ایبٹ آباد، یوسی کو ٹھیالہ کے عوام صوبائی وزیر خوراک پر برس پڑے

ایبٹ آباد، یوسی کو ٹھیالہ کے عوام صوبائی وزیر خوراک پر برس پڑے

  



ایبٹ آباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر)لوئر تناول تحصیل میں شامل کرنے پر یونین کونسل کوٹھیالہ کے عوام صوبائی وزیر خوراک پر برس پڑے،ایک مہینہ کی ڈیڈ لائن،احتجاج،جیلیں بھرنے،عدالتی دروازہ کھٹکٹانے سمیت دما دم مست کرنے کا اعلان کردیا،سوموار کے روز ایبٹ آباد پریس کلب میں یونین کونسل کوٹھیالہ کے سابق ویلج ناظمین اور عمائدین نے بڑی تعداد میں پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ارباب اقتدار نے بدترین سیاسی انتقام لیا ہے 8 اگست 2017 کو یوسی کوٹھیالہ کی تین ویلج کونسلز کے 33 ممبران نے متفقہ قرداد منظور کر کے یونین کونسل کوٹھیالہ کو جوں کا توں ایبٹ آباد میں شامل رہنے کا مطالبہ کیا، پریس کانفرنس میں سابق ناظم محمد ندیم،سلیمان خان،ملک پرویز،سابق جنرل کونسلر نثار اعوان،ملک شاہنواز،اور محمد الیاس،سید عارف حسین شاہ،محمد رفیق نے دیگر کے ہمراہ کہاکہ تحصیل لوئر تناول کے قیام کے مخالف نہیں ایک کی جگہ تین بنائیں لیکن کوٹھیالہ کو اس سے نہ جوڑا جائے، جو ایبٹ آباد سے 6 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور تناول کا گیٹ وے بھی ہے، جبکہ چمہڈ اور پاوا جو 25 کلومیٹر ایبٹ آباد سے دور ہیں وہ ایبٹ آباد میں شامل ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ایسی تحصیل کیسے فعال رکھ سکتی ہے جس کا کوئی ریونیو تک نہیں ہے،ڈپٹی کمشنر کی جانب سے انکوائری میں بھی علاقہ کے عوام نے اپنی متفقہ رائے دی،انہوں نے الزام عائد کیا کہ افسران صرف سیاستدانوں کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں،تین ویلج کونسل کے بلدیاتی ممبران نے متفقہ قرارداد منظور کر کے وزیر بلدیات، سیکرٹری بلدیات،ممبر صوبائی اسمبلی،لوکل گورنمنٹ،ضلعی انتظامیہ کو بھجوائی،جس کو مکمل طور پر نذر انداز کیا گیا انہوں نے کہا کہ یونین کونسل کوٹھیالہ کو انتظامی نہیں سیاسی بنیادوں پر تحصیل لوئر تناول میں شامل کر کے صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی، تاج مبارک اور عزیز الرحمن نے علاقہ دشمنی کی انتہا کی،انہوں نے ایک مہینہ کی ڈیڈ لائن دیکر دھمکی دی ہے کہ علاقہ کے عوام کا حق لینے کے لئے احتجاج،جیل بھر تحریک،اور عدالت کا دروازہ کھٹکٹانے سے گریز نہیں کریں گے،دما دم مست قلندر کے متعلقہ لوگ زمہ دار ہونگے۔انہوں سابق تحصیل ناظم اسحاق زکریا کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے لوئر تناول تحصیل کے فنڈ کو غیر شفاف طریقہ سے اپنے علاقہ میں صرف کیا۔انہوں نے تحصیل لوئر تناول میں زبردستی شامل کرنے پر عوامی ریفرنڈم کرانے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...