صوبے میں جاری پن بجلی منصوبوں پر کام مزید تیز کیا جائے محمو دخان

صوبے میں جاری پن بجلی منصوبوں پر کام مزید تیز کیا جائے محمو دخان

پشاور (سٹاف رپورٹر ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے میں تمام جاری پن بجلی منصوبوں پر کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے سی پیک میں صوبے کے پراجیکٹس کی شمولیت کیلئے ایک انسٹی ٹیوٹ بنانے کا عندیہ دیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ چشمہ رائٹ بینک لفٹ منصوبہ صوبے کیلئے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ صوبے کیلئے بہت اہم ہے۔ انہوں نے سی آر بی سی منصوبہ پر ہوم ورک تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر محکمہ اپنے پراجیکٹ اون کرے اور اس کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ سی پیک صوبے کیلئے ایک اہم موقع ہے اور حکومت اس موقع سے بھر پور فائدہ اُٹھائے گی ۔ اس منصوبے میں صوبے کے جتنے پراجیکٹس ہیں۔ ان پر جلد ازجلد کام شروع کیا جائے ہم نے اس صوبے کیلئے بہت کچھ کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ایک اجلاس کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی انرجی اینڈ پاور حمایت اﷲ خان، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید ، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور سلیم خان، کمشنر پشاورشہاب علی شاہ اور دوسرے متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس نے وزیراعلیٰ کو صوبے میں جاری پن بجلی منصوبوں ، سی پیک منصوبوں ، پن بجلی منصوبوں میں مفاہمتی یاداشتوں ، انڈسٹریل زونز کے حوالے سے تفصیلی بریفینگ دی ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ پن بجلی کے تمام جاری منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام کیا جائے تاکہ صوبے کیلئے زیادہ سے زیادہ محاصل پیدا کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم صوبے کو خود کفالت کی جانب لے کر جارہے ہیں تاکہ صوبہ معاشی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ معدنیات ، سیر و سیاحت ، زرعی پیداوار ، پن بجلی اور گھریلو صنعت جیسے شعبوں سے زیادہ سے زیادہ محاصل پیدا کئے جائیں گے ۔ سوات سکڈ پر متعلقہ محکمہ ہوم ورک کرکے رپورٹ پیش کرے۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں پن بجلی کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرکے یہ بجلی اپنے کارخانوں اور انڈسٹریز کو دیں گے اس عمل سے پورے ملک سے اسی صوبے میں سرمایہ کاری آئے گی اور صوبے میں انڈسٹریز کو فروغ ملے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں اپنی ٹرانسمیشن لائن کمپنی کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ گدون انڈسٹریل زون کو صوبے میں پن بجلی منصوبوں سے حاصل بجلی دی جائے گی جو کہ ایک نیا ماڈل ہو گا اور اس سے گدون انڈسٹریل زون کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں پن بجلی منصوبوں سے حاصل بجلی کے استعمال اور انتظامی اُمور کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا بھی عندیا دیا ۔ اجلاس نے صوبے میں صارفین کو سستی بجلی کی ترسیل کے حوالے سے بھی بتایا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں تمام پوٹینشل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ وفاق کے ساتھ این ٹی ڈی سی اور CCPA کے مسائل کو بھی اُٹھایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں بجلی کی بہتر پیداوار کیلئے ایک جامع مطالعہ اور ہوم ورک عمل میں لایاجائے گاخاص طور پر چترال میں جہاں پر 3000 میگاواٹ بجلی کی استعدادموجود ہے انہوں نے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ منصوبوں جن میں ایف ڈبلیو او منصوبے، کورین منصوبے ، سینو ہائیڈرو اور KHNP منصوبے شامل ہیں ،پر کام مزید تیزکرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ جو منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن میں 36 میگاواٹ درال،17 میگاواٹ رانولیہ اور 2.6 میگاواٹ ماچیا شامل ہیں ،ان کیلئے EPA کی منظوری لی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے کہاکہ پیہور پن بجلی منصوبے سے حاصل 28 میگاواٹ بجلی کی ترسیل گدون انڈسٹریل زون کو دی جائے گی جوکہ ایک ماڈل منصوبہ ہو گا۔

