میلسی ‘ بلڈ بینک ‘ تھیلسیمیا سنٹر کا پہلا سال مکمل بچوں کی زندگیاں بچانے کیلئے مخیر حضرات کا کردار انتہائی اہم ‘ راؤ محمد تنویر کی بات چیت

میلسی ‘ بلڈ بینک ‘ تھیلسیمیا سنٹر کا پہلا سال مکمل بچوں کی زندگیاں بچانے ...

میلسی(نمائندہ پاکستان)اپنی مدد آپ کے تحت میلسی میں بنائے گئے بلڈ بنک اینڈ تھیلیسیمیا سنٹر کا پہلا سال مکمل ہونے پر سنٹر کے انچارج راؤ محمد تنویر نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے بچوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے انہیں فوری اور مفت خون کی فراہمی (بقیہ نمبر23صفحہ12پر )

کیلئے بلڈ بنک قائم کیا اور ابتداء میں تھیلیسیمیاکے مریض بچوں کو ہول بلڈ لگایا جاتا رہا جس کا بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ بچوں کیلئے نقصان دہ ہے اس لیئے ڈاکٹرز کی رہنمائی میں مسئلے کا حل نکالتے ہوئے بار بار خون لگنے سے متاثرہ بچوں کے جسم میں فیر ٹین لیول کی زیادتی پر ملتان سے ٹیسٹ کا آغاز کیا گیا اور ٹیسٹ کے بعد ان بچوں کو فری پیک سیل فراہم کیئے گئے ایک سال کے دوران 5ہزار 347 متاثرین کو فری گروپ چیک کارڈ ایشو کیئے گئے اور 28سو متاثرین کے فری ایچ ای پی ٹیسٹ ہوئے جن میں 300 متاثرین مرض میں مبتلا پائے گئے اس دوران ادارہ نے تھیلیسیمیا کے شکار 90 بچوں کو رجسٹرڈ کیا جنہیں ہر 15 سے 20 دن بعد بلڈ کی فراہمی بعض بچوں کو مفت میڈیسن اور ٹیسٹوں کی سہولت بھی دی جا رہی ہے انہوں نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کے مرض کیخلاف شعور کی آگاہی کیلئے خصوصی چلائی گئی اس دوران مختلف پبلک مقامات پر پینا فلیکس آویزاں کیئے گئے مختلف پروگرامز کے انعقاد کے ذریعے لوگوں کو شادی سے پہلے بلڈ ٹیسٹ کی ترغیب دی گئی اور تعلیمی اداروں میں بھی بلڈ کی فراہمی اور بلڈ ڈونیشن کیلئے سیمینارز منعقد کرائے گئے انہوں نے کہا کہ تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا 24سالہ محمد عثمان واحد بچہ ہے جو اس عمر تک پہنچا اور اب وہ اس مرض کے شکار دیگر بچوں کیلئے ہمارے شانہ بشانہ کام کر رہا ہے اور ایسے بچوں کا آگے بڑھ کر حوصلہ بڑھاتا ہے انہوں نے کہا کہ گذشتہ 1سال کے دوارن تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا 6بچے اس مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے اس لیئے مخیر حضرات آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں اور بلڈ ڈونیشن پر خصوصی توجہ دی جائے تا کہ زندگیاں بچائی جا سکیں ۔

مکمل

مزید : ملتان صفحہ آخر