اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 113

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 113

  

چیلوں کے مٹھ میں رقاصہ رامائینی کے آنے سے گرودیو کمارگری کے معمولات میں نمایاں فرق آگیا۔ اب وہ زیادہ وقت رامائینی کی کٹیا میں گزارتے۔ اسے اپنے پاس بٹھا کر چیلوں کو درس دیتے لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ ان کے درس میں وہ پہلے والی تاثیر باقی نہیں رہی تھی۔ ان کا لہجہ اکھڑا اکھڑا ہوتا۔ وہ بات کرتے کرتے بھول جاتے اور گردن گھما کر رامائینی کو تکنے لگتے۔ اس انقلابی تبدیلی کو مٹھ کے سارے چیلے شدت سے محسوس کررہے تھے مگر خاموش تھے۔ ایک روز میں نے بڑی جرأت کرکے گرودیو سے کہا کہ کہیں رقاصہ رامائینی کے آنے سے ان کی ریاضت میں خلل تو نہیں پڑا؟ گرودیو نے چونک کر میری طرف دیکھااور پھر مسکرا کو بولے

’’وشال دیو! آکاش کے دیوتا ہمارا امتحان لے رہے ہیں۔ ہم اس امتحان میں پورا اتریں گے۔ ہم میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے نہیں۔ ہم اس جنگ کو فتح کریں گے۔‘‘

میں سمجھا کہ گرودیو نے غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔ ہوسکتا ہے وہ اپنا تزکیہ نفس کررہے ہوں اور دنیاوی علائق کے درمیان سے گزرتے ہوئے اپنا دامن پاک رکھنے کی ریاضت میں مصروف ہوں۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 112 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس وقت صبح طلو ع ہونے میں ایک پہر باقی تھا۔ میں نے ندی پار کی اور اجین شہر کی سب سے بڑی کارواں سرائے میں آگیا۔ میرا ارادہ وہاں سے کسی قافلے میں شامل ہوکر گوالیار میں غزنی لشکر میں واپس جانے کا تھا کہ مجھے وہاں کچھ مسافروں سے جو شمال سے آئے ہوئے تھے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لشکر نے لاہور اور ملتان فتح کرلیا ہے۔ مگر لاہور کے اردگرد کے راجہ لاہور پر ایک زبردست حملے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اس وقت میرا دل لاہور جانے کے لئے مچلنے لگا۔ میں چوتھی عیسوی صدی کے لاہور کو ایک بار پھر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا اور غزنوی سرداروں اور مسلمان مجاہدوں کے ساتھ مل کر جہاد میں حصہ لینا چاہتا تھا۔ میں وہیں کارواں سرائے میں رک گیا اور چار یوم کے بعد ایک قافلے میں شامل ہوکر شمال کی طرف روانہ ہوگیا۔

غزنویوں کی اس وقت یہ حالت تھی کہ سلطان محمود کی وفات کے بعد اس کے بیٹے امیر مسعود کو قتل کرنے کے بعد اس کا بیٹا امیر مودود تخت غزنی پر جلوہ افروز تھا۔ اور غزنی کے سلطان کی حیثیت سے وہ ہندوستان میں آگے بڑھتا چلا آرہا تھا۔ اس نے ملتان، بھیرہ اور لاہور کو فتح کیا اور پنجاب کی حکومت مسلمان امراء کے حوالے کرکے واپس غزنی جاچکا تھا۔ منزلوں پر منزلیں طے کرتا جب میں پنجاب کی سرزمین میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ پنجاب میں مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہوچکی ہیں اور مسلمان جاگیر دار اور امراء امیر مودود کی اطاعت سے منہ موڑ کر آپس میں لڑرہے ہیں اور دوسری طرف قرب و جوار کے ہندو دوسری ہندو ریاستوں کی مدد سے لاہور پر ایک زبردستی حملے کی تیاری کررہے ہیں۔

