کوئی سفاد پھیلانے سندھ آئے گا توآہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے : مراد علی شاہ

کوئی سفاد پھیلانے سندھ آئے گا توآہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے : مراد علی شاہ

سکھر(مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کوئی فساد پھیلانے سندھ میں آئے گا تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، ہم نے شرپسندوں کا مقابلہ کیا، چھوٹے موٹے فسادی کچھ نہیں کرسکیں گے۔سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں کسی کے آنے پر پابندی نہیں لگا رہے ، جو آرہے تھے وہ خود آتے آتے رک گئے، پورا ملک وزیراعظم کا ہے، جہاں چاہیں آئیں جائیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک پارٹی قیادت اور عوام چاہیں گے، سندھ حکومت قائم رہے گی اور میں وزیراعلیٰ رہوں گا، ای سی ایل میں نام ہونے پر مجھے کوئی فکر اور پرواہ نہیں، ہمیں عدالتوں پر پورا یقین ہے کہ ریلیف ملے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ لوگ مجھے سرکاری دورے پر جانے سے نہیں روک سکتے اور میرا فی الحال کہیں جانے کا کوئی ارادہ بھی نہیں، البتہ حج اور کربلا سے بلاوا آیا تو مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کسی کی بھی سندھ کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہو سکتیں، اپوزیشن کا اکٹھا ہونا یا اتحاد بنانا پارٹی قیادت کا فیصلہ ہوتا ہے، ملک اور خاص کر سندھ کے عوام آصف زرداری پر یقین رکھتے ہیں۔مراد علی شاہ نے ایک سوال پر کہا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے پارٹی مؤقف سامنے آچکا ہے، سندھ حکومت نے پولیس اور فوج کی مدد سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت میں اہلیت، پالیسی اور رویے کا فقدان ہے اس کے باوجود وسط مدتی انتخابات کے حق میں نہیں ہوں۔ جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کام کرنے دیں، ان ہاؤس تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں تاہم مہنگائی اور عوامی مسائل پر قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور اب دیکھیں گے فوجی عدالتوں کی ضررورت ہے بھی یا نہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف کی تباہی کی وجہ پارلیمان کا راستہ بھول کر باہر کا راستہ پکڑنا ہے اور عمران خان کو جس طرح سیٹیں ملیں اس لیے وہ درست کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ جعلی ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ بلاول بھٹو اور مرادعلی شاہ کا نام ای سی ایل سے نہ نکال کر حکومت نے سپریم کورٹ کو چیلنج کیا، زرداری صاحب یا ہماری باتوں سے کہاں لگتا کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ 30 پنچر کی بات کی گئی تھی ہم نیکھولے تو 60 پنچر سامنے آجائیں گے، حلقے کھولنے کے لیے اب تک کوئی کمیٹی نہیں بیٹھی، ایسے مینڈیٹ کے باوجود ہم نے حکومت کو دعوت دی آئیں کام کریں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر بدھ کو وہ آکر پارلیمنٹ میں جواب دیں گے تاہم 5 مہینے گزر گئے مگر وہ پارلیمنٹ میں نہیں آئے، وزیراعظم کی گمشدگی کے لیے اشتہار دینا پڑے گا۔صوبائی وزیر جیل خانہ جات اور رہنما پی پی ناصر شاہ نے پاکستان تحریک انصاف کے خفیہ بینک اکاؤنٹس سامنے آنے پر ان کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے ا?ئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کردیا۔سکھر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا قانون حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں، حکومتی لوگوں کے نام بھی ایگزٹ کنڑول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالے جائیں ۔ علیمہ خانم کے پاس اتنی دولت کہاں سے آئی، اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں ہے۔ نیب کا وفاق میں موجود اپوزیشن اراکین اور حکومتی اراکین کے ساتھ رویہ علیحدہ علیحدہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا حکومتی اراکین کے خلاف بھی نیب تحقیقات کر رہا ہے جبکہ وزیرِاعظم عمران خان کیخلاف بھی نیب ریفرنسز دائر ہیں۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کی واضح نفی کررہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ علیمہ خانم کی جائیداد اور پی ٹی آئی کے جعلی اکاؤنٹس پر بھی جے آئی ٹی بنائی جائے۔بعدازاں کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں ناصر شاہ کا کہنا تھا چیئر مین پیپلز پارٹی بلال بھٹو زرداری نے صوبائی حکومت کے قیام کے بعد ہی اپنے وزرا پر واضح کر دیا تھا اور کہا تھا وہ ان کی کارکردگی دیکھیں گے۔ آج ہونے والے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری صوبائی کابینہ کے وزرا کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ بہت سے ’بونے‘ اپنا قد بڑھا نے کیلئے آصف علی زرداری کیخلاف باتیں کرتے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما کرم شیرزمان نے سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے سب کچھ کیا۔جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ پیپلزپارٹی کی قیادت سے منسوب کرکے ان کا میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ میں عوامی مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے لیکن پی ٹی آئی کے شعبدے باز سندھ حکومت کیخلاف منفی باتیں کر رہے ہیں۔تجاوزات کیخلاف جاری آپریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکا کہنا تھا غیرقانونی تعمیرات کی آڑ میں بہت سارے لوگوں کو لپیٹ میں لیا گیا ۔دریں اثناء پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی کی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے پارلیمانی لیڈر پنجاب حسن مرتضی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاپی ٹی آئی کا الیکشن منشور کرپشن کیخلاف نعرا تھا،ان کا نعرہ دو نہیں ایک پاکستان کا تھا،حکومت میں آکر کرپشن کے معاملے میں ان کے دو ہرے معیار ہیں،چھ ماہ میں کون سی حکومت دوسرا بجٹ دیتی ہے ،تیاری نہیں تھی تو قوم اورپارلیمنٹ کاٹائم کیوں ضائع کیا ،عمران خان روزانہ قرضوں کا حساب بتاتے تھے ،اب بھی ایک تقریر کر کے قوم کو بتا دیں کہ چھ ماہ میں کتنے قرضے لئے ہیں ، عمران خان کی طرح پارلیمنٹ پر چڑھائی نہیں کریں گے،وزیراعظم عمران خان ،علیمہ خان ، جہانگیر ترین اور عبدلعلیم خان سمیت سب کیخلاف عدالت سمیت ہر فورم پر جائیں گے،سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہماری قیادت کے نام ای سی ایل سے نہیں نکال رہی ۔ علیمہ خان کی 450 ملیں ڈالرز کی پرا پر ٹی نیوجرسی میں نکلی یہ ملکیت 2017 میں ایمنسٹی سکیم کے تحت ظاہر کی ۔علیمہ خان وزیراعظم کی بہن اور شوکت خانم کے چندے کی رکھوالی ہیں کیا اس معاملے کا کی تحقیقات کا مطالبہ جائز نہیں ، اس کا تعلق بتایا جائے۔سندھ میں تو بلاول ہاؤس کے کیک کا بھی حساب بتایا گیا ۔ دوسری نیکسز جہانگیر ترین کا ہے ، پانچ سال کے پی کے ٹھیکوں کا ہے ان کی انکوائری کی جائے۔پارٹی فنڈنگ کے جعلی اکاؤنٹس کا معاملا بھی سامنے آ گیا۔نیویارک کی املاک کی تو بات کرتے ہیں، نیوجرسی کا کیوں نہیں۔شہزاد اکبر نے جن 800 پراپرٹیز کی بات کی ان میں علیمہ خان کا نام بھی تھا۔شہزاد اکبر نے علیمہ خان کا نام نہیں لیا۔ڈیسکون کو ٹھیکہ دینے پر شہزاد اکبر کہتا ہے سپریم کورٹ نوٹس لے۔ وزیرداخلہ شہریار آفریدی اسلام آباد میں منشیات کی بات کرتا ہے جبکہ اس کا اپنا بھتیجا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث پایا گیا۔ فواد چودھری دوسروں کو چور ڈاکو کہتا رہا اور حامد خان نے خود اسے کیا کہتے رہے وہ بھی سنیں۔ای سی ایل کا شوشا شروع ہوا تو جے آئی ٹی کی سیکریٹ رپورٹ پر 172 نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہماری قیادت کے نام ای سی ایل سے نہیں نکال رہی جبکہ اپنے چہیتے لیاقت جتوئی کو تحقیقات میں ہونے کے باوجود ای سی ایل سے نکال دیا۔دو پاکستان ہم برداشت نہیں کریں گے ۔ا نہوں نے کہاکہ ایک بار پھر وزیر خزانہ نے تیسرا یو ٹرن لیا ہے اب کہتے ہیں آئی ایم ایف میں نہیں جا رہے مگر دوسرا بجٹ دے رہے ہیں،چھ ماہ میں کونسی حکومت دوسرا بجٹ دیتی ہے یہ بجٹ ان کے اپنے پہلے والے بجٹ سے یوٹرن لیں گے۔ان کی تیاری نہیں تھی تو قوم کا پارلیمنٹ کاٹائم کیوں ضائع کیا ۔ آئی ایم ایف کی شرائط پہلے ہی مان لی، روپے کی قدر گرا دی اس سال مہنگائی ڈبل ڈجیٹ میں جائے گی۔ا نہوں نے کہاکہ اگر یوٹرن لینے تھے تو انٹرسٹ ریٹ کیوں بڑھائے،اتنی غیریقینی ہے کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے قرضے 2.5 ٹریلین کے قرضے بڑھا دئیے ۔

پیپلز پارٹی

مزید : صفحہ اول