ادویات کی قیمتوں میں اجافہ ، انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے: حافظ نعیم الرحمن

ادویات کی قیمتوں میں اجافہ ، انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے: حافظ نعیم الرحمن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے جان بچانے والی ادویات سمیت دیگر دواؤں کی قیمتوں میں 15فیصد تک اضافے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا بجلی ، پیٹرول وگیس کی قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے بعد یہ ایک اورسفاکانہ صحت دشمن فیصلہ ہے ۔ ایک جانب وزراء ہر موقع پر قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کو عارضی قرار دیتے ہیں اور عوام کو بے وقوف بنانے اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اضافہ واپس لے لیا جائے گا۔دوسری طرف وزیر خزانہ ایک اور منی بجٹ پیش کر نے والے ہیں ۔ جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ یقینی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ادویات میں اضافے کا نوٹیفیکیشن وفاقی حکومت کی منظوری سے جاری کیا ہے اس طرح پی ٹی آئی حکومت کا ایک اور وعدہ جھوٹا ثابت ہوا کہ غریب عوام کو صحت اور علاج معالجے کی سستی سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔ ڈریپ کے ترجمان کا یہ کہنا کہ ملک میں ادویات کی قیمتیں اضافے کے باوجود عالمی اور علاقائی اعتبار سے کم ہیں سراسر جھوٹ اورظالمانہ فیصلے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے کیونکہ ہمسائے ملک میں بھی بعض ادویات کی قیمتیں ہمارے ملک کے مقابلے میں نصف سے بھی کم ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دواؤں میں استعمال ہونے والا خام مال ملک میں ہی تیار کیا جاتا تاکہ پاکستان میں سستی دوائیں تیار کی جاسکتیں لیکن اس حوالے سے کوئی انتظام کرنے اور لاکھوں غریب مریضوں کی مالی مشکلات کاخیال کرنے کے بجائے الٹا دواؤں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ حکومت مہنگائی کے سامنے مکمل طور پر پسپا ہوگئی اور مہنگائی کو کنٹرول کر نا اس کے بس سے باہر ہو گیا ہے ۔نئی حکومت نہ صرف یہ کہ عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے بلکہ اب اس فیصلے کے بعد لاکھوں مریضوں کی صحت کے لیے خطرے کی علامت بن گئی ہے ۔ اس صورتحال کے باعث عوام کے اندر شدید بے چینی اور اضطراب بڑھتا جارہاہے اور یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا موجودہ حکومت عوام کو کوئی ریلیف دے بھی سکے گی یا نہیں ؟انھوں نے کہا کہ لگتا ہے ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ اور ان کے منافع کو بڑھانا ہی حکومت کا کام رہ گیا ہے ۔صحت کو آئین میں شہریوں کا بنیادی حق قرار دیا گیاہے لیکن سپریم کورٹ کی بہت زیادہ دلچسپی کے باوجود حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں یہ بنیادی حق بھی لوگوں کو ملنا محال ہوگیا ہے ۔انھوں نے کہا کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے اور یہ لاوا ایک بار بہہ نکلا تو اس کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگالہذا حکومت کو حالات بے قابو ہونے سے قبل ہوش کے ناخن لے لینے چاہیئے۔#

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر