روزگار نہ ہو تو علوم بھی دفن ہو جاتے ہیں : پروفیسر شاہزیب خان

روزگار نہ ہو تو علوم بھی دفن ہو جاتے ہیں : پروفیسر شاہزیب خان

لاہور(سٹی رپورٹر )دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں نعیمیہ انٹیلیکچوئل فورم کے زیر اہتمام ڈاکٹر سرفراز نعیمی انسٹیٹیوٹ برائے امن، تعلیم اور تحقیق میں ’’سامراج اور شناخت کی سیاست‘‘ کے عنوان سے ورکشاپ میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ریسرچ سکالر، کا لمنسٹ اینڈ اسسٹنٹ پروفیسر پنجاب یونیورسٹی شاہزیب خان نے کہا کہ’’ جب روزگار نہ ہو تو علوم بھی دفن ہو جاتے ہیں‘‘ ورکشاپ میں جامعہ نعیمیہ ، پنجاب یونیورسٹی اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طلباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر شاہزیب خان نے مزید کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں انگریز سرکار نے مقامی نسل کی سوچ کومفلوج کرنے اور غلام بنانے کے لیے’’ محدودتعلیمی نظام‘‘ کا سہارا لیا۔ برصغیر میں انگریز کی آمد سے قبل برصغیر کو پوری دنیا میں سونے کی چڑیا کہا جاتا تھا۔ موجود میں مذہبی تعلیمات پر درست عمل درآمد اور جدید فکری رحجانات کو پروان چڑھانے کے ساتھ ساتھ بنیادی تعلیمی نظام کی سمت کا تعین کرتے ہوئے نہ صرف انتظامی معاملات میں اقوام مغرب ہم سے آگے ہیں بلکہ ہمیں’’درس‘‘ دیتی ہیں جبکہ ہمارے پاس تو خود دینِ اسلام کی تعلیمات کی صورت میں زندگی گزارنے کا ایک بہترین نظریہ اور نمونہ موجود ہے۔ سو فیصد نتائج حاصل کرنے کیلئے ان تعلیمات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔

Ba

مزید : میٹروپولیٹن 1