سب اُسی زلف کے اسیر ہوئے

سب اُسی زلف کے اسیر ہوئے
سب اُسی زلف کے اسیر ہوئے

  



کبھی سنا کرتے تھے کہ ”بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا جاتی ہے“…… اب معلوم ہوا کہ بڑی خبر بھی چھوٹی خبر کو دبا جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہی دیکھ لیں وطن عزیز کے حوالے سے اعلیٰ عسکری مناصب پر تعیناتیوں اور توسیع وغیرہ کے لئے سپریم کورٹ کے حکم پر قانون سازی بہت بڑی خبر تھی جو پوری قوم کی توجہ حاصل کئے ہوئے تھی، مگر درمیان میں ہی ایرانی جرنیل قاسم سلیمانی کی عراق میں امریکی ڈرون حملے میں شہادت کا واقعہ ہو گیا جو عالمی اہمیت کا حامل تھا۔ اس خبر نے پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ ہماری قومی اہمیت کی خبر عالمی اہمیت کی خبر کے نیچے دب گئی۔ امریکی ڈرون کے حملے کے نتیجے میں عالمی امن کے لئے حالیہ تاریخ کا سنگین ترین خطرہ پیدا ہو گیا۔

اس المناک سانحہ سے اٹھنے والا دھواں اتنا گہرا تھا کہ بہت ساری دیگر سنگینیاں کم کم دکھائی دینے لگیں، یہاں تک کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں وہ کچھ ہو گیا، جس کا چند روز قبل تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اپوزیشن کی ایوان بالا سینٹ میں اکثریت ہے، وہاں اس کی مرضی کے بغیر قانون منظور ہونا ممکن ہی نہیں۔ ایوان زیریں، یعنی قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو اکثریت تو حاصل نہیں، البتہ عددی اعتبار سے مضبوط ضرور ہے۔ یہاں بھی وہ حکومت کو مشکل میں ڈالے رکھ سکتی ہے،عام حالات میں حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتی بھی رہتی ہے۔ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی مسلم لیگ(ن) اور دوسری بڑی جماعت پیپلزپارٹی ہے۔ دونوں میں موجودہ حکومت آنے کے بعد خاصی ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہے۔دونوں بڑی پارٹیاں حکومت کے زیر عتاب بھی ہیں، جبکہ دونوں بڑی پارٹیاں مقتدر قوتوں سے نالاں بھی ہیں، اس لئے خیال تھا کہ آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی دونوں ایوانوں سے منظوری کی راہ میں کافی مشکلات درپیش ہوں گی، مگر چشم فلک نے جو منظر حیرانی سے دیکھا، وہ یہ تھا:

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

سبھی اس زلف کے اسیر ہوئے

مقتدر زلفِ گرہ گیر نے سب کو درپردہ اس طرح اپنا گرویدہ کیا کہ اعتراض کرنے والوں کو اعتراض بھول گئے اور ترامیم تیار کرنے والوں کی ترامیم دھری کی دھری رہ گئیں۔ بحث کی تیاریاں کرنے والوں کی قوت گویائی تک سلب ہو گئی۔ ایوانوں میں موجود کسی فاضل رکن نے مخالفت نہیں کی۔ اس طرح اس منظوری کو متفقہ قرار دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی لندن میں مقیم قیادت نے اس ترمیم کی غیر مشروط حمایت کا حیران کن اعلان پہلے ہی کر دیا تھا، جس پر بعض ارکان پارلیمنٹ آمادہ نہیں تھے، مگر وہ بھی قیادت کے سامنے بے بس تھے۔ البتہ انہوں نے اس عمل سے الگ رہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرلی۔ مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری پر حکمران جماعت تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے جس گرم جوشی کی توقع تھی، وہ بھی نظر نہیں آئی۔ ہر موقع پر تقریر کرنے کے عادی کپتان نے بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے یا منظوری کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے شروع میں تو مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مسلم لیگی فیصلے کو بھی ہدف تنقید بنایا، مگر پھر ”نہ نہ کرتے پیار تمہیں سے کر بیٹھے“ کی تصویر بن گئے۔ سنا ہے کہ ان کے والد سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے انہیں ترمیمی بل کی حمایت کا مشورہ (یا حکم) دیا۔ حکمران جماعت اور حلیف جماعتوں کی طرف سے ترمیمی بل کی حمایت ہونا ہی تھی، مگر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی طرف سے ”مہایوٹرن“بہت سوں کی سمجھ میں نہیں آیا۔ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ گزشتہ سال ڈیڑھ سال میں ان پارٹیوں کے قائدین کے بازو مروڑے جا چکے ہیں، اب ان میں لڑنے کی سکت نہیں رہی، البتہ اپنے اپنے ووٹروں کے اطمینان کے لئے بڑھکیں وغیرہ لگا کر رانجھا راضی کر لیتے ہیں۔ دوسرا خیال یہ ہے کہ اندر خانے ”باسہولت مستقبل“ کی یقین دہانیاں کرا دی گئی ہیں اور جلد ہی ان کے لئے آسانیاں دکھائی دینے لگیں گی۔ تیسرا خیال زبردست ہے کہ ملکی سیاسی پارٹیاں ایک پیچ پر آئی نہیں، بلکہ ایک سیخ میں پروئی گئی ہیں …… وجوہات کچھ بھی ہوں،مگر ”اندر خانے“ والی افواہوں کو تقویت ملنا شروع ہو گئی ہے۔

