زینب کی یاد میں !!!

زینب کی یاد میں !!!
زینب کی یاد میں !!!

  

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 10جنوری کو قصور میں زینب کی پہلی برسی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ وزیراعظم عمران خان 10 جنوری کو زینب ڈے قراردیں، بچوں اور بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں وفاقی محتسب کی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور اس کی روشنی میں قانون سازی کی جائے۔ حکومت قانون شہادت میں ترمیم کرے اورڈی این اے ٹیسٹ کو جامع شہادت بنائے اور بچوں اور بچیوں سے درندگی کے جرم کو دہشتگردی قرار دے اور اس کی ایف آئی آر 7ATA کے تحت درج ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فحش ویب سائٹس کا خاتمہ حکومت کی ذمہ داری ہے، نفرت انگیز مواد کی تلفی اور ذمہ داروں کو سزا دینے کا کام بھی نیکٹا کے ذمہ لگایا جائے اور فحش ویب سائٹس بلاک کرنے کے لیے سافٹ وئیر تیار کئے جائیں فحش سائٹس سے مجر مانہ سرگرمیوں کا دروازہ کھلتا ہے ۔ان سائٹس کو بذریعہ ٹیکنالوجی بلاک کر نا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زینب کے قاتل کو سزا ملنے کے باوجود بچوں بچیوں کے خلاف جرائم کم نہیں ہو سکے۔بی بی سی کی 2018 کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سال میں بچوں کے خلاف درندگی کے 17 ہزار واقعات ہوئے مگر سرکاری اعدادوشمار بتاتے ہیں 4 ہزار واقعات ہوئے اس جرم کو بوجہ چھپایا جاتا ہے ۔

وفاقی محتسب کی رپورٹ میں جو دل دہلا دینے والے انکشافات کیے گئے تھے , ان کے مطابق ایسے واقعات میں بااثر جاگیرداراور سیاست دان ملوث ہیں۔ جبکہ زیادتی کاشکار غریب , ان پڑھ اور پسماندہ خاندانوں کے بچے ہوئے ہیں۔ ایک سال کے دوران 4193 واقعات ہوئے , جن میں سے بیشتر پنجاب میں ہوئے۔ پولیس کو پیسے دے کر معاملہ دبادیا جاتاہے کیونکہ مقامی جاگیردار اور سیاست دان اس کیلیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے صرف 272واقعات رپورٹ ہوسکے اور صرف 5مجرموں کو سزا ہوسکی۔ کیونکہ بیشتر ملزمان کو بااثر افراد نے چھڑا لیا اور پولیس اس ضمن میں اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام رہی , رشوت لے کر کیس کودباتی رہی۔ اس معاملے میں وکلاء کا رویہ بھی منفی رہا۔ زیادتی کا شکار ہونے والے بچے چونکہ غریب اور ان پڑھ خاندانوں سے تھے , اس لیے ورثاء کو مقامی جاگیردار اور سیاست دان ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے پر مجبور کرتے رہے اور گواہوں کو بھی تحفظ نہیں دیا جاسکا۔ وفاقی محتسب کی رپورٹ کے مطابق قصور میں ایسے واقعات کی ایک بڑی وجہ منشیات فروشی , جسم فروشی اور فحش فلموں کی باآسانی دستیابی بھی ہے۔ لہذٰا ان قباحتوں کے خاتمے کیلیے مؤثر اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ 

ہوسکتا ہے زینب کاقاتل عمران بھی کسی بااثرسرغنہ کاہی ایک کارندہ تھا۔ کیونکہ پنجاب بھر میں بااثر سیاست دانوں اور جاگیرداروں کی سرپرستی میں ایک پورا "چائلڈ پورن مافیا "سرگرم عمل ہے۔ وفاقی محتسب کی رپورٹ سے دوسری بات جوسمجھ میں آئی , وہ یہ ہے کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات میں فحش ویب سائٹس کا اہم اور گھناؤنا کردار ہے۔ جس سے "چائلڈ پورن " ویڈیوز کی فروخت کی بھی تصدق ہوجاتی ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے والدین , اہلِ محلہ اور اساتذہ کو چاہیے کہ اجنبیوں پر نظر رکھیں اور بچوں کو کسی بھی صورت اجنبیوں پر بھروسہ کرنے سے اجتناب کرنا سکھائیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ Child Abuse کی روک تھام کے لیے خاطرخواہ اقدامات کرے۔ 

منشیات فروشی کا دھندہ قصورہی نہیں پاکستان بھر میں اپنے عروج پر ہے۔ کالعدم تنظیمیں افغانستان کے راستے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں "آئس اورتنزانیہ نشے کی وبا تیزی سے پھیلائی جارہی ہے۔ ہماری کئی نامورجامعات کی انتظامیہ کیخلاف مالیاتی بیضابطگیوں کے باعث گزشتہ دنوں قانون نافذکرنیوالے اداروں نے کاروائی کی ہے۔جس ملک کی درسگاہیں ہی اخلاقی گراوٹ کاشکار ہوجائیں ,وہاں اصلاح احوال کی توقع کس سے وابستہ کی جائے؟؟؟ یہ ہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل بیراہ روی کاشکار ہورہی ہے اور اسلامی اخلاقی اقدار سے بغاوت کی مرتکب ہوچکی ہے۔توپھرایسے معاشرے میں سیاست دانوں کی مالیاتی بدعنوانی بھی قابلِ برداشت جرم کیونکر نہ بنے؟؟؟یہ ہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ سیاستدانوں کی کرپشن کادفاع کرتے نظرآتے ہیں۔ کیونکہ ہمارامعاشرہ اخلاقی طورپرزوال کاشکار ہوچکاہے اور ہماری درسگاہیں اب فقط نوکری کے حصول کیلیے ڈگریاں دینے کی فیکٹریاں بن کررہ گئی ہیں۔ 

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