ڈولفن فورس کی کارکردگی

ڈولفن فورس کی کارکردگی
ڈولفن فورس کی کارکردگی

  



ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان بہترین سیاحتی مقامات کی فہرست میں اول نمبر پر آیا ہے جو پاکستان کے لئے ایک بہت بڑی خوش خبری ہے…… اگر 80کی دہائی کے شروع میں چلے جائیں تو پاکستان دہشت گردی میں لپٹا ہوا تھا۔ پاکستان کا نام سن کر صرف یہی ذہن میں آتا تھا کہ وہاں بہت حملے ہوتے ہیں، بالکل محفوظ ملک نہیں ہے اور سیاحوں کے لئے تو باقاعدہ موت کا خطرہ ہے۔ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا جب 2011ء میں قتل ہوا،تب تو ہم پر ایک ٹیگ لگ گیا تھا کہ ہم دہشت گرد بناتے ہیں۔ صدی کے اتنے ڈراؤنے آغاز کے بعد یہ امید ہی نہیں کی جا سکتی تھی کہ ہم اختتام اتنا خوب صورت کر پائیں گے۔ بلاشبہ دہشت گردی کے خاتمے میں ہماری فوج اور پولیس کا بڑا ہاتھ ہے۔ اب جو ہمارے ملک میں امن و سکون ہے، اس کی وجہ ہمارے فوجیوں اور سپاہیوں کی دلیری ہے۔ دہشت گردی کے علاوہ اگر ہم اسٹریٹ کرائم کی بات کریں تو اس میں بھی بہت واضح کمی ہوئی ہے،اس کمی کی سب سے بڑی وجہ ڈولفن پولیس فورس ہے۔

ڈولفن فورس اسٹریٹ کرائم سے نمٹنے کے لئے پنجاب پولیس کا ایلیٹ سیکیورٹی یونٹ ہے۔ استنبول پولیس ڈولفن فورس کے بعد اس کی تشکیل چیف منسٹر شہباز شریف نے لاہور میں کی اور اپنے مقصد، یعنی اسٹریٹ کرائم میں کمی لانے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ پنجاب کے پانچ اور شہروں میں ڈولفن پولیس کی بنیاد رکھی گئی۔ ڈولفن فورس کے کمانڈ سنٹر کی سربراہی ایس پی کرتے ہیں اور اسے سگیاں پل، اقبال ٹاؤن، ہربنس پورہ، چوہنگ، سول لائنز اور ماڈل ٹاؤن میں تقسیم کیا جاتا ہے، جس میں پچاس موٹرسائیکلیں شامل ہیں۔ اس فورس میں اٹھارہ سو کانسٹیبل،ساٹھ اے ایس آئی، پندرہ ایس آئی، چار ڈی ایس پیز اور ایک ایس پی شامل ہوں گے جو تین سو موٹرسائیکلوں کے ساتھ تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ اس سامان میں تین سو، پانچ سو سی سی ہونڈا موٹرسائیکلیں، فیلڈ سپورٹ کے لئے دس منی بسیں، چھ سو ہیلمٹ، چھ سو کیمرہ باڈی کیم،دو سو جی پی ایس لوکیٹر اور تین سو وائرلیس ریڈیو شامل ہیں۔ ڈولفن پولیس فورس کی اپنی پہچان اس کا یو نیفارم ہے۔

ڈولفن کے آنے سے چوریاں اور ڈکیتیاں بہت کم ہوگئی ہیں۔ اگر ایک شخص چوری کرنے کا ارادہ کر کے بیٹھا ہے اور اسی وقت وہاں سے ڈولفن یا پی آر یو کا چکر لگ جائے۔ ویسے تو ہمارے سپاہی اتنے ذہین ہیں کہ مشکوک فرد کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں، لیکن اگر وہ شخص نظروں سے نکل بھی گیا پھر بھی اس کے دل میں یہ خوف رہے گا کہ دوبارہ بھی چکر لگے گا ان کا۔ یہی ڈر بہت سے چوروں کے دل میں بس سا گیا ہے کہ اگر ان کا چکر لگا تو ہم گئے، اسی لئے کرائم ریٹ میں کمی آئی ہے۔ کڑی سردی ہو یا پسینے چھڑا نے والی گرمی، یہ جوان اپنے کام کو نہایت ایمانداری اور وفاداری سے سر انجام دیتے ہیں۔ ڈولفن پولیس کے حوالے سے میرے ذہن میں کچھ سوالات تھے۔ اسی سلسلے میں مَیں نے ڈولفن ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور پی آر او ڈولفن پولیس یاسین بٹ سے ملاقات کی جو بڑی مفید ثابت ہوئی۔ عوام کو سب سے زیادہ سکون اور آسانی تب ہوتی ہے، جب انہیں پتا ہو کہ ان کے محافظ واقعی محافظ ہیں۔ ڈولفن پولیس فورس بڑی حد تک کرپشن اور دیگر خرابیو ں سے پاک ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ان کا شکایات سیل پوری طرح سے عوام کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور شکایت پر باقاعدہ انکوائری کمیٹی بیٹھتی ہے۔ میری عوام سے درخواست ہے کہ اپنی رائے ڈولفن فورس کے بارے میں درست کریں اور اگر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو جلد از جلد شکایت کردیں، تاکہ فورس اس برائی سے پاک ہو جائے اور وہ وقت جلدی آئے کہ ہمارا کرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔

مزید : رائے /کالم


loading...