اسلامی نظریہ کونسل کے دو روزہ اجلاس کے بعد چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے نیب کے طریقہ کار اور کارکردگی کے جس طرح بخئے ادھیڑے ہیں، ان سے لگتا ہے کہ نیب کے دانت نکالنے کے لئے کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے۔ کونسل نے قرار دیا ہے کہ نیب کا عمومی تصور اسلامی اصولِ احتساب کے ساتھ ہم آہنگ نہیں۔ ملزمان کو ہتھکڑی لگانا، میڈیا پر تشہیر کرنا اور بے گناہ کو ملزم ثابت کرنا غیر اسلامی ہے۔ کونسل نے مزید قرار دیا کہ بیگناہی ثابت کرنا ملزم کی ذمہ داری نہیں۔ کونسل کے مطابق بغیر مقدمہ چلائے کسی کو طویل حراست میں رکھنا، وعدہ معاف گواہ بنانا اور پلی بارگین کرنا غیر شرعی ہیں۔ اس طرح اسلامی نظریہ کونسل نے نیب آرڈیننس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی قانون یا ادارے کو غیر شرعی قرار دے دیا جائے تو اس ادارے کا وجود ہی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس کی وجہ ملکی آئین کا زور دار ابتدائیہ ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ دوسری طرف جمعرات کو ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی نمائندوں کے اجلاس کی خبر بھی ہے، جس میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق حکومت نیب ترمیمی آرڈیننس واپس لینے پر نہ صرف رضا مند ہو گئی ہے، بلکہ اس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ترمیم شدہ نیا آرڈیننس، اپوزیشن کی پیش کردہ ترامیم شامل کرکے، ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 9آرڈیننسوں پر معاملات طے پا گئے ہیں۔ ان میں سے تین آرڈیننس (اپوزیشن کے تعاون سے) منظور شدہ تصورہوں گے۔ باقی 6میں سے 4کو دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ دو بل قائمہ کمیٹی کو بھیج کر ترامیم کے ساتھ منظور کرائے جائیں گے۔ قانون سازی سے متعلق اس اجلاس میں حکومت نے اپنی یک طرفہ ٹریفک چلانے کا رویہ ترک کرکے اپوزیشن کو ہمرکاب کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اسی طرح مسلح افواج سے متعلق قانون سازی کے موقع پر بھی حکومتی عقابوں نے اپوزیشن پر حملے کرنے کی اپنی سابقہ روش سے پرہیز کیا۔ یہاں تک کہ مراد سعید نے بھی کسی کو چور کہہ کر نہیں پکارا……”ڈیل اور ڈھیل“ سے انکاری حکمرانوں نے لگتا ہے کہ حکمرانی کے تقاضوں سے بالآخر ہم آہنگی اختیار کرنے کے اشارے دینا شروع کر دیئے ہیں۔ یوں بھی خطے میں امریکہ ایران کشیدگی سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ نہ صرف اہل سیاست گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ کو فروغ دیں، بلکہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہو۔ جیسے ہر آزمائش کے موقع پر ناگزیر ہوتا ہے، مگر کہتے ہیں کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اپوزیشن کو بھی زندہ رہنے کا حق دے کر تعاون کی راہ پر چلایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کا تعلق ہے تو ان کی اہمیت کو صرف اعداد کی روشنی میں نہ دیکھا جائے۔ ”قوم کے محب وطن“ بہی خواہوں کو ان کی بائیکاٹ پالیسی ختم کرانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے، تاکہ بیرونی خطرات کے مقابلے میں پوری قوم ایک صفحے پر نہ صرف دکھائی دے، بلکہ حقیقی معنوں میں قومی اتحاد کے مظاہر نظر بھی آئیں۔

مزید : رائے /کالم