علم قوم کی معاشرتی و معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے : ڈاکٹر عطا ء الرحمن

علم قوم کی معاشرتی و معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے : ڈاکٹر ...

کراچی(خصوصی رپورٹ )سابق وفاقی وزیر برائے سائنس وٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں علم قوموں کی معاشرتی و معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی اس ترقی کے بڑے معاون ہیں۔ جن قوموں نے بروقت اس بات کا ادراک کر کے سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں سرمایہ کاری کی وہ آج بقیہ اقوام سے کہیں آگے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں نئے حقائق دریافت ہوتے ہیں جن میں سے بیشتر ہماری زندگیوں میں ناقابل یقین تبدیلیاں لے کر آتے ہیں۔مثال کے طور پر گریفین انسانی بال سے بھی زیادہ باریک ہونے کے باوجود ایک ہاتھی کا وزن باآسانی برداشت کر سکتی ہے۔ اسی طرح ہیری پوٹر کا جادوئی چغہ اب کہانی نہیں رہا بلکہ میٹا مٹیریلز کی ایجاد سے ممکن ہو گیا ہے، یہ میٹا مٹیریلز روشنی کو جذب کر کے انسانی آنکھ سے اوجھل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جیلی فش کی جینز کو پودوں میں ٹرانسفورم کروا کر اس قسم کے پھول بنائے جا رہے ہیں جو اندھیرے میں چمکتے ہیں اور روشنی کرتے ہیں۔اشیاء کی حرکت کو دماغ کے ذریعے کنٹرول کرنا اور بنا ڈرائیور کی کاروں کی ایجادات پر کام تیزی سے ہو رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمسٹری،انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز اور آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن کے اشتراک سے جامعہ کراچی کے سلیم الزماں صدیقی آڈیٹوریم میں منعقدہ پانچویں تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ’’ماحولیاتی افق‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امریکن پروفیسر ڈاکٹرجیمز شاور نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ذراتی مادے کے ماحول اور صحت پر موذی اثرات تصدیق شدہ ہیں اور اسی لیے ان کے استعمال کو قابو کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ عوامی صحت کے نقطۂ نظر سے ہوائی آلودگی کے عوامل جن کا اثر بیماریوں کے پھیلاؤ پر پڑتا ہے اور دوسرے کئی عوامل شامل ہیں۔اس چیز کی اشد ضرورت ہے کہ فضائی مطالعات کا امراض کے اور آلودگیوں کے مطالعات سے ربط پیدا کیا جائے جس سے فضائی آلودگیوں سے پھیلنے والی بیماریوں کے تدارک کے لیے تحقیق کی جا سکے۔ کینڈین پروفیسر پریسا آریا نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موسمی تبدیلیوں پر ہونے والے بین الاقوامی پینل (IPCC)اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ایروسول جو کہ ہوائی ذرات کہلاتے ہیں ، کو تحقیق کے لیے بے حد اہم قرار دیا ہے۔ان ہوائی ذرات کی تشکیل اور بادل کی تشکیل کے ذریعے پھیلاؤ کو زمین کی فضا کے لیے بے حد خطرناک قرار دیا گیا ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ایروسول کو صحت کے لیے خطرہ ٹھہرایا ہے۔ اس حقیقت کا ادراک کیا جا چکا ہے کہ زمینی فضا اور صحت سے جڑے ایروسول کے خطرناک اثرات ان ذرات کے پھیلاؤ کے مختلف طریقۂ کار سے جڑے ہیں۔ ہم نے ان ذرات اور ان کے اثرات پر تحقیق کے لیے اپنے یہاں مکمل سہولتیں تشکیل دی ہیں جس میں نینو پارٹیکلز کے پھیلاؤ پر بھی تحقیق کی جاتی ہے۔امریکن پروفیسر شیرل اہرمان نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران امریکہ میں وسطی اوقیانوس کے علاقے میں ماحولیاتی آلودگی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے جس سے آب و ہوا میں بہتری آئی ہے۔اس کے باوجود وسطی اوقیانوس کے کئی علاقوں میں آلودگی کی سطح پریشان کن ہے اور اوزون بھی آلودگی کے عوامل میں شامل ہے۔ اوزون ایک ثانوی سطح کا آلودہ جز ہے جو کہ نامیاتی مرکبات کے نائٹروجن آکسائیڈز کے ساتھ رد عمل کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں ۔ اوزون پیدا کرنے والے اجزا انڈسٹریل پاور پلانٹس، کارخانوں، گاڑیوں، اور کچھ حیاتی عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ پچھلے کئی سالوں کی تحقیق کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ قدرتی گیس کے استعمال کے نتائج دوسرے نامیاتی مرکبات کے استعمال سے مختلف ہیں اور اسی لیے پاور پلانٹس میں قدرتی گیس کا استعمال بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ ہماری تحقیق نے وسطی اوقیانوس کی زمینی اور ہوائی آلودگی کے علاقائی پھیلاؤ پر تجزیہ پیش کیا ہے۔ایران سے آئے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر مہرورنگ غیدی نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نینو اسٹرکچرز کی شناخت اور پیداوار کے ذریعے انھیں بہترین طریقے سے مختلف مرکبات سے زہریلے اجزا کے انخلا کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ماحولیاتی طور پر اہم عوامل جیسے کہ ادویات، آلودہ اجزا، ڈائی اور میٹل آئن ان نینو اسٹرکچرز کی مدد سے باآسانی علیحدہ کیے جا سکتے ہیں۔اس کے لیے مختلف موثر طریقۂ کار وضع کیے گئے ۔ یہی نہیں ان طریقۂ کار کے دوسرے فوائد جیسے کہ کم لاگت، اور زیادہ موثر ہونا بھی اس ضمن میں اہم قرار دیا گیا۔ کچھ کیسز میں فوٹو کیٹالسٹ کا ستعمال بھی کیا گیا تاکہ صاف پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ان مٹیریلز کی ساختی اور کیمیائی و طبیعیاتی خصوصیات کی جانچ بھی مختلف طریقے کار سے کی گئی۔ڈائریکٹر آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ قدرت نے بے شمار بیماریوں کا حل فطری اشیاء اور اجزا میں ہی رکھا ہے جس کا بہترین منبع یہ نباتیاتی خزانہ ہے جو ہمارے یہاں ادویاتی نقطۂ نظر سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اسی لیے حالیہ اور مستقبل کی ادویات کی تشکیل کے لیے پودوں کے ان اجزا پر تحقیق بے حد ضروری ہے جو ادویات کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔پچھلی چار دہائیوں سے ہماری تحقیق نباتیات کے ان اجزا کے گرد گھومتی ہے جو ہماری علاقائی ادویات میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتیجے میں ہم نے کئی نئے اجزا کی دریافت کی ہے جو کہ ادویاتی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کا ستعمال بے شمار کیسز میں کیا گیا ہے جن کے نتائج پیش کیے جائیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر