پنجاب حکومت میں کام کرنے کی نیت اور قابلیت نہیں:چیف جسٹس

پنجاب حکومت میں کام کرنے کی نیت اور قابلیت نہیں:چیف جسٹس
پنجاب حکومت میں کام کرنے کی نیت اور قابلیت نہیں:چیف جسٹس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)زیرزمین پانی کے استعمال پرٹیکس نفاذ کے کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں کی جس میں نمائندہ محکمہ آبپاشی اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت دیگر فریقین پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صوبائی حکومتیں بیوروکریسی کے چکرمیں پھنسی ہیں،پنجاب حکومت میں قابلیت اور نیت ہی نہیں ہے ، لگتاہے سارا معاملہ کاغذوں کی نظر ہو جائے گا۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے پانی پرٹیکس کاتعین کردیاہے جس پر ثاقب چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانی نایاب ہوناشروع ہوگیا، دنیامیں پانی اربوں روپے کابکتاہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ دیگرصنعتوں کے حوالے سے ٹیکس کاتعین کریں۔سماعت کے دوران عدالت نے ہدایت کی کہ صنعتیں استعمال شدہ پانی کودوبارہ قابل استعمال بنانے پربھی کام کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اکبرعلی کی تجویزاچھی ہے۔ محکمہ آبپاشی کے نمائندہ نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت نے 38 تجاویزمرتب کیں ہیں،حکومت نے 31تجاویزکی منظوری دے دی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں بیوروکریسی کے چکرمیں پھنسی ہیں۔محکمہ آبپاشی کے نمائندہ نے عدالت کو مزید بتا یا کہ پنجاب واٹرپالیسی منظورہوگئی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ واٹرپالیسی عدالت میں جمع کیوں نہیں کرائی گئی ؟اس دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت میں نیت اور قابلیت دونوں ہی نہیں ہیں، مجھے لگتاہے سارامعاملہ کاغذوں کی نظرہوجائے گا، آپ نے لوگوں کوپیاسامارناہے؟10 روزمیں پانی سے متعلق آگاہی کیلئے کیاکیا؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ رپورٹ میں آگاہی مہم کاذکرنہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بہت شاندارہے لیکن صرف کاغذوں میں،آپ صرف وقت گزرنے کاانتظارکررہے ہیں،حکومت نے ذمہ داری پوری نہ کی تومجرمانہ غفلت ہوگی،لوگوں کی زندگی پانی سے جڑی ہے۔ چیف جسٹس نے کوئٹہ میں پانی کی صورتحال سے متعلق استفسار کیا  جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کوئٹہ میں پانی 1200 فٹ نیچے چلاگیا۔ اس جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگ کوئٹہ سے ہجرت کرناشروع کردیں گے،گوادرمیں بندرگاہ بنارہے ہیں وہاں پینے کاپانی نہیں، بات کریں توکہتے ہیں اختیارات سے تجاوزکررہے ہیں،کیاپانی کامسئلہ بنیادی حقوق کامعاملہ نہیں؟ آئین کے مطابق عدالت بنیادی حقوق کاتحفظ بھی کرتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیکشن افسروں سے رپورٹس لے کرآجاتے ہیں،مجھے بتائیں کیاسنجیدہ اقدامات کیے گئے؟صوبائی حکومتوںکے جواب آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔

مزید : اہم خبریں /قومی