وزیر صحت کی ہدایت پر ٹائپ ڈی ہسپتال کو تحصیل ہسپتال کا درجہ دینے کا اعلان

وزیر صحت کی ہدایت پر ٹائپ ڈی ہسپتال کو تحصیل ہسپتال کا درجہ دینے کا اعلان

پشاور (سٹاف رپورٹ)ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا ڈاکٹر ارشد احمد خان نے ممبر صوبائی اسمبلی ملک پختون یا ر خان کے مطالبے اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اﷲ خان کی خصوصی ہدایت پر ککی ٹائپ ڈی ہسپتال کو تحصیل ہسپتال کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہئے ڈی ایچ او بنوں کو ہسپتال میں پانی ، بجلی ، جدید ایکسرے مشین ، ایمبولینس کی اور دیگر سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں اور عملے کی غیر حاضری ، صفائی کی اب تر صورت حال ، لاپرواہی اور صحت سہولیات کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈیوٹی میں دلچسپی نہ لینے والے ڈاکٹروں اور دیگر سٹاف کو چترال تبدیل کرنے کی دھمی دی ہے جکہ مذکورہ ہسپتال کو 24گھنٹے کھلارکھنے ، الٹرا ساؤنڈ ایکسرے اور شفٹوں میں ڈاکٹروں اور سٹاف کو ڈیوٹی ادا کرنے او رلیڈی ڈاکٹروں کی فراہمی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ہسپتال کو ہر حال میں فعال بناکر عوام کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی سختی سے تاکید کی ہے ۔ یہ احکامات انہوں نے ککی ٹائپ ڈی ہسپتال کے اچانک دورے کے موقع پر جاری کئے ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے ممبر صوبائی اسمبلی پی کے 88پختون یار خان ، ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ عمران خان ، ڈی ایچ او بنوں طاؤس خان ، تاج محمد خان ڈاکٹر قاسم ، سابق ڈسٹرکٹ ممبر پی ٹی آئی ککی جنید الرشید ، ڈسٹرکٹ ممبر امیر محمد خان ، تحصیل کونسلرز نیاز احمد خان ، اقلیم خان ، صابر وسیم ، ککی سیاسی اتحاد کے چیئرمین نثار خا ن ککی اور ای ای آئی کوارڈینیٹر ڈاکٹر اشرف یونس سمیت کثیر تعداد میں علاقہ کے معززین بھی موجود تھے۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر ارشد احمد خان نے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور دیکھا کہ وارڈز بند پڑے ہیں ، صفائی نہ ہونے کی وجہ سے وارڈ گیراج کا منظر پیش کر رہے تھے ۔ قیمتی مشینیں بند پڑی تھیں۔ ہسپتال میں ٹیوب ویل او رپانی ٹینک کی موجودگی کے باوجود ٹیوب ویل کو کنکشن نہیں دیا ہے جس سے پائپ زنگ آلود ہو چکے ہیں ، لیبر روم سمیت دیگر شعبے غیر فعال ہیں ۔ واضح رہے کہ مذکورہ ہسپتال کی افتتاح1985میں سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اﷲ خان نے کی تھی اور ایم ایم دور میں ٹائپ ڈی ہسپتال کا درجہ دے کر چالیس کروڑ روپے صرف بلڈنگ بنانے پر خرچ کئے ۔ مذکورہ ہسپتال کے لئے عملہ بھرتی کیا گیا جس میں 26کلاس فور بھرتی کئے تھے لیکن اس کے باوجو دبھی یہی صورت حال ہے ۔ اس سلسلے میں ڈی جی ہیلتھ نے انتہائی مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پرنسپل میڈیکل آفیسر اور عملے کو سخت سرزنش کی کہ کچھ خرابی سسٹم کی ہے لیکن مجموعی طور پر یہاں نو ڈاکٹروں سمیت 65افراد کا عملہ موجود ہے اور کام دو ڈاکٹروں کا نہیں کر رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کا اعتماد ختم ہو گیا ہے اس لئے وہ علاج معالجے کے لئے یہاں نہیں آتے اور پرائیویٹ علاج کرنے پر مجبور ہیں حالانکہ یہاں جو مشنیں موجود ہیں وہ مردان اور نوشہرہ کے ہسپتالوں میں نہیں ۔ انہوں نے ڈی ایچ او کو ہسپتال کو فعال بنانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ۔انہو ں نے پولیس سکیورٹی فراہمی کے لئے ڈی او بنوں سے رابطہ کیا اور ہسپتال کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے اور تحصیل ہسپتال کا درجہ دینے سمیت دیگر سہولیات کے لئے صوبائی وزیر صحت سے ملاقات کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے فوری طور پر میڈیکل آفیسر کو کارڈیالوجسٹ کے طور پر کام کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ انہو ں نے پانی منصوبے کے حوالے سے ڈی ایچ او کو انکوائری مقرر کرنے کی ہدایت کی ۔ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی پختون یار خان نے کہا کہ ہم ڈی جی ہیلتھ کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارے مطالبے پر ہسپتال کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ بہت سے سہولیات کی فراہمی کے احکامات بھی جاری کئے ۔ ممبر اسمبلی نے کہا کہ ککی کے عوام انتہائی غریب ہیں اور ہسپتال میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ علاج کے لئے بنوں شہر جانے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوٹی نہ کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو گی چاہے وہ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھتا ہو ۔ انہوں نے ہسپتال کو تحصیل ہسپتال کا درجہ دینے ، پانی ، بجلی ، جنریٹر کی فراہمی ، ہسپتال میں ڈاکٹروں کی حاضری یقینی بنانے اور دیگر سہولیات سمیت ایمبولینس فراہمی کا مطالبہ کیا ۔ قبل ازیں ڈی جی ہیلتھ نے آر ایچ سی ڈومیل ، آر یچ سی غوریوالہ کا بھی دورہ کیا اور عملے کو تاکید کہے عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو کوئی کوتاہی نہ کی جائے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول