جنوبی ایشیا میں جی ڈی پی کی شرح نمو پاکستان، نیپال اور سری لنکا سے بھی پیچھے

جنوبی ایشیا میں جی ڈی پی کی شرح نمو پاکستان، نیپال اور سری لنکا سے بھی پیچھے

عالمی بینک نے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو میں مزید 1.3 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ جون میں جب پاکستان میں ابھی نگران دورِ حکومت تھا عالمی بینک نے جو شرح نمو ظاہر کی تھی وہ 5 فیصد تھی جبکہ تازہ رپورٹ کے مطابق اب یہ شرخ 3.7 فیصد رہنے کا امکان ہے جو سری لنکا اور نیپال کی شرح نمو سے بھی کم ہے جو بالترتیب 4 اور 5.9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ شرح نمو بھارت کی ہے جو 7.3 فیصد اور دوسرے نمبر پر بنگلہ دیش کی سات فیصد ہے یاد رہے کہ سال 2017-18 کے بجٹ میں پاکستان کی شرح نمو 5.8 فیصد رہی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے رواں مالی سال کا جو بجٹ پیش کیا تھا اس میں ٹارگٹ 6 فیصد رکھا گیا تھا۔ اس بجٹ پر موجودہ حکومت نے ایک نظرثانی پہلے کی تھی جبکہ دوسری اب کی جارہی ہے۔

عالمی بینک کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہے جب حکومت رواں مالی سال کا دوسرا منی بجٹ 23 جنوری کو پیش کر رہی ہے اس موقع پر وزیر خزانہ اسد عمر نے یہ خوش خبری بھی سنائی ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ آنکھیں بند کر کے معاہدہ نہیں کیا جائے گا اور ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ یہ معاہدہ آخری ہوگا۔ اگرچہ ابھی تک آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ تو نہیں ہوا لیکن عملاً وہ سارے مطالبات مانے جا چکے ہیں جو متوقع طور پر آئی ایم ایف کی طرف سے کئے جانے کا امکان ہو سکتا تھا۔ حکومت لاکھ کہتی رہے کہ اس نے روپے کی قیمت اپنے طور پر کم کی ہے لیکن یہ بہر حال آئی ایم ایف کا مطالبہ بھی تھا گویا اس معاملے میں صورت ’’متفق گردید رائے بو علی بارائے من‘‘ والی پیدا ہو گئی ہے یعنی ہم نے روپے کی قدر تو اپنی ’’آزاد مرضی‘‘ سے کم کی لیکن یہ آئی ایم ایف کی خواہش بھی تھی حکومت اسے ’’حسنِ اتفاق‘‘ بھی کہہ سکتی ہے لیکن مخالفین اسے بہر حال آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن ہی سمجھیں گے،

گیس کی قیمت میں بھی حکومت نے 143 فیصد تک اضافہ آتے ہی کر دیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نان روٹی سے لے کر ڈبل روٹی اوررس ، بن تک ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے اشیائے ضرورت عام لوگوں کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں اور بد قسمتی سے یہ لہر ابھی اترنے کا نام نہیں لے رہی اور شاید بہت عرصے تک سونامی کی یہ لہریں غریبوں کے سروں پر سے گزرتی رہیں۔ بجلی کی قیمت کا بھی یہی حال ہے ان دنوں تو موسم سرد ہے جونہی گرمی آئے گی اور بجلی کے پنکھے چلنا شروع ہو جائیں گے تو پہلے ہی غربت کی چکی میں پستے ہوئے عوام کو بجلی کی گرانی کی نئی لہروں سے واسطہ پڑے گا۔ وزیر خزانہ خود کہہ رہے ہیں کہ مقامی بچتیں اور سرمایہ کاری کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ بینکوں میں جمع رقوم بھی گیارہ سال کی کم ترین سطح پر ہیں ایسے میں معیشت کی بہتری، بیروز گاری میں کمی ا ور ملازمتوں کے مواقع میں اضافے کا تصور بھی محال ہے کیونکہ ماہرین کا خیال ہے کہ روز گار کے نئے مواقع اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب جی ڈی پی کی شرح 7 فیصد سے زیادہ ہو۔ یہ شرح تو اگلے پانچ سال میں بھی حاصل ہونے کا کوئی امکان نہیں ایسے میں حکومت وعدے کے مطابق پانچ سال میں ایک کروڑ نوکریاں کیسے دے گی یہ اسد عمر بہتر جانتے ہوں گے جو سیاست میں آنے سے پہلے ایک بڑی کمپنی کے سی ای او رہ چکے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملازمتیں کب پیدا ہوتی ہیں اور کب سکڑتی ہیں۔

قرض کی شکل جو بھی ہو وہ دوست ملکوں سے ملے یا آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں سے، اس پر سود بہر حال ادا کرنا پڑتا ہے۔ ابھی حال ہی میں سعودی عرب اور یو اے ای سے جو قرض ملا ہے اس پر بھی پاکستان نے سود ادا کرنا ہے۔ آئی ایم ایف سے اگر پروگرام لے لیا گیا تو یہ تین سال کے لئے ہوگا اور اس پر بھی سود دینا ہوگا لیکن یہ امکان ہے کہ یہ شرخ سود 2 فیصد کے لگ بھگ ہو آئی ایم ایف سے قرض لینا ہے یا نہیں اس بارے میں ابہام جلد دور ہونا چاہئے کیونکہ گومگو کی وجہ سے سٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے اور 50 ارب ڈالر کا سرمایہ پہلے ہی مارکیٹ سے نکل چکا ہے۔ اگر حالات پر غیر یقینی کے سائے اسی طرح منڈلاتے رہے تومزید سرمایہ نکل جائے گا۔

اسد عمر نے بھارت کے ساتھ تجارت کی بھی بات کی ہے جو بے وقت کی راگنی ہے اس وقت دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت ایسی نہیں ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت میں اضافے کی بات کی جائے نریندر مودی تو ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کی بات کر رہا ہے اور مذاکرات کی ساری پیش کشیں یکے بعد دیگرے پوری رعونت کے ساتھ ٹھکراتا چلا جا رہا ہے تازہ پیشکش بھی اس نے مسترد کر دی ہے ایسے میں بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے کا ذکر کر کے کسی اچھے ذوق کا مظاہرہ نہیں کیا جار ہا ماضی میں تو ایسی باتیں کرنے والے ’’مودی کے یار‘‘ اور گردن زدنی کہلائے، نہ جانے تازہ موسم میں یہ پرانی بات کرنے والوں کو کس حیثیت سے یاد کیا جائے گا۔ 23 جنوری کو منی بجٹ آئے گا تو معلوم ہو جائے گا اس کے ہماری معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں لیکن اب تو تحریک انصاف کے اندر سے ایسی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں کہ فنانس مینجروں کی موجودہ ٹیم معیشت کی بہتری کا کوئی وژن ہی نہیں رکھتی اور نہ اس میں کوئی ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے جو معیشت کی بہتری میں کردار ادا کر سکیں۔ ڈاکٹر فرخ سلیم تو اس موضوع پر کئی مضامین لکھ چکے ہیں۔

وزیر خزانہ نے تاجروں سے ملاقات میں ان کی اس تجویز کو تو مذاق میں ٹال دیا کہ اگر حکومت اپنی آمدنی بڑھانا چاہتی ہے تو ایف بی آر ختم کردے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر کئی سال سے ایف بی آر بجٹ میں رکھے گئے ٹیکس اہداف حاصل نہیں کرسکا اور یہ حد بعض اوقات ایک بار اور بعض اوقات دوبار کم کرنا پڑی تو اس سے ایف بی آر کی کوئی اچھی کارکردگی سامنے نہیں آئی، ماہرین تجویز کر رہے ہیں کہ قرضوں پر انحصار کی بجائے ٹیکس اصلاحات کی جائیں اور براہ راست ٹیکس لگائے جائیں، اصول یہ ہونا چاہئے جتنی زیادہ آمدنی اتنا زیادہ ٹیکس، لیکن ہمارے ہاں بعض بالواسطہ ٹیکس ایسے بھی ہیں جو ایک ارب پتی اور ایک چھابڑی والا بھی یکساں شرح سے ادا کرتے ہیں جنرل سیلز ٹیکس ایک ایسا ہی ٹیکس ہے جن اشیا پر یہ نافذ ہے وہ جو شخص بھی خریدے گا اسے یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا، خوراک کی بنیادی اشیاء پر بھی معمولی آمدنی والے لوگوں کو بھی یہ ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اب تک حکومتیں ٹیکس کی بنیاد وسیع کرنے میں ناکام رہی ہیں دیکھنا ہوگا تحریک انصاف اپنے دعوے کے مطابق ٹیکس دو، ڈھائی یا تین گنا تک بڑھانے میں کب کامیاب ہوتی ہے، چونکہ وزیر اعظم عمران خان دعوے کرتے رہے ہیں کہ اگر حکومت دیانتدار ہو تو لوگ خوش دلی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، اب حکومت تو دیانت دار اور ایماندار آگئی ہے، دوسرا مقصد کب حاصل ہوگا؟

مزید : رائے /اداریہ