غازی آباد ،منشیات فروشوں کی اندھا دھند فائرنگ خاتون سمیت 4شہری زخمی ،اہل علاقہ کا شدید احتجاج

غازی آباد ،منشیات فروشوں کی اندھا دھند فائرنگ خاتون سمیت 4شہری زخمی ،اہل ...

رپورٹر)غازی آباد کے علاقہ میں منشیات فروشوں نے فائرنگ کرکے خاتون سمیت 4شہریوں کو زخمی کردیا۔ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ سے علاقہ میں خوف وہراس پھیل گیا،پولیس نے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔واقعہ کے بعد شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقہ میں شراب فروشی، منشیات فروشی پولیس کی سرپرستی میں ہورہی ہے،ہر گلی محلے میں شراب فروخت ہورہی ہے مگر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ، پولیس شراب فروشوں سے ماہانہ لیکرسب اچھا ہے کی رپورٹ جاری کررہی ہے شہریوں کا سی سی پی او لاہور ، ڈی آئی جی آپریشن لاہور، ایس ایس پی آپریشن لاہور سے غازی آباد میں شراب فروشوں اورمنشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاون کرنے کامطالبہ۔تفصیلات کے مطابق غازی آباد کے علاقہ تاج پورہ گجا پیر کے علاقہ میں منشیات فروشوں نے منشیات فروشی سے منع کرنے پر محلے داروں پر فائرنگ کردی جس سے طاہرہ بی بی،اعظم علی،اختر اور قادر زخمی ہوگئے،اندھا دھند فائرنگ سے علاقہ میں شدید خوف وہراس پھیل گیا،واقعہ پر موجود دیگر افراد نے لیٹ کر اور بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں،اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی تاہم اس دوران ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔پولیس نے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرتے ہوئے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے،مقدمہ شہری محمد اقبال کے بیان پر ملزمان علی ،منصف،صغیر اور اللہ رکھی کے خلاف درج کیا گیا ہے،واقعہ کا مقدمہ زیر دفعہ 324درج کیا گیا ہے،پولیس زرائع کے مطابق واقعہ میں ملوث ایک پولیس کانسٹیبل کو حراست میں لیا گیاہے جس پر الزام ہے کہ ملزمان نے فائرنگ اس کے کہنے پر کی ہے اور وہ شراب فروشوں کی سرپرستی کرتا ہے۔پولیس کے مطابق مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔فائرنگ کے واقعہ کے بعد اہل علاقہ کی بڑی تعداد اکھٹی ہوگئی اور انہوں نے پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا،مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقہ میں منشیات فروشی کا کام پولیس کی سرپرستی میں ہورہا ہے،ہر گلی محلے میں شراب ،چرس اور دیگر منشیات فروش ہورہی ہیں مگر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،مظاہرین نے اس موقع پر پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی۔شہریوں کا کہنا تھا کہ غازی آباد ایس ایچ اواور دیگر عملہ شراب فروشوں کی سرپرستی کرتا ہے اگر ان کے خلاف آپریشن نہ کیا گیا تو وزیر اعلی پنجاب کے دفتر کے باہراحتجاج کرنے پرمجبور ہونگے۔

مزید : علاقائی