ہم حادثوں سے سیکھتے کیوں نہیں؟

ہم حادثوں سے سیکھتے کیوں نہیں؟
ہم حادثوں سے سیکھتے کیوں نہیں؟

  



ہماری قومی بیماریوں میں ایک بڑی بیماری نہ سیکھنے کی ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ان صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے کہ وہ سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ہر 12 منٹ کے بعد نئی ٹیکنالوجی یا نئی سوچ آجاتی ہے۔ دنیا اب برسوں، مہینوں یا ہفتوں میں نہیں، بلکہ دنوں، گھنٹوں اور منٹوں میں تبدیل ہو رہی ہے۔ پہلے ہم صنعتی ترقی سے حیران ہوتے تھے، اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب نے کمال کر دیا ہے، لیکن یہ سارا کمال اغیار کا ہے اور اس کے فوائد بھی انہی کے ہیں۔ ہم اگر کچھ فائدہ اٹھا بھی رہے ہیں تو وہ بھی انہی کا مرہون منت ہے۔ آج کی دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نت نئی راہیں تلاش کر رہی ہے۔نہ تو دنیا کی کوئی چیز پوشیدہ رہ سکتی ہے اور نہ ہم دنیا سے الگ ہو کر رہ سکتے ہیں،لیکن جب ہم کچھ سیکھنا ہی نہیں چاہتے، کچھ سمجھنے سے ہی قاصر ہیں، سوچنے اور سوال کرنے پر پابندیاں لگی ہیں تو پھر ہم دنیا کے ساتھ کیسے چل سکتے ہیں؟…… ہم مذہبی، سیاسی اور تہذیبی طور پر اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ ناصر کاظمی نے اسی حوالے سے لکھا تھا:

پکار اے جرس کارواں صبح طرب

بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی

دنیا میں لوگ ذاتی اور اجتماعی طور پر اپنے مسائل کوسمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے لئے سوچتے اور ہر روز نت نئے طریقے تلاش کرتے ہیں۔ اپنے حادثات سے سیکھ کر آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کی تدابیر کرتے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ مشرقی پاکستان جیسے المناک حادثے سے کچھ سیکھ سکے، نہ باقی ماندہ پاکستان میں روزانہ ہونے والے حادثوں سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دردناک حادثہ گزشتہ روز پنجاب کے ضلع گجرات کے ایک گاؤں گوچھ میں پیش آیا ہے۔ تحصیل کھاریاں کی یونین کونسل آچھ کے دو جڑواں گاؤں آچھ گوچھ کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ گاؤں پنجاب کے نامور لوک گیتوں کے بادشاہ محمد عالم لوہار مرحوم کی جائے پیدائش بھی ہے۔ عالم لوہار نے اسی گاؤں میں اپنا بچپن گزارا اور جوانی کی دہلیز پر پاؤں رکھتے ہی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ گزشتہ روز اس گاؤں میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ایک حادثے کا شکار ہو کر لقمہء اجل بن گئے۔ اس حادثے پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے، لیکن اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ یہ اس نوعیت کا پہلا سانحہ ہے، نہ اس کے آخری ہونے کی کوئی گارنٹی ہے، کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ نہ تو ہم ان حادثات سے سیکھتے ہیں، نہ ان کی روک تھام کے لئے کچھ کرتے ہیں۔ پاک فوج کا ایک ریٹائرڈ سپاہی، جو پہلے ہی انتقال کر چکا تھا،اس کا 6 افراد پر مشتمل خاندان رات کو خوش باش سویا اور صبح جل کر راکھ ہو چکا تھا۔

مرنے والوں میں فوجی کی بیوہ، اس کے دو غیر شادی شدہ جوان بیٹے،جن کی عمریں 28 اور 30 برس بتائی جاتی ہیں، ایک جوان کنواری بیٹی اور دو شادی شدہ بیٹیاں، جو اپنی ماں اور بہن بھائیوں سے ملنے کے لئے میکے آئی ہوئی تھیں، رات سردی کی وجہ سے کوئلوں کی انگیٹھی جلا کر دو کمروں میں سو گئے۔ گھر میں کوئلوں کی گیس بھرنے اور بعد میں آگ بھڑک اٹھنے سے پورا گھر جل گیا اور بدقسمت خاندان کے تمام افراد جل کر راکھ ہو گئے۔ علاقے میں ایک ساتھ اتنے جنازے اٹھنے پر کہرام مچ گیا۔یہ قیامت صغریٰ کا منظر تھا، لیکن کیا کوئی آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لئے بھی کچھ سوچ رہا ہے؟ کیا یہ پہلا واقعہ ہے؟ کیا ہر سال سردیوں میں ایسے ہی اور ان سے ملتے جلتے درجنوں سانحات رونما نہیں ہوتے؟ تو پھر ہم اب یہ امید کیسے رکھیں کہ یہ حادثہ آخری ہوگا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم پر اس سے بڑی قیامتیں گزر چکی ہیں اور ہم نہ صرف یہ کہ ان کی روک تھام نہیں کر سکے، بلکہ پھر انہی غلطیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں، جن سے مشرقی پاکستان جیسا سانحہ عظیم رونما ہو چکا ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ جو حکومتیں ہم منتخب کرتے ہیں، یہ جو اتنے زیادہ ادارے ہم نے بنا رکھے ہیں،یہ جو اس ملک کے وسائل پر اتنا بڑا بوجھ ہیں ……آخر کس مرض کی دوا ہیں؟ ان کا کام کیا ہے؟…… یا پھر ان اداروں اور حکومت میں بیٹھے لوگ صرف لوٹ مار کے لئے آتے ہیں، ان کی اپنے ملک اور ملک کے باسیوں سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے؟ کیا یہ نہیں جانتے کہ ایک انسانی جان کی قیمت کیا ہوتی ہے؟

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں 2019ء کے دوران ایک بندہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوا، حکومت اور متعلقہ حکام اس پر مسلسل سوچ بچار کر رہے ہیں کہ آئندہ سال اس طرح کے حادثوں سے کس طرح بچنا ہے؟…… اور ایک ہم ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں ٹریفک حادثوں میں درجنوں لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں اور ہمارے حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے اسلامی ملک کے اداروں میں بد دیانت لوگ بیٹھے ہیں،وہ جس کام کی تنخواہیں لیتے ہیں، وہ کام نہیں کرتے، ہماری حکومت میں بیٹھے لوگ ذاتی مفادات کے لئے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور جیت کر اپنے ہی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ان کے ذاتی مفادات بھی اس ملک کے ساتھ وابستہ ہیں اور مخدوش ہوتے ملکی حالات کا شکار وہ خود بھی ہو سکتے ہیں اور ان کی آنے والی نسلیں بھی ……اگر وہ لندن میں نہیں ہیں تو……!

نوٹ۔ جو لوگ مایوسی کے عالم میں یہ فرماتے ہیں کہ ہمارے مسائل کا کوئی حل نہیں، وہ یہ تو بتائیں کہ انہوں نے مسائل کے حل کے لئے کون کون سے اقدامات کیے ہیں، کیا کوشش کی ہے؟ مانا کہ ہماری قوم میں تاریخ سمیت کسی بھی کتاب کے مطالعہ کی عادت نہیں ہے، لیکن اب تو بغیر دماغ خرچ کیے آپ کو انٹرنیٹ اور یوٹیوب سے ہر مسئلے کا حل بھی مل سکتا ہے، بشرطیکہ آپ انٹرنیٹ کا مطلب انٹرٹینمنٹ نہ لیتے ہوں۔

مزید : رائے /کالم


loading...