ججز کی تقاریر براہ راست دکھانا ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے، جسٹس اطہر من اللہ

ججز کی تقاریر براہ راست دکھانا ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے، جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد(اے این این ) چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر ججوں کی تقریر کی براہ راست کوریج اور بعد میں اس کا نشر ہونا منصف کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز کے لیے لیڈرشپ اور مینجمنٹ پر 6 روزہ تربیتی کورس کی تقریب تقسیم اسناد کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو براہ راست کوریج سے منع کرتے ہوئے انہیں بعد میں نشر کرنے کے لیے تقریر ریکارڈ کرنے سے بھی روک دیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے بطور مہمان خصوصی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان سے ڈسٹرکٹ عدلیہ کے 25 سربراہاں کو سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جج کی تقریر کو براہ راست دکھانا یا بعد میں نشر کرنا اعلی عدلیہ کے ججز کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔اپنے خطاب کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے قیادت اور انتظامی تربیت بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک موثر لیڈر بننے کے لیے یہ ضروری ہے تاکہ اپنے ادارے میں ایک اثر پیدا کیا جاسکے، ایک اچھا رہنما سماجی تبدیلیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بناسکتا ہے جبکہ ایک اچھا رہنما سب سے پہلے اپنے گھر کو ترتیب دیتا ہے۔

اطہر من اللہ

مزید : صفحہ اول