ایون فیلڈ ریفرنس ، سپریم کورٹ نے سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی

ایون فیلڈ ریفرنس ، سپریم کورٹ نے سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی
ایون فیلڈ ریفرنس ، سپریم کورٹ نے سزا معطلی کیخلاف نیب کی اپیل خارج کر دی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) سپریم کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی سزا کالعدم قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل خارج کر دی ہےاور تینوں  کی ضمانت برقرار رکھی گئی ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں ایون فیلڈریفرنس میں سزامعطلی کیخلاف نیب اپیل کی پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ جس دوران راجہ ظفرالحق ،اقبال ظفرجھگڑا،رفیق رجوانہ عدالت میں پیش ہوئے ۔

وکیل اکرم قریشی نے مؤقف اپنایا کہ ضمانت کے کیس میں میرٹ کو نہیں دیکھا جا سکتا لیکن ہائی کورٹ نے میرٹ کو دیکھا، اس کیس میں عدالت ہائی کورٹ ٹرائل کورٹ کے میرٹ پر گئی جو کہ اختیارات سے تجاوز تھا، ہائی کورٹ نے خصوصی حالات کو بنیاد بنایا۔جسٹس گلزار نے کہا کہ لیکن ضروری نہیں کہ یہ حالات واقعی ایسے ہوں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ضمانت تو اب ہوگئی ہے بی شک غلط اصولوں پر ہوئی ہو، آپ ہمیں مطمئن کریں کہ ہم کیوں کر سزا معطلی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیں۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت منسوخی کے قواعد سے متعلق بتائیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ہائیکورٹ نے کہاشواہد کے مطابق سزابھی نہیں بنتی۔ چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر کے درمیان مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت منسوخی پردلائل دیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ فیصلے کوبرقراررکھا، نیب کوکیامشکل ہے، کیانوازشریف کوبری کردیاگیا؟ ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کے فیصلے کوکہاں نشانہ بنایا؟۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ نیب کے راستے میں کیا مشکل ہے؟ جبکہ ضمانت کا حکم عبوری ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم تب مداخلت کرسکتے ہیں جب ضمانت غلط بنیادوں پرہو، نوازشریف متواترپیشیاں بھگت رہے ہیں اورجیل میں ہیں۔ اکرم قریشی نے کہا کہ جس بنیادپرضمانت دی گئی وہ ہارڈشپ میں نہیں آتی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں ہائیکورٹ نے تفصیلی وجوہات کاذکرکرکے غلطی کی؟آپ چاہتے ہم بھی وہی غلطی دہرائیں؟

خیال رہے کہ 6 جولائی 2018 کو شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی