موسمیاتی تبدیلیوں کے ہماری زراعت پر اثرات

موسمیاتی تبدیلیوں کے ہماری زراعت پر اثرات

اس شکایت کے باوجود کہ ہمارے محکمہ موسمیات کے پاس جدید آلات کی کمی اور موجود آلات پرانے ہو کر تبدیل ہو نے والے ہیں،ماہرین موسم اور چاند کے حوالے سے بہت بہتر اطلاع دیتے ہیں،اِس بار بھی مجموعی صورتِ حال کے بارے میں بتا دیا گیا تھا کہ بارش نسبتاً کم ہو گی۔ وجہ تو ظاہر ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور درختوں کی کمی ہے۔اِس سلسلے میں تاحال کوئی اصلاح نظر نہیں آتی۔ شجرکاری کی ’’میگا مہم‘‘ بھی اب تک پبلسٹی ہی رہی ہے، جہاں تک موسموں کا تعلق ہے تو ان میں تغیر بھی عالمی سطح پر ہے اور اس کی وجہ بھی گیسوں ہی کا اخراج ہے۔ عالمی سطح پر فکر مندی ظاہر کر کے کچھ فیصلے تو کئے جاتے ہیں،لیکن عمل کے حوالے سے تاحال کامیابی کی اطلاعات نہیں ہیں، یوں دُنیا بھر میں اک تغیر ہے۔

جہاں تک ہمارے مُلک اور اس خطے کا تعلق ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ مہربان رہے، پاکستان میں اگر سمندر، پہاڑ، صحرا، دریا اور کھیت کھلیان ہیں تو یہاں سردی، گرمی، بہار اور خوشگوار موسم کے ساتھ ساتھ برسات کا موسم بھی اپنے وقت پر شروع ہوتا اور بارشیں بھی موسم ہی کے حوالے سے ہوتی تھیں،لیکن ماحولیاتی آلودگی نے اسے بھی بری طرح متاثر کیا، ایک طرف تو دریاؤں میں پانی کم ہوا، دوسری طرف فصلوں کی پیداوار بھی متاثر ہوئی، بارش اور موسم کا تعلق زمینی پیداوار سے ہے تو یہ صحت کے لئے بھی اپنی اہمیت رکھتے ہیں، چنانچہ سردیوں میں بارش بروقت نہ ہو تو نہ صرف فصل کی کاشت متاثر ہوتی ہے،بلکہ سانس اور گلے کے امراض بھی پھیلتے ہیں،بزرگ دُعا مانگتے ہیں کہ بارش ہو اور خشک سردی ختم ہو جائے تاکہ یہ امراض بھی چلے جائیں۔ برصغیر میں دسمبر کے وسط اور آخری عشرے میں ہونے والی بارش گندم کی فصل کے لئے مفید تر ہوتی تھی،لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اسے بھی متاثر کیا، رواں سیزن میں بھی بارشیں نہیں ہوئیں اور خشک سردی کے ثمرات میں گلے اور چھاتی کے امراض عود کر آئے، اب قدرت مہربان ہوئی تو جنوری کے پہلے عشرے ہی میں دو بار بادل آئے اور دور دور تک ہلکی بارش ہوئی۔ پھر بھی گندم کے لئے خشک اثرات ختم ہوئے اور موسمی امراض میں بہتری کی توقعات پیدا ہوئیں۔ دُعا ہے کہ گندم کی فصل بہتر ہو۔اس حوالے سے پھر توجہ دلانا ضروری ہے کہ شجرکاری مہم کو سنجیدہ لیا جائے اور میدانی علاقوں ہی میں نہیں، پہاڑوں پر بھی درخت لگائے جائیں اور لکڑی کی چوری کو روکا جائے، ساتھ ہی ماحولیاتی آلودگی کو روکنے والے محکمے بھی اپنے فرائض دیانت داری سے سرانجام دیں تاکہ موسم بہتر ہوں اور ان کے ثمرات لوگوں کو ملیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ موسم ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے شعبہ صفائی اور انسداد وبائی امراض بھی اپنا فرض مکمل دیانت سے پورا کریں۔

مزید : رائے /اداریہ