظاہرہ کیا جارہا تھا اس مظاہرے کو روکنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری ریگل چوک کے اطراف موجود تھی، اعلیٰ حکام کی جانب سے مظاہرہ پر دھاوا بولنے کے احکامات ملتے ہی پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی، اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ پولیس نے کراچی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو گریبان سے پکڑ کر گاڑی میں ڈالاتو دوسرے دن کے اخبارات نے گرفتار شخص کی تصویر پر یہ عنوان لکھا ہوا تھا’’ ڈی ایس پی بمقابلہ پی ایچ ڈی‘‘ اس تصویر کو بعد میں انعام کا حق دار بھی ٹھہرایا گیا۔ایم کیو ایم لندن میں ڈیڑھ سالہ رفاقت کے بعد پروفیسرڈاکٹر حسن ظفر عارف کا سیاسی کیئرئیر اور زندگی کا ہی اختتام ہو گیا۔

مزید :

قومی -