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ضلع مردان میں صحت ، تعلیم ، مواصلات و تعمیرات ، اری گیشن اور دیگر شعبوں میں تکمیل کے قریب جاری سکیموں کو پہلی فرصتمیں مکمل کرنے اور اس سلسلے میں درپیش مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کی ہے اور ایک ماہ کے بعد دوبارہ اجلاس میں خاطر خواہ پیش رفت پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت روبہ تکمیل سکیموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے اور دیگر جاری سکیموں میں ترجیحات کا تعین کرنے کا اُصولی فیصلہ پہلے سے کر چکی ہے۔ متعلقہ حکام باہمی مشاورت سے مسائل کا حل نکالیں تاکہ سکیموں میں تاخیرنہ ہو ۔ جو منصوبے تیار ہیں انہیں عوامی خدمت کیلئے استعمال میں لایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ضلع مردان میں ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کے مسائل کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سینئر صوبائی وزیر محمد عاطف خان، صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر ، ضلع مردان کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، ڈی سی مردان اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو ضلع مردان میں ترقیاتی منصوبوں کے مسائل سے آگاہ کیا گیا اور ان مسائل کے حل کیلئے ہدایت جاری کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال مردان کاکام مکمل کرنے کی ہدایت کی جبکہ باچا خان میڈیکل کالج کا پی سی ون پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو سکیمیں 75 فیصد مکمل ہیں انہیں پہلی فرصت میں مکمل کیا جائے اس کے بعد دیگر جاری سکیموں میں ترجیحات کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے باچا خان میڈیکل کالج کے چھ وارڈز کا باقی ماندہ کام مکمل کرکے متعلقہ محکمے کے حوالے کرنے کی ہدایت کی اور درکار آسامیوں کی ایس این ای ز بھیجنے کا حکم دیا۔ اسی طرح انہوں نے ہدایت کی کہ مردان کے آر ایچ سی اور بی ایچ یو ز میں اگر سٹاف کا مسئلہ ہے توایس این ایز بھیجی جائیں ۔ ہمیں مکمل شدہ منصوبوں کو استعمال میں لانا چاہیے ۔ منصوبوں کے استعمال میں انتظامی وسائل حائل نہیں ہونے چاہئیں ۔ انہوں نے ڈی ایچ کیو ہسپتال مردان میں بجلی کا مسئلہ بھی حل کرنے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے مردان میڈیکل کمپلیکس میں آلات کی کمی کے مسئلے کا بھی نوٹس لیا اور اسے حل کرنے کی ہدایت کی ۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران میل و فی میل کی خالی آسامیوں پر تعیناتی یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ۔ انہوں نے تحصیل رستم کے دفاتر کیلئے متعلقہ حکام کی مشاورت سے حقیقت پسندانہ سمری بھیجنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ مردان میگا پارک کا پی سی ون ریوائز ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں این ایل سی کے ساتھ اجلاس بھی ہو چکا ہے۔ فضل آباد گرلز سیکنڈری سکول کی سائٹ تبدیل کرنے کیلئے اجلاس کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر 20 کلومیٹر طویل کینال پٹرو روڈ مردان کو آنے والے ترقیاتی بجٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے خصوصی طور پر تحصیل دار کی تعیناتی کا مسئلہ اور پختونخوا ہاؤس مردان کے سٹاف کو درپیش تنخواہوں کا مسئلہ بھی حل کرنے کی ہدایت کی اور اس مقصد کیلئے پختونخوا ہاؤس کو دوبارہ ایڈمنسٹریشن کے حوالے کرنے کی تجویز پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔ وزیراعلیٰ نے یو ای ٹی کے مسائل حل کرنے کیلئے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

مزید : کراچی صفحہ اول