تعلیمی نصاب، وَن یونٹ اور نشتر و خنجر وغیرہ

تعلیمی نصاب، وَن یونٹ اور نشتر و خنجر وغیرہ
تعلیمی نصاب، وَن یونٹ اور نشتر و خنجر وغیرہ

  

ذاتی طور پر مَیں قومی نصاب کے بارے میں وہی نقطۂ نظر رکھتا ہوں، جو آج کل مُلک کومتحد اور یکجا رکھنے کے دعوے دار ادارے اور ریٹائرڈ افراد رکھتے ہیں۔ پھر میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ اس مُلک کی محافظت اور نگہبانی کیا میرے یا کسی اور کے نام ہبہ ہو چکی ہے کہ مَیں کہوں کہ جس اندازِکار سے مُلک چلانا میرے پیش نظر ہے، وہی اندازِ کار سب لوگ، سب ادارے اور عوام اختیار کر لیں۔ اس مُلک کے محافظ اور نگہبان ملک کے بائیس کروڑ عوام اور ادارے ہیں۔

عوام نے ایک دن جنرل یحییٰ کی آمریت میں ایک اسمبلی کے حق میں رائے دی۔ انہی عوام نے 1970ء میں اپنا مختارنامہ اسمبلی اور سینیٹ کو تفویض کیا۔ اسمبلی اور سینیٹ عوام کی نیابت کرتے ہوئے عوام کے لئے فیصلے کرتے رہے۔

لاتعداد دیگر آرا اور فیصلوں کے ساتھ، عوام کے ووٹوں سے منتخب اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں اورقومی اسمبلی کے ووٹوں سے منتخب سینیٹ نے 2018ء میں یہ فیصلہ کیا کہ تعلیمی اداروں کا نصابِ تعلیم ملک کے صوبے مرتب کریں گے۔اس بابت وفاق کی کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی، ماسوائے وفاقی علاقے اور وفاقی تعلیمی اداروں کے نصاب کے۔

اس آئینی ترمیم کی منظوری پر میں اور میرے جیسے اُمتِ مسلمہ کے داعیان اور موئدین خاصے دل گرفتہ ہوئے۔ میرے لئے یہ ناقابلِ برداشت تھا کہ ایک ملک میں پانچ مختلف نصابِ تعلیم ہوں۔ صوبوں میں حکومتیں بالعموم مقامی ذہن اور محدود سوچ رکھنے والے افراد کی ہوا کرتی ہیں۔ یہ کام ان کے کرنے کا نہیں ہوتا۔ مُلک کے پانچوں صوبوں اور وفاق میں حکومتیں بالعموم مختلف سیاسی جماعتوں کی ہوا کرتی ہیں۔ اِس اعتبار سے دیکھا جائے تو بھی ملک کی ان پانچوں اکائیوں کے تعلیمی نصاب میں بعد المشرقین ممکن ہو سکتا ہے۔

میرے علاوہ مُلک کو بالعموم متحد اور یکجا دیکھنے کے خواہش مند افراد اور ادارے بھی اس آئینی ترمیم پر خاصے آزردہ دیکھے گئے، پھر 2015ء میں فوجی عدالتوں کے قیام کے آئینی بل کی منظوری پر باقی افراد اور اداروں کو نظرانداز کرتے ہوئے چلئے صرف سینیٹر رضاربانی ہی کی آزردگی اور دِل گرفتگی یاد کر لیجئے۔

مَیں یاد کرتا ہوں ، اگر غلط نہیں ہوں تو وہ اس بل کے حق میں ووٹ دینے کے باوجود، اسے منظور کرانے کے باوجود رو پڑے تھے کہ یہ کیونکر ہوا۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی رائے کو نظرانداز کیا۔ پارٹی نے جو کہا اس پر لبیک کہا۔ ان کے جمہوری ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے مَیں کہہ سکتاہوں کہ گھر جا کر اپنا کمرہ بند کر کے وہ خوب روئے بھی ہوں گے۔

قومی تعلیمی نصاب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔اٹھارہویں ترمیم ایک مجاز پارلیمان کے ہاتھوں ہوئی۔ کسی کی پسند ناپسند کا اس سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ہونے کو تو یہ ہو چکا، لیکن اس نے زیادہ عرصہ اِس حالت میں نہیں رہنا ہے۔ مُلک کے سیاست دان اور عمر رسیدہ سیاست دان جس اندازِ کار پر سوچتے ہیں وہ سوچ اور سو چ کے وہ زاویے مدتوں قبل تحلیل ہو چکے ہیں۔

