ٹیکس ہدف میں 287 ارب کی کمی نے کاروباری برادری کی پریشانی میں اضافہ کیا‘ زاہد حسین

    ٹیکس ہدف میں 287 ارب کی کمی نے کاروباری برادری کی پریشانی میں اضافہ کیا‘ ...

  



ملتان(نیوز رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م کے صدر اوربزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے ٹیکس ہدف میں 287 ارب روپے کی کمی نے کاروباری برادری کی پریشانی میں اضافہ کر کے انھیں مضطرب کر دیا ہے۔ ٹیکس کے ہدف کو کم(بقیہ نمبر52صفحہ12پر)

کرنے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ہر ممکن کوشش کے باوجود ٹیکس اہداف حاصل نہیں کئے جا سکے ہیں جس کی وجوہات میں اقتصادی سست روی اور درآمدات کی حوصلہ شکنی شامل ہیں۔ درآمدات میں 6 ارب ڈالر کی کمی سے محاصل کی مد میں 330 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ریٹیل، ہول سیل اور زراعت کا جی ڈی پی میں 36 فیصد حصہ ہے مگر ان سے حاصل ہونے والے محاصل معمولی ہیں جبکہ سال بھر میں حکومت کی آمدن میں ایک ہزار ارب روپے کے شارٹ فال کا امکان ہے جسکی وجہ سے حکومت کے پاس ٹیکسوں کی شرح میں مزید اضافہ، توانائی کی قیمت بڑھانے اور منی بجٹ آپشن رہ جاتے ہیں جس کے خدشات سے کاروباری برادری خوفزدہ ہو گئی ہے۔ درآمدات کی حوصلہ شکنی سے تجارتی خسارہ کم ہوا ہے مگر اس پر زیادہ فوکس سے معیشت سکڑ گئی جبکہ محاصل کی مد میں بھاری نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔ سال رواں کے ابتدائی پانچ ماہ میں محاصل میں جو209ارب روپے اضافی جمع کئے گئے ہیں اس میں زیادہ کردار توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اوربالواسطہ ٹیکسوں نے ادا کیا جس نے متمول طبقہ پر ٹیکس کا بوجھ بڑھانے کے بجائے عوام کو متاثر کیا ہے جبکہ تمام اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا۔انھوں نے کہا کہ ٹیکس اہداف میں مزید کمی ممکن نہیں اس لئے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لئے مزید ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہو گئی ہے جس کی بجلی ٹیکس گزاروں اور عوام پر ہی گرے گی اور انکی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔انھوں نے کہا کہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کی پالیسی انتہائی ضرر رساں ہے اور ملک کو اس وقت براہ راست ٹیکس کے منصفانہ اورمتوازن نظام کی ضرورت ہے تاکہ بالواسطہ ٹیکسوں کے جابرانہ نظام سے جان چھڑائی جا سکے، مہنگائی کم ہو اور غریب عوام سکھ کا سانس لے سکے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ ٹیکس کے نظام کو متوازن کرنے کے لئے ہر قسم کی آمدنی پر ٹیکس عائد کئے جانے کے علاوہ تاجروں اور زرعی شعبہ کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہو گیا ہے کیونکہ ملکی معیشت میں دونوں کا مجموعی حصہ36 فیصد ہے اور یہ جب تک ٹیکس نیٹ میں نہیں آئیں گے اسکا بوجھ عوام کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

میاں زاہد حسین

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...