بلاول بھٹو، مدبر رہنما کی بجائے اینگری ینگ مین کیوں؟

بلاول بھٹو، مدبر رہنما کی بجائے اینگری ینگ مین کیوں؟
بلاول بھٹو، مدبر رہنما کی بجائے اینگری ینگ مین کیوں؟

  

شیدے ریڑھی والے نے مجھے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ حیدر آباد کے علاقے کوٹری میں بلاول بھٹو زرداری نے جو خطاب کیا، اگر اُس کی تصویر نہ ہوتی تو اُس پر مولوی خادم حسین رضوی کا رنگ چڑھا محسوس ہو رہا تھا۔اُس کا کہنا تھا کہ بلاول بھی اسلام آباد پر چڑھائی اور وزیراعظم کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں،ایسی ہی دھمکیوں پر تو خادم حسین رضوی نظر بندی کے دن کاٹ رہے ہیں۔

یہ شیدے کا تاثر تھا، مگر اُس نے مجھے سوچ میں ڈال دیا کہ بلاول بھٹو زرداری کو کس راہ پر ڈال دیا گیا ہے یا وہ خود کس راہ پر چل نکلے ہیں۔اُن پر اینگری ینگ مین کا خطاب بھی آج کل کے حالات میں خوب جچے گا۔یہ کون لوگ ہیں، جو بلاول کو یہ لب و لہجہ دے رہے ہیں۔کوٹری میں تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری پورا زور لگا رہے تھے۔ لہجے میں گھن گرج پیدا کرنے کے لئے شاید ایڑیاں بھی اُٹھاتے ہوں۔

کیا اُنہیں اب جوشیلی تقریر کی باقاعدہ مشق کرائی جانے لگی ہے، کیا وہ ٹرینرز جو یہ سب کچھ سکھا رہے ہیں، اس بات سے آگاہ ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کے لہجے میں مولا جٹ کو حلول کر کے وہ اس نوجوان لیڈر کا امیج کس بُری طرح بگاڑ رہے ہیں، کیا پاکستان میں دھمکی آمیز لب و لہجہ کبھی کارگر ثابت ہوا ہے جو اب ہو گا۔ ایک دھیمے اور معصوم مزاج و لہجے کا نوجوان خواہ مخواہ اتنا زور لگا کر مصنوعی انداز اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کا کوئی فائدہ ہے اور نہ اس سے بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی قد کاٹھ میں کوئی اضافہ ہو سکتا ہے۔

میری اِس بات کو وہ لوگ زیادہ آسانی سے سمجھ سکیں گے،جنہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی اسمبلی میں پہلی تقریر سُنی۔ انگریزی میں ہونے کے باوجود یہ تقریر اتنی پُر اثر تھی کہ سب نے داد دی اور یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو زرداری واقعی مستقبل کا لیڈر ہے۔ اس تقریر میں بلاول کا لہجہ انتہائی نرم، گفتگو جچی تلی اور باتیں مفاہمانہ تھیں۔ ایک بار تو خود تحریک انصاف والے اُن کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے تھے، بڑھک مارنے کے لئے گیٹ اَپ بھی اُسی قسم کا چاہئے۔

بلاول بھٹو زرداری کے چہرے سے معصومیت عیاں ہے۔ خود چیف جسٹس ثاقب نثار بھی اُنہیں معصوم کہہ چکے ہیں۔ایسے میں وہ گلا پھاڑ کر جب دھمکی آمیز بڑھک مارتے ہیں تو وہ اُن کی شخصیت سے لگا نہیں کھاتی،صاف لگ رہا ہوتا ہے کہ اُن کے گلے میں کوئی اور بول رہا ہے، جو بات آصف علی زرداری کے لئے مناسب لگتی ہے، وہ بلاول بھٹو زرداری کے لئے انتہائی نامناسب نظر آتی ہے۔

پھر سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا امیج ایک برد بار سیاست دان کے طور پر اُبھرنا چاہئے۔ اُنہیں دیکھ کر پاکستانی سیاست میں تبدیلی کا احساس ہو۔ایک بات نہیں بھولنی چاہئے کہ انہوں نے مستقبل کی سیاست کرنی ہے، ماضی کی نہیں۔

اگر وہ ماضی کی الزاماتی اور گھسی پٹی سیاست میں پھنس جاتے ہیں تو اُن کا کوئی مستقبل نہیں، بلاول بھٹو زرداری کو تو بالکل کوئی جلدی نہیں ہونی چاہئے۔

وہ غالباً پاکستانی سیاست کے سب سے کم عمر پارٹی چیئرمین ہیں،انہیں پھونک پھونک کر سیاست کے خار زار میں آگے بڑھنا چاہئے۔ پیپلزپارٹی کے جو شہ دماغ اُنہیں بڑھک باز سیاست کی طرف دھکیل رہے ہیں وہ قطعاً اُن سے مخلص نہیں، حتیٰ کہ اگر آصف علی زرداری بھی یہ چاہتے ہیں کہ بلاول سر پر کفن باندھ کر میدان میں آ جائے اور تخت یا تختہ کی سیاست کرے تو وہ بھی اُنہیں صرف آج کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں، مستقبل کے تناظر میں نہیں۔

پیپلزپارٹی کو جس دن یہ بات سمجھ آ گئی کہ بلاول بھٹو زرداری کی اصل طاقت اُس کی معصومیت اور شفافیت ہے، بڑھک بازی نہیں اُس دن وہ یہ اُمید باندھ سکتے ہیں کہ بلاول صرف سندھ نہیں، بلکہ پورے پاکستان میں پیپلزپارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب رہیں گے۔

اب یہ جملہ بلاول بھٹو زرداری کو کس احمق تقریر نویس نے لکھ کر دیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو حکومت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیں گے۔کیا یہ پانی پت کی لڑائی کا زمانہ ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی ہو سکتی ہے۔

کیا سندھ سے لے کر اسلام آباد تک ایک صحرا ہے جسے عبور کر کے اسلام آباد پر چڑھائی کی جا سکتی ہے۔ایک پارلیمانی جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعت کے نوجوان قائد کو یہ کیا سکھایا جا رہا ہے، کیا ایسی دھمکیوں سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے، کوئی تبدیلی آ سکتی ہے، سوائے بلاول بھٹو زرداری کے شخصی امیج کی تباہی کے۔

یہ باتیں تو اُن کی والدہ محترمہ بھی نہیں کرتی تھیں،انہوں نے سیاسی جدوجہد ضرور کی، مگر ریلیف مانگنے کے لئے ایسی دھمکیاں کبھی نہیں دیں۔ پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ بلاول بھٹو زرداری آخر ریلیف مانگ کیا رہے ہیں، کیا وہ ای سی ایل سے اپنا نام نکلوانے کے لئے دھمکیاں دے رہے ہیں یا جے آئی ٹی رپورٹ میں اپنے والد، پھوپھی اور دیگر افراد کا نام آنے پر جز بز ہیں، کیا ایک ذاتی مسئلے کو وہ قومی مسئلہ بنا سکتے ہیں؟ کیا وہ اس نکتے پر تحریک چلا سکتے ہیں کہ اُن کا نام ای سی ایل میں کیوں ڈالا گیا ہے یا منی لانڈرنگ کیس کیوں بند نہیں کیا جا رہا۔سیاسی تحریکیں تو اجتماعی ایشوز پر چلتی ہیں،انہیں ذاتی مسائل پر کیسے چلایا جا سکتا ہے۔

یہ تو مرہٹہ دور کی روایت کو زندہ کرنے والی بات ہے کہ اگر ہمارے خلاف کارروائی بند نہ کی گئی تو دارالخلافہ پر حملہ کر دیں گے۔ ریلیف کے لئے عدالتیں کھلی ہیں اور خود چیف جسٹس اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا زبانی حکم دے چکے ہیں، ساتھ ہی اُنہیں ایک صاف ستھرے اور معصوم نوجوان کا خطاب بھی دیا ہے، جو اپنی والدہ کا مشن پورا کرنا چاہتا ہے۔ایسے سازگار حالات میں وہ کون ہے،جو بلاول بھٹو زرداری کو ایک ایسے سیاست دان کا چغہ پہنانا چاہتا ہے،جو ریاست مخالف ہے اور جس کا جمہوریت پر بھی ٹھوس یقین نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور اُن کے امیج سازوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ لیڈر کی شخصیت کا تاثر اُس کے سیاسی کیریئر میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اُس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بے نظیر بھٹو کے دورِ حکمرانی میں آصف علی زرداری کا جو امیج بنا اور کرپشن کے الزامات اُن کی شخصیت کا جس طرح احاطہ کئے رہے، اُس نے پیپلزپارٹی کو اِس حالت تک پہنچایا ہے کہ آج وہ دیہی سندھ کی پارٹی بن چکی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اگر پارٹی کو اِس دلدل سے نکالنا ہے تو اپنے دامن کو بچا کے آگے بڑھنا ہو گا۔

اُن کا جو لب و لہجہ ہے وہ اُن کے راستے کی بڑی دیوار بن سکتا ہے۔ انہوں نے اگر مزاحمت کی بات کرنی بھی ہے تو جمہوریت کے دائرے میں رہ کر کریں۔ پارلیمینٹ کے اندر اور باہر پُرامن احتجاج کا راستہ اپنائیں۔ پورے نظام ہی نہیں ،پورے مُلک کو تہہ و بالا کرنے کی بڑھکیں اُن کے لئے کوئی اچھا تاثر نہیں لا سکتیں۔یہ کام تو آصف علی زرداری بڑے جوش و جذبے سے کر رہے ہیں،اُنہیں کرنے دیں۔

وہ پہلے بھی اینٹ سے اینٹ بجانے کا بیان دے کر اُس کا نتیجہ بھگت چکے ہیں۔ ایک بار پھر یہ کر رہے ہیں تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں، وہ جیل بھی چلے جائیں گے تو کسی کو حیرت نہیں ہو گی۔البتہ بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر ہو گی، کیونکہ اُن کی سیاست ابھی بے داغ ہے۔ اس بے داغ سیاست کو مولا جٹ فیم بڑھکوں سے داغدار کرنے کی کوشش خسارے کا سودا ہے۔

مُلک میں اس وقت جو احتساب جاری ہے، وہ دھمکیوں سے رکنے والا نہیں۔ اُس کے لئے صرف قانونی عمل ہی کارگر ثابت ہو سکتا ہے،اِس لئے بلاول بھٹو زرداری جلسوں میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے اپنی پارٹی کو عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے کا راستہ دکھائیں تاکہ اُن کا سیاسی امیج ایک اینگری ینگ مین کی بجائے قانون پسند رہنما کے طور پر اُبھر سکے۔

مزید : رائے /کالم