تحقیقات پر تحقیقات ، ٹرمپ کی ٹانگیں کانپنے لگیں ، جوابی وار کیلئے مشاورت

تحقیقات پر تحقیقات ، ٹرمپ کی ٹانگیں کانپنے لگیں ، جوابی وار کیلئے مشاورت

واشنگٹن ( خصوصی تجزیہ اظہر زمان)صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عجیب و غریب رویے، لابالی پن اور اپنے ماضی کی پراسرار مشکوک حرکتوں کے باعث وائٹ ہاؤس میں جن مشکلات کا شکار تھے، اب لگتا ہے ان کا نقطہ عروج قریب پہنچ چکا ہے۔ سابق صدور نکسن یا بل کلنٹن کی طرح مواخذے کے نتیجے میں وہ رسوا ہوکر وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہیں یا نہیں، اس کاپتہ آئندہ دو ماہ میں چل جائے گا، لیکن ایک بات ابھی واضح ہے کہ واشنگٹن میں آئندہ چند ہفتوں میں بہت بڑا غدر مچنے والا ہے۔ ایک طرف میڈیا، انٹیلی جنس اداروں اور کانگریس نے تیرتفنگ کس لئے ہیں اور دوسری طرف ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں ٹانگیں کانپنا شروع ہوگئی ہیں اور انہوں نے بوکھلاہٹ میں جوابی حملہ کرنے کے لئے قانونی مشوروں کے حصول کے واسطے ریکارڈ تعداد میں وکیلوں کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔اس وقت بنیادی طور پر تین بڑے معاملات کا انہیں سامنا ہے جن پر جلد تصادم متوقع ہے اور نظر آتا ہے کہ حتمی فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا پڑے گا۔ پہلا جنسی تعلقات کا سکینڈ ل ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور انہی کے ماتحت محکمہ انصاف نے انصاف اور غیر جانبداری کے تقاضوں کے مطابق اپنے پراسیکیوٹرز کے ذریعے یہ عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے کہ ٹرمپ کے ایک سابق وکیل مائیکل کوہن نے 2016ء کی صدارتی مہم میں دو عورتوں کا منہ بند کرنے کے لئے ٹرمپ کی طرف سے رقم کی ادائیگی کی۔ عدالت نے کوہن کو اس جرم پر سات سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جو اس وقت جیل میں ہے۔ عدالت صدر ٹرمپ کے بارے میں خاموش رہی لیکن ان کا معاملہ ختم نہیں ہوا۔ ریکارڈ کے مطابق وکیل تو وسیلہ بنا۔ اصل الزام تو صدر ٹڑمپ پر تھا جن کی ہدایت پر انہوں نے اس سکینڈل کو ٹھپ کرنے کیلئے ادائیگی کی۔ اب وسط مدتی انتخابات کے بعد نیا ایوان نمائندگان وجود میں آچکا ہے جہاں مخالف ڈیمو کریٹک پارٹی کو اکثریت حاصل ہوچکی ہے۔ سینیٹ کا جزوی انتخاب ہوا جس کے نتیجے میں اس وقت بھی حکومتی ری پبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے، لیکن ایوان میں ڈیمو کریٹک پارٹی کی اکثریت بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کوئی بھی بل صرف ایوان میں شروع کیا جاسکتا ہے۔ مخالف پارٹی کے لیڈر اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ اس جنسی سکینڈل کو پیش نظر رکھتے ہوئے صدر ٹرمپ کے خلاف اخلاقی بنیاد پر تحریک پیش کرسکتے ہیں۔دوسرا معاملہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے حق میں روسی مداخؒ ت کی تفتیش کا ہے۔ صدر ٹرمپ تمام تفتیشی معاملات میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام تدبیریں اختیار کرتے رہے ہیں۔ سابق اٹارنی جنرل نے اس کے لئے رابرٹ میولر کو خصوصی تفتیش کار مقرر کیا تھا جن کی تفتیش کو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جو اطلاعات کے مطابق بہت جلد اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔ جن میں مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ پر سنگین الزامات شامل ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے دباؤ ڈالنے کے لئے پہلے اٹارنی جنرل کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور جب خصوصی تفتیش کار پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو انہوں نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ روسی مداخؒ ت کے معاملے پر کانگریس کی متعدد کمیٹیاں اپنے طور پر تفتیش کرنے میں مصروف ہیں۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے متوقع رپورٹ کا کچھ حصہ حذف کرکے کانگریس کو بھیجیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ تفتیش کے حقائق کو کیوں چھپانا چاہتے ہیں اور یہ کارروائی بذات خود بتا رہی ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکی آئین اور قانون کے مطابق کانگریس کے ارکان پارٹی لائن کے مطابق ووٹ دینے کے پابند نہیں ہیں اور اگر کچھ ٹھوس شواہد سامنے آگئے تو ان کو دیکھ کر حکمران ری پبلکن پارٹی کے کچھ ارکان بھی ٹرمپ کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ایک اور معاملہ جو کھل کر سامنے نہیں آسکا وہ یہ ہے کہ ایف جی آئی نے روسی مداخلت کی تفتیش کے رابرٹ ملر کو خصوصی تفتیش کار مقرر کر رکھا ہے لیکن اس کے علاوہ ایف بی آئی ایک اور معاملے پر اپنے طور پر بھی 2017ء سے تفتیش کر رہی ہے کہ کیا صدر ٹرمپ جانے انجانے میں روس کے لئے کام کر رہے تھے اور کیا اب بھی وہ ایسا کر رہے ہیں یا نہیں؟ یہ معاملہ بہت خطرناک ہے۔ اس میں مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ صدر ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن سے اپنی ملاقات کی تمام تفصیل جو مترجم سے حاصل ہوئی تھی امریکی حکام کو نہیں بتائی۔

ٹرمپ/تجزیہ

مزید : صفحہ اول