حکومت چلائی نہیں جا رہی تو تحریک انصاف جس راستے سے آئی واپس چلی جائے : مسلم لیگ (ن)

حکومت چلائی نہیں جا رہی تو تحریک انصاف جس راستے سے آئی واپس چلی جائے : مسلم ...

لاہو(جنرل رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )مسلم لیگ (ن) کے رہنما مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم نے بجلی کا مسئلہ سلجھا دیا تھا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اسے دوبارہ کھڑا کردیا ہے۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پانچ ماہ میں بھی حکومت فیصلہ نہیں کرسکی کہ آئی ایم ایف میں جانا ہے یا نہیں، ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ گئی ہے۔لیگی رہنما نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت ملک کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے، پی ٹی آئی رہنما ملک کے ساتھ بہت ناانصافی کر رہے ہیں، ملک میں لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اور نااہلی کی وجہ سے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ 14 سو ارب کے قرضے اسٹیٹ بنک سیلیے، ، 1400 ارب اسٹیٹ بینک سے لینے کا مطلب ہے کہ نوٹ چھاپے گئے ہیں، گروتھ ریٹ 6 فیصد سے کم ہو کر 3 فیصد تک آگیا ہے۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ نیب سے اچھے ماحول میں بات ہوئی، کوئی غیر معمولی سوال نہیں پوچھا گیا، مجھے ایک سوالنامہ دیا گیا ہے اس کا جواب جمعے تک جمع کراؤں گا تاہم یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ یکطرفہ احتساب ہورہا ہے۔فوجی عدالتوں سے متعلق مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت فوجی عدالتوں میں توسیع کی وجوہات پر مطمئن کرسکی تو ساتھ دیں گے اور اس معاملے پر پارلیمنٹ میں ہی بات ہوگی۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو حکومت چلانی نہیں آتی تو چھوڑ دیں اور جس راستے سے آئے ہیں اس راستے سے واپس چلے جائیں ،ہم نے انہی قرضوں کے ساتھ حکومت چلائی ہے اور ترقی کی شرح کو 6فیصد پر لے کر گئے ،دنیا میں ہی شاید کوئی حکومت ہو جس کے چھ ماہ میں تین بجٹ آئے ہوں ، موجودہ حکومت نے چھ ماہ میں 11ارب ڈالر کے قرضے لئے ہیں اور اس پر تالیاں بجائی جارہی ہیں ، انکے قرضے حلال ہیں جبکہ ہمارے قرضوں کو حرام قرا ردیا جارہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الحمرا میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مصدق ملک نے کہا کہ حکومت نے بے جا غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے ، شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جہاں چھ ماہ میں تین بجٹ آئے ہوں ، جس نے سرمایہ کاری کرنی ہے اسے کیسے پتہ چلے گا کہ اس نے سال کے آخر میں کتنا ٹیکس دینا ہے ، اس نے اپنے پلانٹس کیلئے جو خام مال منگوانا ہے اس پر ڈیوٹی کتنی ہو گی ، جب سرمایہ کاری نہیں ہو گی تو پھر نوکریاں بھی نہیں ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے موٹر ویز کا منصوبہ شروع کیا، بجلی کے کارخانے لگائے ، گوادر پورٹ ، گوادٹ ائیر پورٹ کے منصوبوں سے سول ورکس کے منصوبے شروع ہوئے جس سے کم پڑھے لکھے ہنر مندوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر روزگار میسر آیا ، ہمارے ان اقدامات سے ریمورٹ ایریاز میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ، ہمارے منصوبے انصاف پر مبنی تھی جس میں کم ترقی یافتہ بلوچستان او رخیبر پختوانخواہ کی ترقی کے منصوبے شامل تھے ،اس کے لئے ہم نے سی پیک کو مغربی علاقوں کے ذریعے گوادر پورٹ سے ملایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقی کی شرح کو 5.8فیصد پر لے گئے اور امید تھی کہ ہم اسے سوا 6 فیصد پر لے کر جائیں گے لیکن آج کی حکومت کہہ رہی ہے کہ ترقی کی رفتار3 سے 4 فیصد ہو گی کیا اس سے لوگوں کو روزگار ملے گا ۔ ہم نے جو قرضے لئے ہیں ہم نے 11ہزار میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی ، گیس کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے ،ان کے بقول کہ ہم نے پانچ سالوں میں26ارب ڈالر کا قر ض لیا اور اس سے منصوبے لگائے جس کا مطلب ہے کہ ہم نے ہر سال پانچ ارب ڈالر لگائے لیکن انہوں نے صرف چھ مہینوں میں 11ارب ڈالر کا قر ض لے لیا ہے ، ہمارے قرض پر تھوں تھوں جبکہ اپنے قرض پر تالیاں بجائی جاتی ہیں ، یہچین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے قرض لیں تو حلال ہے او رہم قرض لیں تو حرام ہے ۔ وزیر خزانہ کے مطابق انہیں دوست ممالک سے قرض مل گیا ہے تو پھر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صحت کے بجٹ میں 14ارب کا جو کٹ لگایا گیا وہ پیسے واپس کریں ، آپ کہتے تھے کہ ہم ڈویلپمنٹ پر خرچ کریں گے اگر اب آپ کے پاس پیسے آ گئے ہیں تو صحت کے شعبے کے14ارب روپے واپس کئے جائیں، اسی طرح ہائیر ایجوکیشن اور جنرل ایجوکیشن کی مد میں کاٹا گیا 7ارب کا بجٹ واپس کریں ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بجٹ میں کٹوتی کیا گیا تین ارب روپے بھی واپس کیا جائے ، آپ کہتے کہ پانی کے لئے چندہ دو لیکن آپ نے پانی کی وزارت کے بجٹ میں ایک ارب روپے کا کٹ لگایا ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ عوامی بجٹ ہونا چاہیے اور ایسا نہ ہو کہ عوام پر منشاء بم کی طرح کا کوئی بم گرا دیا جائے ۔ آپ نے گیس کی قیمتوں میں 200فیصد اضافہ کیا آپ عوام کو ریلیف دیں گے ، اگر آپ کو حکومت چلانی نہیں آتی تو چھوڑ دیں اور گھر چلے جائیں، ہم نے انہی قرضوں کے ساتھ حکومت چلائی تھی اور ترقی کی شرح 6فیصد تھی ، ہم نے مہنگائی کی شرح کو 4فیصد سے بڑھنے نہیں دی تھی ، آپ جس راستے سے آئے ہیں اسی راستے سے واپس چلے جائیں ۔ سابق وفاقی وزیر اور رہنما مسلم لیگ ن احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت میں شامل مفاد پسند سی پیک پرغیر ضروری تنازعات پیدا کر رہے ہیں ہمیں قومی منصوبوں کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے ادائیگیوں کے توازن کا بحران سی پیک کے باعث پیدا نہیں ہوا۔اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ سیاسی غیر یقینی سیاربوں ڈالرز کی غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہوئی موجودہ حکومت کو علم ہو چکا کہ سی پیک منصوبے شفاف تھے ہمیں قومی منصوبوں کو متنازع نہیں بنانا چاہیے حکومت میں شامل مفاد پسند سی پیک پرغیر ضروری تنازعات پیدا کر رہے ہیں ادائیگیوں کے توازن کا بحران سی پیک کے باعث نہیں بلکہ (ن) لیگ کو ہٹانے کیلیے رچائے گئے ڈرامے کی وجہ سے پیدا ہوا لیگی رہنما رانا ثنا اللہ خان نے نیب ہر جانبدارانہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شہباز شریف کو گرفتار کیا جا سکتا ہے تو عمران خان اور پرویز خٹک کو کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ نے الزام لگایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا کردار جانبدارانہ ہے اور ادارہ ہمارے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے، چیئرمین نیب سے ملاقات کے دوران اپنے تحفظات سامنے رکھیں گے۔ شریف برادران قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، سرخرو ہونگے۔لیگی رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ وزیر اطلاعات فواد چودھری صبح وشام میاں برادران کیخلاف الزام لگاتے ہیں لیکن علیمہ خان کی پراپرٹی کا حساب نہیں دیا جا رہا۔ صدقہ، زکواۃ، خیرات کے پیسوں سے یورپ میں پراپرٹی خریدی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم کا اعلان (ن) لیگ کی حکومت نے کیا، وزیراعظم عمران نے کہا تھا کہ جو اس سکیم سے فائدہ اٹھائے گا وہ چور اور ڈاکو ہوگا۔ علیمہ خان اسی ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئیں۔وزیر ریلوے شیخ رشید کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کو اگر اختلاف ہے تو استعفیٰ دیں،عدالت جانا چاہیے، پی اے سی کا چیئرمین بنانا حکومت کا فیصلہ ہے، شیخ رشید کو اگر اعتراض ہے تو وہ سب سے پہلے استعفیٰ دیں اور عدالت میں پیش ہوں۔

مسلم لیگ ن

مزید : صفحہ اول