قیادت کا نام ای سی ایل سے نہ نکال کر حکومت نے سپریم کورٹ کو چیلنج کیا ہے : خورشید شاہ

قیادت کا نام ای سی ایل سے نہ نکال کر حکومت نے سپریم کورٹ کو چیلنج کیا ہے : ...

سکھر(بیورو رپورٹ )پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنمااور سابق قائدحزب اختلاف سیدخورشیداحمد شاہ نے کہا ہے کہ پانچ مہینے گزر گئے ہیں لیکن وزیر اعظم پارلیمنٹ میں نہیں آئے اور اب کی گمشدگی کے لیے اشتہار دینا پڑے گا کہ نوجوان، خوبصورت، سمارٹ شکل والا شخص کسی کو نظر آئے تو وہ اس پارلیمنٹ چھوڑ جائیں،بلاول بھٹو اور مرادعلی شاہ کا نام ای سی ایل سے نہ نکال کر حکومت نے سپریم کورٹ کو چیلنج کیاہے،عوام موجودہ حکومت سے ایک بھی نوکری کی توقع نہ کرے جب کہ 20 لاکھ روپے میں کون غریب گھر خریدے گا، لوگ سلطان راہی کی طرح بڑھکیں پسند کرتے ہیں، علیمہ خان کی جائیداد کے بارے میں عمران خان کو وضاحت دینا ہوگی،حکومت میں اہلیت، پالیسی اور رویئے کا فقدان ہے لیکن وہ مڈٹرم الیکشن کے حق میں نہیں ، مہنگائی اورعوامی مسائل پر قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوارکو سکھرمیں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ نے کہاکہ سیاست گالم گلوچ نہیں،خدمت کانام ہے بلکہ یہ ایک عبادت ہے لیکن ہم سیاستدان انتخابات میں آکر بڑے دعوے کرتے جاتے ہیں اور ذات اور برادری کے چکر میں کردار دیکھے بغیر اپنے نمائندوں کو ووٹ دے دیا جاتا ہے،پیپلزپارٹی 4آمروں سے مقابلہ کرکے یہاں پہنچی۔انہوں نے کہا کہ عوام موجودہ حکومت سے ایک بھی نوکری کی توقع نہ کرے۔ حکومت میں آنے سے پہلے کہا جاتا ہے ایک کروڑ نوکریاں دیں گے اور گھر بنائیں گے لیکن یہاں غریبوں کے لیے تو نہیں مافیا کے لیے گھر بنائے گئے ہیں کیونکہ 20 لاکھ روپے میں کون غریب گھر خریدے گا جب کہ گھروں کے نام پر مافیاقرضہ لے کر ملک سے فرار ہو جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کیلئے حکومت کے ساتھ ہے،کچھ نہ کرناجنوبی پنجاب کے لوگوں سے دھوکاہے،جنوبی پنجاب کے بھائیوں کو دھوکا دیا گیا ہے جب کہ پیپلزپارٹی نے تمام صوبوں کو اختیارات دیئے تھے۔ پیپلزپارٹی نے ہی سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبرپختونخوا کا نام دیا تھا۔ پیپلز پارٹی نے صدر سے اختیارات لے کر پارلیمنٹ کو دیے اور عوام کو مضبوط کیا جب کہ موجودہ حکومت تو عوام کو صرف دھوکا دے رہی ہے۔ہم نے 2008میں کیے گئے وعدے پورے کیے۔سید خورشید شاہ نے کہاکہ لوگ سمجھتے تھے کہ قرض کے بغیرملک آگے بڑھے گا،کہتے تھے قرض لینے کے بجائے خودکشی کرلیں گے،4ماہ میں قرض لینے کے ریکارڈتوڑدیئے گئے،عوام موجودہ حکومت سے ایک بھی نوکری کی توقع نہ کرے۔نوجوانوں کوروزگارکے نام پردھوکادیاگیا۔اگر حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر نہیں دیے تو انہیں حکومت چھوڑنی پڑے گی۔وزیر اعظم کے ہر ہفتے پارلیمنٹ میں آکر جواب دینے سے متعلق بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے کہا تھا ہر بدھ کو پارلیمنٹ میں آکر جواب دوں گا لیکن یہاں تو پانچ مہینے گزر گئے لیکن وزیر اعطم پارلیمنٹ میں نہیں آئے اور اب کی گمشدگی کے لیے اشتہار دینا پڑے گا۔ نوجوان، خوبصورت، سمارٹ شکل والا شخص کسی کو نظر آئے تو وہ اس پارلیمنٹ چھوڑ جائیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو کام کرنے دیں، ان ہاؤس تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں تاہم مہنگائی اور عوامی مسائل پر قومی اسمبلی میں احتجاج کریں گے اور اب دیکھیں گے فوجی عدالتوں کی ضررورت ہے بھی یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی تباہی کی وجہ پارلیمان کا راستہ بھول کر باہر کا راستہ پکڑنا ہے، عمران خان جانتا ہے جیسے سیٹیں ملیں اس لیے درست کہتاہوں ہے کہ پارلیمنٹ جعلی ہے، نواز شریف بھی منی ٹریل میں ہی پھنسا ہے، یہ بھی دیں۔خورشید شاہ نے کہاکہ آصف زرداری نواز شریف سے تعزیت کے لیے ان کے گھر گئے، جیل میں جا کر ملنے کی روایت موجود نہیں ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول