دو حکومتیں

دو حکومتیں
دو حکومتیں

  

پاکستان میں اس وقت دو حکومتیں ہیں، ایک زمین پر اور دوسری سوشل میڈیا میں۔

زمین والی حکومت دارالحکومت اسلام آباد سے چلائی جا رہی ہے، لیکن چلنے سے زیادہ ہچکولے کھا رہی ہے۔ایسے چل رہی ہے کہ چل کے نہیں دے رہی،چونکہ قوت سماعت اور بصارت کمزور ہے،اِس لئے کروڑوں عوام کی چیخیں بھی اس تک نہیں پہنچ پا رہیں۔

جتنی مہنگائی اس حکومت نے پانچ مہینوں میں کر دی ہے اس جیسی مثال اس سے پہلے کسی بھی حکومت کے دور میں نہیں ملتی، لیکن پھر بھی یہ غریبوں کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتی ہے، کیونکہ جب بھی مہنگائی کا کوئی نیا بم گراتی ہے تو یہ کہنا نہیں بھولتی کہ قیمتوں میں اضافہ سے غریب متاثر نہیں ہوں گے۔ غالباً پاکستان کے غریب عوام اب ’متاثر پروف، ہو چکے ہیں، اِس لئے انہیں نہیں فرق پڑتا کہ گیس ، بجلی، پٹرول، اشیائے خورد و نوش ، ادویات اور روزمرہ ضروریات کی چیزوں میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔

حکومت نے آتے ہی گیس کی قیمتوں میں جو 143 فیصد اضافہ کیا تھا، اسے ایک اچھا عمل سمجھتے ہوئے بار بار مختلف چیزوں پر دہراتی رہتی ہے۔ اب کچھ دن پہلے وفاقی حکومت نے باقاعدہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے ڈسپرین سے لے کر کینسر اور جان بچانے والی قیمتی ادویات سمیت ہر میڈیسن میں پندرہ ، بیس ،بلکہ بعض میں 25 فیصد اضافہ کر دیا ہے ، شائد ہمارے متاثر پروف غریب عوام کو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

موجودہ حکومت نے پانچ ماہ سے بھی کم عرصہ میں سوا دو کھرب روپے کا قرضہ لینے کا جو نیا ریکارڈ قائم کیا ہے وہ بھی اس ہوش ربا مہنگائی کی ایک اہم وجہ ضرور ہے، لیکن بڑی وجہ روپے کی قدر ہے جو پچھلی حکومت کے مقابلہ میں تقریباً 40 فیصد کم ہو چکی ہے۔

سوشل میڈیا والی حکومت پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کے فیس بُک اور ٹویٹر اکاؤنٹس سے چلائی جا رہی ہے،جہاں ہر روز ہزاروں پوسٹیں تیار کر کے بتایا جاتا ہے کہ ریاست مدینہ قائم ہو گئی ہے اور اب روم و فارس کے بادشاہوں کی طرح ٹرمپ اور پیوٹن پر لرزہ طاری ہے۔ روزانہ ایسی بہت سی پوسٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ بل گیٹس کاروبار سیکھنے کے لئے عنقریب پاکستان آئیں گے۔

ویسے بھی بل گیٹس کو پی ٹی آئی سوشل میڈیا نے اپنے غیر اعلانیہ برانڈ ایمبیسڈر کا درجہ دے رکھا ہے۔ حکومت کے سو دن گزرنے پر وعدہ کے مطابق وزیراعظم نے اپنا روڈمیپ دیا تو انڈے مرغی کو اپنا معاشی پلان بتایا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بل گیٹس کے اس ایک عطیہ کا خوب حوالہ دیا گیا، جس میں اس بے چارے نے کسی غریب افریقی ملک کی ایک این جی او کو ایک لاکھ مرغیاں کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لئے بطور تحفہ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ ظاہر ہے بل گیٹس کا اعلان کسی این جی او کے لئے کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے لئے تھا،لیکن ہماری حکومت کے سوشل میڈیا نے عمران خان کے کاروباری ویژن کو بل گیٹس کے ہم پلہ قرار دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

کہاں چند لاکھ آبادی کی غریب کمیونٹی کے لئے ایک لاکھ مرغیوں کا امدادی تحفہ اور کہاں بیس بائیس کروڑعوام کا دُنیا میں آبادی کے اعتبار سے پانچواں سب سے بڑا مُلک اور سات یا آٹھ ایٹمی طاقتوں میں سے ایک، خیر، سوشل میڈیا والوں کا کام صرف اِدھر اُدھر کی جوڑ توڑہی ہوتا ہے سو وہ بس یہی کر سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب، عوامی جمہوریہ چین اور متحدہ عرب امارات سے ہماری 71 سالہ تاریخ میں ’’پہلی مرتبہ‘‘ دوستی ہوئی ہے۔ یہ پوسٹیں واٹس ایپ گروپوں میں ایسے پھیلائی جاتی ہیں کہ لوگ یقین کرنے لگتے ہیں کہ پہلی دفعہ پاکستان کا کوئی وزیراعظم ریاض یا بیجنگ پہنچنے میں کامیاب ہو سکا ہے،اِس سے پہلے شائد ہمارے تمام وزرائے اعظم یا صدور کے ویزے چین یا سعودی عرب والے ریفیوز کر دیتے تھے۔

اگر کسی ملک کا وزیر خارجہ یا ولی عہد پاکستان کا دورہ کرتا ہے تو بھی سوشل میڈیا پر سماں دیکھنے والا ہوتا ہے جیسے پہلی دفعہ کوئی اہم شخصیت پاکستان آئی ہے۔ اِس سے پہلے تو انہوں نے پاکستان کا صرف نام سُنا تھا یا پھر نقشے میں دیکھ رکھا تھا،اُنہیں یہ بھی پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ پاکستان کا وزیراعظم اتنا مہمان نواز ہے کہ مہمان شخصیتوں کی گاڑی بھی خود ڈرائیور کرتا ہے۔

زمین والی حکومت تو پہلے دن ہی قوم کے سامنے اپنا ایجنڈا لے آئی تھی جب سندھ اسمبلی میں حلف اٹھانے کے بعد پی ٹی آئی کے ممبر سندھ اسمبلی ڈاکٹر عمران علی شاہ نے گھر واپس جاتے ہوئے راستہ میں ایک شہری کو سرعام تشدد کا نشانہ بنایا تھا ۔

اس کے بعد پاکپتن میں واقعہ پیش آیا تو ایک ذاتی دوست کے کہنے پر وزیراعلی پنجاب نے بے قصور ڈی پی او کو ہٹا کر مدینہ کی ریاست کا عملی طور پر اعلان کر دیا تھا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا تھا کہ وزیر اعلی آفس میں ایک پرائیویٹ شہری نے عہدہ پر موجود پولیس کے ضلعی سربراہ کی سخت سرزنش کی۔ اس کے بعد لاہور میں وزیر کے بیٹے کے خلاف پولیس نے غیر اخلاقی حرکات پرکارروائی کی تو پہلے سے بھی بڑا آرڈر آیا اور پورے صوبہ کے سربراہ آئی جی کو فارغ کر دیا گیا جس کے بعد پولیس اصلاحات کے لئے لائے گئے نیک نام سابق آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی نے بھی استعفیٰ دے دیا، کیونکہ ان کا نام استعمال کرکے پی ٹی آئی غیر سیاسی پولیس کا سلوگن الیکشن میں پہلے ہی استعمال کر چکی تھی ۔

اس کے بعد دارالحکومت میں واقعہ پیش آیا، جہاں سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے لئے ایک وفاقی وزیر نے وزیراعظم کو استعمال کر کے اسلام آباد کے آئی جی کو عہدے سے ہٹوایا۔ دیکھا جائے تو ہر واقعہ پچھلے واقعہ سے بڑا تھا اور بات ایک نومنتخب ایم پی اے سے شروع ہو کر وزیراعظم تک پہنچ گئی۔

یہ چند واقعات تو محض نمونہ کے طور اس ٹرینڈ کو بیان کرنے کے لئے بتائے گئے ہیں کہ ایک عام آدمی کی عزت کتنی محفوظ ہے،جہاں تک جان و مال کے تحفظ کا تعلق ہے تو تما م صوبوں اور بیشتر اضلاع میں جرائم بڑھتے جا رہے ہیں اور ریاست انہیں کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں پولیس غیر سیاسی نہیں ہے۔

کار چوری میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے، موٹر سائیکلیں پچھلے چند ماہ میں جتنی چوری ہوئی ہیں اتنی شائدمارکیٹوں میں فروخت بھی نہ ہوئی ہوں۔ ذخیرہ اندوزی عروج پر ہے، خریف میں گندم بڑی فصل ہے، جس کے لئے یوریا کھاد اہم ہے، پچھلے دو ماہ میں یوریا کی اتنی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ ہو چکی ہے کہ پچھلے سال گیارہ بارہ سو میں ملنے والی یوریا کی بوری اٹھارہ انیس سو پر پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح پچھلے سال بیس بائیس سو میں ملنے والی ڈی اے پی کھاد کی بوری چارہزار تک پہنچنے والی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ عوام کی سہولت کے لئے شروع کیا جانے والا میٹرو منصوبہ یتیم ہو چکا ہے اور لاکھوں لوگ اب پریشان ہیں کہ انہیں با عزت اور آرام دہ سواری کیسے میسر ہو گی۔ ہسپتالوں کی نجکاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے،پہلے لاکھوں لوگ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کروا کر صحت یاب بھی ہوتے تھے اور اپنی عزت نفس کو مجروح ہونے سے بچاتے تھے کہ انہیں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتا تھا۔

پچھلی حکومت کے دور میں مفت کیا جانے والا علاج معالجہ اور چھوٹے بڑے آپریشن سرکاری ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پرائیویٹائز ہونے کے بعد اب ممکن نہیں رہے گا اور لوگوں کو اِدھر اُدھر سے ادھار پکڑ کر ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی فیسیں اور دوائیں بازار سے خریدنا پڑیں گی، جن کی قیمتیں بڑھنے کی رفتار اپالو گیارہ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

نواز شریف کی حکومت تو خیر کافی آرگنائزڈ تھی، موجودہ حکومت کا اگر زرداری حکومت کے پہلے پانچ ماہ سے موازنہ کیا جائے تو کارکردگی کے اعتبار سے زرداری حکومت بھی اتنی بہترتھی کہ اسے گولڈ میڈل دیا جا سکتا ہے، کیونکہ اتنی چیخیں تو عوام کی اس وقت بھی نہیں نکلی تھیں۔

سوشل میڈیا پر البتہ وزیراعظم عمران خان کاروباری فہم و فراست میں بل گیٹس، ذہانت میں آئن سٹائن، قوم پرستی میں نیلسن مینڈیلا، امورِ حکومت میں ڈاکٹرمہاتیر محمد، عالمِ اسلام کی لیڈر شپ میں شاہ فیصل، عالمی رہنما کے طور پر شی چن پنگ، پیوٹن اور ٹرمپ سے بڑھ کر ہیں۔

یہ سوشل میڈیا کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس وقت اسلامی دُنیا کے تین بڑے لیڈر ڈاکٹر مہاتیر محمد، عمران خان اور طیب اردوان ہیں۔ دُنیا کے تمام اہم ممالک اور تمام بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کے بے تاب ہیں اور یہ بیرونی سرمایہ کاری پاکستان میں پہلی دفعہ ہو گی، کیونکہ اس سے پہلے کبھی کوئی ایمان دار حکمران نہیں آیا تھا۔

ریاست مدینہ قائم ہو چکی ہے (چاہے شرح سود پہلے سے دگنی کیوں نہ ہو)۔امریکہ اور بھارت دونوں ہی افغانستان سے جان چھڑانے کے لئے پاکستان کی منتیں کر رہے ہیں ۔ روس کی گیس اور عرب ملکوں کاتیل پاکستانی گذرگاہ استعمال کئے بغیر نہیں فروخت ہو سکتا، اِس لئے یہ عمران خان کے پاؤں پکڑنے کے لئے تیار ہیں۔

یہ پوسٹیں پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں،جنہوں باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کا جغرافیہ بھی پاکستان کے حق میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ سوشل میڈیا کی زیادہ تر پوسٹیں وہی ہیں،جو پچھلے پانچ سال سے اپوزیشن کے دنوں میں لگائی جاتی تھیں، صرف ان میں صیغہ کا معمولی سا ردو بدل کیا گیا ہے۔

ان پوسٹوں کا جارحانہ لب ولہجہ ابھی تک اپوزیشن والا یا فاسٹ باؤلر والا ہی ہے، شائد اس سے یہ یاد رہتا ہے کہ عمران خان بنیادی طور پر فاسٹ باؤلر تھے۔

البتہ ایک چیز کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آ سکی کہ جب بھی باجی علیمہ خان کی کوئی نئی پراپرٹی سامنے آتی ہے تو ٹھک پوسٹ مریم نواز شریف کے خلاف کیوں لگ جاتی ہے؟ بالکل ایسے ہی جیسے روپے کی ڈی ویلیوشن اسد عمر کی وزارت میں ہوتی ہے، لیکن پوسٹ اسحاق ڈار کے خلاف لگتی ہے۔

مزید : رائے /کالم