ایف بی آر پرائیویٹ کمپنی کا محتاج ‘ پالیسیاں مذاق ‘ حکومتی خزانے کو بھاری نقصان

ایف بی آر پرائیویٹ کمپنی کا محتاج ‘ پالیسیاں مذاق ‘ حکومتی خزانے کو بھاری ...

ملتان (نیوز رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے زرعی و سکنی جائیداد اور گاڑیوں کی خریداری سمیت ٹوکن ٹیکس۔ بینک ٹرانزیکشن میں فائلرز کو دی گئی ٹیکس ریلیف کی پالیسی ایجنٹ مافیا اور (پرال) کی ملی بھگت نے ہوا میں اڑا کر رکھ دی ہے جس کے باعث حکومتی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے ٹیکس ڈیوٹی سے محروم کیا جارہا ہے جائیدادوں کی خرید و فروخت (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

اور گاڑیوں کی خریداری پر ایجنٹ مافیا خریدار کو جعلسازی کے ذریعے فائلر بنادیتے ہیں ذرائع کے مطابق ایف بی آر کا پورا نظام (پرال) کی دسترس میں ہے جبکہ ایجنٹ مافیا کے اسلام آباد میں پرال ملازمین سے رابطے ہیں جو خریدار کو بنا گوشوارے جمع کرائے عارضی طور پر نظام میں رجسٹرڈ کردیتے ہیں جس کا دورانیہ تین ماہ ہوتا ہے جس کا ایجنٹ مافیا 5 سے 10 ہزار روپے تک وصول کرتے ہیں جبکہ ٹیکس ماہرین کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر جائیدادوں کی اور گاڑیوں کی رجسٹریشن میں ایف بی آر کی نجی کمپنی سے مستعار لی گئی پالیسی کا تمسخر اڑایا جارہا ہے ایف بی آر ملک کا اہم ترین ادارہ ہونے باوجود آج تک اپنا ٹیکس نظام وضع کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے باعث ایف بی آر ایک پرائیویٹ کمپنی کے نظام کا محتاج ہے جو ایف بی آر کی اعلی بیوروکریسی کی نااہلی کے مترادف ہے جس کی مجرمانہ غفلت کے باعث حکومتی خزانہ سالانہ اربوں روپے کے ریونیو سے محروم ہے۔

نقصان

مزید : ملتان صفحہ آخر