پاکستان’’نفسیاتی قیدی‘‘ کی سزائے موت روکے، اقوام متحدہ

پاکستان’’نفسیاتی قیدی‘‘ کی سزائے موت روکے، اقوام متحدہ

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک )اقوام متحدہ کے ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے ذہنی بیماری میں مبتلا قتل کے مجرم سابق پولیس افسر کو ’پھانسی‘ دینے سے گریز کیا جائے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ روز خضر حیات کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دی تھی اور کیس کی سماعت آج مقرر کی تھی۔خضرحیات نے 2003 میں اپنی ساتھی پولیس اہلکار کو قتل کردیا تھا۔اس سے قبل لاہور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ذہنی مرض شیزو فرینیا (جس میں مریض کی شخصیت بے ربط، منتشر ہوجاتی ہے) میں مبتلا سزائے موت کے قیدی خضر حیات کو تختہ دار پر لٹکانے کی تاریخ کل 15 جنوری مقرر کی۔جسٹس پراجیکٹ پاکستان نامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق سپریم کورٹ آج خضرحیات کی موت سے متعلق سماعت میں فیصلہ کرے گی۔اقوام متحدہ کی ماہر برائے ماورائے عدالتی قتل اینجی کالامرڈ اور معذور افراد کے حقوق کی خصوصی نمائندہ کیٹیالینا ڈیونڈاس نے کہا ’ذہنی بیماری میں مبتلا شخص کی سزائے موت کا فیصلہ پاکستان کے عالمی قوانین کے منافی ہے۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ خضر حیات کی سزائے موت پر عمل درآمد روکے۔خیال رہے خضرحیات قتل کے جرم میں 15 برس سے زائد عرصہ جیل میں کاٹ چکا ہے اور 2012 سے انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا۔

اقوام متحدہ

مزید : صفحہ آخر