اس ترمیم ہی کے ذریعے جب اُس وقت کے صوبہ سرحد کا نیا نام خیبرپختونخوا سامنے آیا تو ان دِنوں مَیں صبح شام کی کلاسیں ملا کر چھ کلاسوں کو پڑھا رہا تھا۔اس نئے مجوزہ نام پر پانچ کلاسوں کے ان طلبا میں،مَیں نے سروے کیا، جن کا تعلق صوبہ سرحد سے تھا اور جن کی عمریں اٹھارہ تا چوبیس سال تھیں۔ یہ طلبا چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک کے تھے۔ ہر کلاس میں یہ طلبا اوسطاً پانچ چھ تھے۔

یوں ان کی کل تعداد تیس بتیس تھی۔ ان تیس بتیس طلبا و طالبات میں سے ایک طالب علم نے بھی نئے نام کی تائید نہیں کی۔ کیوں نہیں کی؟اس کی وجہ صرف ایک جواب میں تھی کہ ’’جی نام میں کیا دھرا ہے؟ کوئی کام کی بات کریں، لوگوں کے مسائل حل کریں‘‘۔

جب مَیں نے چھٹی کلاس میں سروے کیا تو تقریباً 30 افراد پر مشتمل اس کلاس میںآٹھ دس افراد صوبہ سرحد سے تھے اور یہ سبھی کے سبھی اس نئے نام کے پُرجوش حامی تھے۔

اس بڑے فرق کی وجہ بڑی سادہ اور دلچسپ تھی۔ یہ آخری کلاس اوسطاً چالیس تا پچاس سالہ (دس سال قبل) ججوں، پولیس افسروں، ڈسٹرکٹ اٹارنی وغیرہ پر مشتمل تھی۔ یوں آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نئی اور پرانی نسل کی سوچ میں کس قدر خلیج اور تفریق موجود ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے قومی تعلیمی نصاب کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔نو سال قبل جن سن رسیدہ اور سال خوردہ سیاست دانوں نے یہ ترمیم منظور کی تھی، نئی نسل اس سے مطلقاً لاتعلق ہے۔

مُلک کے شمال سے لے کر جنوب تک کے تعلیمی اداروں میں سے کسی میں بھی جا کر سروے کریں۔ آپ کو حیرت انگیز نتائج ملیں گے،جو موضوعات اور مباحث چالیس سال سے اوپر کے لوگوں میں بالعموم زیربحث رہتے ہیں، نوخیز افراد ان سے یکسر لاتعلق ہیں۔ ان کے موضوعات، ان کی پسند نا پسند اور جزا سزا کے تصورات وہ نہیں ہیں، جو میرے آپ کے مابین جدل و مناظرہ کی کیفیت پیدا کرتے ہیں، لہٰذا ملک کو مستحکم ا ور مضبوط دیکھنے کے خواہشمندان تمام افراد اور اداروں سے گزارش ہے کہ وہ ذرا تحمل سے کام لیں ۔ دو ایک اسمبلیوں کے نتائج سامنے آنے دیں۔ ہر شے اپنی ترتیب کے ساتھ یعنی ڈاکٹر کے نشتر کے ذریعے ٹھیک ہو جائے گی۔ یہی نشتر اگر مُلک غلام محمد کے کسی نمائندے کے ہاتھ تھمایا گیا،جس نے وَن یونٹ کے ذریعے مُلک کو متحد اور مستحکم و مضبوط بنانے کی کوشش کی تھی، تو یہ نشتر آن واحد میں قصائی کا خنجر بننے میں دیر نہیں لگائے گا۔ قصائی کے خنجر سے ملک پہلے ہی دو لخت ہو چکا ہے۔

مزید کسی مہم جوئی سے گریز کا مشورہ ہے۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ 1973ء کے اصل دستور میں وزیراعظم کا مسلمان ہونا لازم تھا۔ 1985ء میں مردِمومن، مردِ حق ضیا الحق نے یہ شرط ہٹا دی۔ اگلے پچیس سال تک ملک اس آئینی عیاشی کے ساتھ کام کرتارہا کہ کسی بھی احمدی، ہندو، سکھ، مسیحی وغیرہ کو وزیراعظم بنایا جا سکتا تھا حتیٰ کہ 2010ء میں انہی ’’ناکارہ اور بدعنوان‘‘ سیاست دانوں نے عوامی امنگوں کے حسبِ حال 1973ء کے اصل دستور کو بحال کرتے ہوئے وزیراعظم کا مسلمان ہونا لازم قرار دیا ہے۔

تو کیا جنرل ضیا الحق کی یہ آئینی ترمیم عوامی امنگوں کی آئینہ دار تھی؟ 2010ء میں وزیراعظم کے مسلمان ہونے کو دوبارہ لازم قراردینے والی جماعتوں پر نظر ڈالیں جو اس وقت حکومت میں تھیں۔

ایک نہیں تینوں لادین اور فیل بے زنجیر کی شہرت زدہ: پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ۔ استاد محترم ڈاکٹر غازی مرحوم کہا کرتے تھے کہ ایک قرآن و سنت میں ترمیم و اضافہ ممکن نہیں ، باقی ہر کام ممکنات میں ہوا کرتا ہے یا اسے ممکنات کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔

سُنا ہے آج کل پھر کچھ لوگ خنجر سونتے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے در پے ہیں۔ مُلک کو اس انداز میں متحد اور مستحکم رکھنے کے خواہشمند افراد کو چاہئے کہ وَن یونٹ کے نتائج سامنے رکھیں۔ مُلک کومتحد اور مستحکم رکھنا ہر شہری کی خواہش ہوا کرتی ہے۔اختلاف رائے کا اظہار، زندگی کی علامت ہے۔ اسی سے زندگی نمو پاتی ہے۔ قلب و نظر بالیدہ ہوتے ہیں۔

مسلسل مباحث و تکرار سے فریقین رائے بھی بدل لیتے ہیں۔ ادھر آج کل کچھ افراد کی خواہش ہے اور میری بھی وہی خواہش ہے کہ مُلک میںیکساں نصابِ تعلیم ہو، لیکن میری خواہش یوں مشروط ہے کہ یہ کام مُلک کے چاروں صوبوں کی مرضی و منشا کے ساتھ ہو۔ آئینی طریقِ کار کے مطابق ہو۔ آئین میں ترمیم کے اس کام کے لئے پارلیمان سے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔یہ حاصل ہو جائے تو بسم اللہ! نہ حاصل ہو تو،جس طریقے پر موجودہ حکومت کو اقتدار میں لایا گیا ہے، خدشہ ہے کہ اس سے ملتا جلتا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

2018ء کے انتخابات ہی کو دیکھ لیں۔ کس طرح سے من مانے نتائج حاصل کر کے ایک ایسے شخص کو وزیراعظم بنایا گیا، جس کے ذرا سی سوجھ بوجھ والے پجاری آج کل منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ پانچ ماہ سے بھی کم وقت میں اس حکومت نے وہ وہ گل کھلائے ہیں کہ ہر کام ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ان حالات میں مُلک کو متحد و مستحکم رکھنے کے خواہشمند افراد اور اداروں سے گزارش ہے کہ آئینی ترمیم کا یہ کام پارلیمان پر چھوڑ دیں ۔

ہماری پارلیمان اور ہمارے عوام میں سے کوئی ایک بھی غدار نہیں ہے ۔دشمن مُلک سے مذاکرات کی خواہش رکھنے والوں کے لئے غدار کے لقب عام کرنے والے افراد مُلک کو اِتنا نچوڑچکے ہیں کہ آنے والے کارپوریٹ دور میں ملازمین کی تنخواہیں دینے کے لئے ریاست مجھے تو لاچار ہوتی نظر آ رہی ہے۔

کسی بھی حکومت کے سفر کی سمت تو ایک آدھ ماہ کے اندر متعین ہو جاتی ہے۔ یہاں سو دن کی مہلت مانگی گئی اور پانچ ماہ ہو گئے کسی کے علم میں کسی حکومت، کسی نظام، کسی طرزِِ حیات کی خبر ہو تو بتائے۔ جب عوام لاغر، نڈھال ہوں گے تو کون سے ٹیکس اور کون سے محبِ وطن ادارے اور ان کی تنخواہیں؟

نصاب تعلیم بہت اہم ہوا کرتاہے، لیکن اس سے زیادہ اہم عوام کی اکثریت اور طریق کار ہے۔ اِس لئے مَیں نے اپنی خواہش کے برعکس صبر کرنا شعار بنایااور امید کا سہارا لیاہے۔ کیا خنجر سونتنے والے بھی میرا ساتھ دیں گے؟

مزید : رائے /کالم