میں آج آپ کے شہر میں بیٹھا یہ سفر نامہ حیرت قلم بند کررہا ہوں تو مجھے آج سے پندرہ سوبرس پہلے کا لاہور شہر یاد آرہا ہے، میں نے آج کے دور کے ماڈرن لاہور شہر کو بھی دیکھا ہے۔ پندرہ سو برس پہلے کا لاہور اس جگہ آباد نہیں تھا۔ اس شہرکے اب کہیں آثار بھی نہیں ملتے۔ میں نے کئی دن لاہور کی سیاحت کرنے اور ہر طرف سے جائزہ لینے کے بعد اندازہ لگایاہے کہ جس مقام پر آج کل لاہور کی نئی آبادی اچھرہ ہے اس زمانے کا لاہور اسی جگہ پر آباد تھا اور اس جگہ ایک بہت بڑا قلعہ تھا جس میں مسلمان امیر کا محل تھا۔ یہ امیر غزنی کے سلطان کا نمائندہ اور اس کا وفادار تھا لیکن دوسرے امراء اس سے منہ پھیر کر آپس میں برسرپیکار تھے اور ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ جس روز میں دہلی سے آنے والے ایک قافلے کے ساتھ سفر کرتا ہوا لاہور شہر کی حدود میں داخل ہوا تو کاروان سرائے میں اترتے ہی لوگوں میں ایک بھگدڑ مچ گئی۔ معلوم ہوا کہ ہندوؤں کے لشکر کے ہر اول دستے لاہور شہر کی حدود میں پہنچ گئے۔ لوگ قلعے کی طرف بھاگے کیونکہ شہر کی چار دیواری نام کی اس وقت کوئی شے موجود نہیں تھی۔ صرف ایک قلعہ ہی تھا جس میں چھپ کر مسلمان اپنی جانیں بچاسکتے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ ہی قلعے کی طرف دوڑا۔ میں قلعے کے اندر جاکر غزنی امیر سے ملاقات کرکے ہندوؤں سے جنگ کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا تھا۔ اس وقت میرا لباس اس زمانے کے ایک عام شہری کا تھا۔ سلطان محمود غزنوی کی وفات کو چھ برس گزرچکے تھے اور لاہور کے قلعے کا امیر میری شکل سے واقف نہیں تھا۔ قلعے میں داخل ہونے کے فوراً بعد قلعے کے دربانوں نے دروازے بند کردئیے اور قلعے کی لبریز کھائی پرجوپل ڈالا گیا تھا اسے بھی اٹھالیا گیا۔

قلعے میں امیر غزنوی کے عالی شان سنگ سرخ کے محلات تھے۔ ان کے علاوہ قلعے کی دیوار کے ساتھ ساتھ اندر کی جانب سینکڑوں کوٹھریاں بنی ہوئی تھیں۔ درمیان میں سبزیوں کے کھیت تھے جن میں رہٹ چل رہے تھے اور مویشی چررہے تھے۔

لوگوں نے ان کوٹھریوں پر قبضہ کرلیا اور اپنے بال بچوں کو وہاں چھوڑ کر کھیتوں میں اناج کاٹنے اور پانی لینے نکل گئے۔ شمال کی جانب فوجی چھاؤنی تھی جہاں فوجی بارکوں میں یس مسلمان لشکری نکل نکل کر قلعے کے اوپر کی طرف جارہے تھے۔ ان میں تیر انداز دستوں کی تعداد زیادہ تھی۔ میں پہلی فرصت میں قلعے کے امیر سے ملنا چاہتا تھا۔ میں شاہی محل کے دروازے پر آیا تو محافظ دستے کے سپاہی مجھے دیکھتے ہی تلواریں لہراتے میری طرف بڑھے۔ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے کہ پیچھے سے ان کے سالار نے بلند آواز میں چلا کر کہا

’’اس کو قتل نہ کرنا۔ اسے امیر کے آگے پیش کیا جائے گا وہ اسے خود قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

اس وقت مجھے گرفتا رکرلیاگیا۔ میں سمجھ گیا کہ ضرور یہاں میں امیر کے کسی جانی دشمن کی شکل میں نمودار ہوا ہوں مجھے زنجیروں میں جکڑ کر قلعے کے ایک تنگ و تاریک تہہ خانے میں پھینک دیا گیا۔ میں نے بہت کہا کہ مجھے امیر سے ملوایا جائے مگر اس وقت ان لوگوں کو اپنی پڑی تھی۔ ہندو لشکر نے قلعے کا محاصرہ کرلیا تھا۔ وہ میرے تہہ خانے کے دروازے کو باہر سے بھاری تالا لگا کر چلے گئے اور میں تاریک نیم دار تہہ خانے میں زنجیروں مدیں جکڑا اکیلا رہ گیا۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 114 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار