انسداد پولیو میں پاکستان کی پیشرفت بہتر خاتمے کیلئے مزید جدوجہد کی ضرورت

انسداد پولیو میں پاکستان کی پیشرفت بہتر خاتمے کیلئے مزید جدوجہد کی ضرورت

اسلام آباد (این این آئی)ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ ( TAG) برائے انسدادِ پولیو نے تکنیکی مشاورتی پروگرام کے اختتام پر پولیو کے انسداد کے سلسلے میں پاکستان کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جہاں تک پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کا تعلق ہے، وائرس کے مکمل خاتمے کے لئے غیر معمولی جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ پولیو وائرس کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ممکن ہوسکے۔ انسدادِ پولیو کے لئے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کا اجلاس منعقد ہوا جس کا مقصد پاکستان میں انسدادِ پولیو پروگرام کی پیش رفت، مواقع اور پروگرام کو درپیش خطرات کا جائزہ لینے کے علاوہ ان مسائل کے حل پر غور کرنا تھا جو پولیو وائرس کی منتقلی کا باعث بن رہے ہیں اور روک تھام کی راہ میں حائل ہیں۔ اجلاس کے اختتامی سیشن کے دوران ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے واضح کیا کہ انسدادِ پولیو پروگرام کی رفتار اور حکمت عملی تسلی بخش ہے ٗ پروگرام درست سمت میں اپنے اہداف کی طرف آگے بڑھ رہا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان میں پولیو کا مکمل خاتمہ ہوجائیگا۔ اجلاس کے شرکا میں حکومتی نمائندوں کے علاوہ بین الاقوامی سطح کے ماہرین نے شرکت کی، ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر ڑال مارک آلیو نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے اقتدار کی منتقلی کے باوجود پولیو کے انسدادِ کے سلسلے میں پاکستان کے مسلسل عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ موجود ہ حکومت کیغیر معمولی سیاسی عزم کے ہوتے ہوئے ایمرجنسی آپریشن سنٹرز کے پاس بہترین موقع ہے کہ وہ مستقبل قریب میں پولیو کا مکمل خاتمہ کرسکتا ہے۔ پولیو کے خاتمے کا یہ عظیم کام اسی طرح جاری رکھیں اور پاکستان کو پولیو سے پاک کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں۔ کراچی اور پشاور انسدادِ پولیوپروگرام کی توجہ کا مرکز ہیں اور یہی وہ مقامات ہیں جو اضافی کاوشوں اور جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ خسرے کی حالیہ کامیاب مہم پر جس میں 38 ملین بچون کو اس مہلک بیماری سے بچایا گیا، حکومت پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ نے اس بات پر زور دیا کہ خاص طور پر کراچی، پشاور اور کوئٹہ بلاک کے ان علاقوں پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے جہاں پولیو وائرس نہ صرف موجود ہے بلکہ منتقل ہورہا ہے۔ شرکا میں ڈائریکٹر جنرل صحت ڈاکٹر اسد حفیظ، صوبائی حکومت کے نمانئدے وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے صحت حنیف خان پتافی ، وزیر صحت صوبہ سندھ ڈاکٹر فضل پیچوہو، وزیر صحت صوبہ بلوچستان میر نصیب اللہ خان، سیکرٹری صحت خیبر پختونخواہ ڈاکٹر فاروق جمیل؛ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر نائمہ سعید عابد اور یونیسف پاکستان کی نمائندہ مس عابدہ گرمہ بھی شامل تھیں۔

مزید : علاقائی