لنڈی کوتل،نمونیا کے مرض میں اضافہ،3 بچے جاں بحق

    لنڈی کوتل،نمونیا کے مرض میں اضافہ،3 بچے جاں بحق

  



ضلع ٰخیبر بیورو رپورٹ)لنڈیکوتل میں نمونیا کے مرض نے پورے علاقے کو لپیٹ میں لے لیا،ایک ہفتے میں تین بچے جاں بحق ہو گئے،ذرائع ضلع خیبر لنڈیکوتل تحصیل کے مخلتف علاقوں کم شلمان میں ایک ماہ کا بچہ بیت اللہ ولد خیال ولی شخیل کاریگر میں 6ماہ کا بچہ عبید ولد زبیح اللہ اور شیخا نوں کلے میں دو ماہ کا ہرینہ ولد نورولی نمونیہ کے مرض سے جاں بحق ہو گئے سخت سردی اوراور بجلی بندش کی وجہ سے نمونیہ مر ض سے تقریبا ہر گھر ایک بچہ متاثر ہواہیں اس سلسلے میں لنڈیکوتل ہسپتال کے چلڈرن اسپشلسٹ ڈاکٹر راسم شاہ شینواری نے بتا یا کہ سخت سردی کی وجہ سے بچوں میں نمونیا کی بیماری زیا دہ ہو گئی ہیں انہوں نے کہا کہ ہر سال جنوری اور فروری کے مہینے میں اس بچے سے بہت زیا دہ چھوٹے بچے متاثر ہو تے ہیں اس لئے گھر والوں کو چاہئے کہ وہ بچوں کو گرم رکھے اور سردی سے بچائے انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بہت زیا دہ ہیں اس لئے ہسپتال میں کوئی داخل نہیں کر سکتے جبکہ مریضوں کے لواحقین کے مطابق کہ لنڈیکوتل میں تقریبا 18گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہیں اس لئے ڈاکٹرز وارڈز اور کمروں میں مریضو ں کو داخل نہیں کر تے جبکہ زیا دہ تر لوگ غربت کی وجہ سے پشاور نہیں جا سکتے اس لئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہسپتال میں دو یا تین مہینوں کیلئے لوڈشیڈ نگ ختم کریں تاکہ غریب مریضو ں کا علاج معالجہ یہاں پر ہو سکے واضح رہے کہ لنڈی کوتل میں بارش کیاور پہاڑوں پر برف باری کے باعث سردی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے روزانہ کے بنیاد پر درجنوں نمونیا سے متاثرہ بچے علاج کے لئے ہسپتال لاتے ہیں

مزید : پشاورصفحہ آخر