قومی ہاکی کوچ کی وفاقی حکومت سے فنڈز دینے کی اپیل

قومی ہاکی کوچ کی وفاقی حکومت سے فنڈز دینے کی اپیل

اسلام آباد(اے پی پی)قومی ہاکی ٹیم کے سابق کوچ اور اولمپین شہناز شیخ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کی پروہاکی لیگ کے ابتدائی ایڈیشن میں شمولیت کے لیے ضروری فنڈز فراہم کرے لیکن اس سے پہلے موجودہ ہاکی فیڈریشن کو تحلیل کرے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’’میڈیا‘‘ سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فیڈریشن نے پرو ہاکی لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت سے نہیں پوچھا اس لیے حکومت سے اپیل ہے کہ موجودہ انتظامیہ کو تحلیل کر کے اس کی جگہ نئی انتظامیہ لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پرو ہاکی لیگ میں شمولیت کے لیے ایف آئی ایچ کو جو یقین دہانی کرائی تھی اس کو پورا کرنا چاہیے کیونکہ یہ ملک کی عزت کا معاملہ ہے۔ پرو ہاکی لیگ جو کہ 2020ء اولمپک کے لیے کوالیفائنگ ایونٹ ہے، میں 9 ٹیمیں حصہ لیں گی، چھ ماہ تک جاری ہونے والی پروہاکی لیگ اس ماہ کے آخر میں شروع ہو رہی ہے۔ شیڈول کے مطابق عالمی نمبر 12 پاکستان اپنا ابتدائی میچ عالمی نمبر 4 ارجنٹائن کے خلاف کھیلے گا، اگرچہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ابتدائی 38 کھلاڑیوں کو شارٹ لسٹ کر لیا ہے مگر کچھ حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈریشن فنڈز کی کمی کے باعث اس ایونٹ سے دستبرداری کا سوچ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ایونٹ میں شمولیت کے لیے پاکستانی ٹیم کو 30 کروڑ روپے کی خطیر رقم چاہیے کیونکہ ہر میچ پر تقریباً 3 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی اور پاکستان ایونٹ میں تقریباً 9 سے 10 میچ کھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ مالی خسارے کا شکار فیڈریشن نے لیگ میں شامل ہونے سے قبل اس بارے میں کچھ نہیں سوچا،لیگ میں شمولیت کے حوالے سے پی ایچ ایف کے ایگزیکٹو بورڈ میں بحث ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب ہماری ٹیم کو ایونٹ میں جانا چاہیے کیونکہ اس کا شیڈول اور ویونیوز کا اعلان ہو چکا ہے اور اگر پاکستان اس وقت ایونٹ سے دستبردار ہوتا ہے تو ٹورنامنٹ کی ساری تشکیل خراب ہو جائے گی ۔

اور اس سے دنیا میں پاکستان کے حوالے سے غلط پیغام جائے گا۔ شہناز شیخ نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس بنیاد پر فیڈریشن نے لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا،اول تو فیڈریشن کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ ایک نئی ٹیم تیار کر رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ نئی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیموں کو ہرا کر 2020ء اولمپک کے لیے کوالیفائی کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس ایونٹ میں حصہ نہیں لیا کیونکہ انہوں نے جائزہ لے لیا تھا، لیگ میں شمولیت سے اولمپکس میں شمولیت کے چانسز بہت کم ہیں جبکہ ہاکی سیریز کے ذریعے ایسا ممکن ہے کہ یہاں پر لو رینکنگ کی ٹیمیں کھیل رہی ہیں، 11 ملکوں کے 20 مقامات پر پرو ہاکی لیگ کھیلی جائے گی جس میں پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، جرمنی، ارجنٹائن، بیلجیئم، ہالینڈ، برطانیہ، سپین اور نیوزی لینیڈ کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی