شاخِ نازک پہ آشیانہ

شاخِ نازک پہ آشیانہ
شاخِ نازک پہ آشیانہ

  



شاخِ نازک پر آشیانہ ہو تو پتے بھی ہوا دینے لگتے ہیں ……2018ء کے انتخابات میں وزیراعظم عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ تو ملی، مگر شاخِ نازک پر آشیانے کی مانند…… یہ تو بھلا ہو مقتدر قوتوں کا کہ انہوں نے شاخِ نازک پر بنے اس آشیانے کو اب تک گرنے نہیں دیا، وگرنہ مواقع تو کئی آئے جب باد مخالف کے تھپیڑے کچھ بھی کر سکتے تھے۔ اب تازہ تھپیڑا ایم کیوایم کی طرف سے آیا ہے۔ ایم کیو ایم نے وفاقی کابینہ سے نکلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ظاہر ہے ایم کیو ایم کے سات ووٹ بڑی اہمیت رکھتے ہیں، ان کی وجہ سے حکومت کھڑی ہے، وہ چھوڑ جائیں تو چاروں شانے چت گر سکتی ہے……یہ بات بھی دنیا جانتی ہے کہ ایم کیو ایم والوں کو خوش رکھنا ایک ناممکن سی بات ہے، انہیں نہ تو مسلم لیگ (ن) خوش رکھ سکی اور نہ ہی پیپلزپارٹی…… ہاں وہ پرویز مشرف کے دور میں بہت خوش رہے،کیونکہ اس دور میں کراچی مکمل طور پر ان کے حوالے کر دیا گیا تھا اور سارے فیصلے بھی ان کی مرضی سے ہوتے تھے……ایم کیو ایم سے پہلے اختر مینگل حکومت سے نکلنے کی درجن بار دھمکی دے چکے ہیں، انہیں نئے سرے سے کچھ یقین دہانیاں کراکے چپ کرا دیا جاتا ہے، تاہم وہ بھی چونکہ یہ جانتے ہیں کہ شاخِ نازک پر قائم یہ حکومت ان کے سہارے کی مرہونِ منت ہے، اس لئے گاہے بہ گاہے اپنی اہمیت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ ایک طرف عمران خان اتنے مضبوط وزیراعظم نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اتنے کمزور ہیں کہ کوئی ایک اتحادی جماعت اونچی آواز میں کھانس بھی لے تو حکومت کے در و دیوار ہل جاتے ہیں اور اسے منانے کی تگ و دو شروع ہو جاتی ہے۔

اپوزیشن کی جماعتیں کیا چاہتی ہیں، یہ بھی کسی کو پتہ نہیں، کیونکہ اگر وہ ان ہاؤس تبدیلی لانے کی خواہشمند ہیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں، آج پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) اکٹھی ہوں تو ان ہاؤس تبدیلی آ سکتی ہے، مگر وہ یہ کام کر نہیں رہیں، البتہ حکومت گرانے کی خواہش کا اظہار ضرور کرتی رہتی ہیں۔ کیا اس کا مقصد صرف یہی ہے کہ عمران خان کو ”شیر آیا شیر آیا“ کی گردان کرکے خوفزدہ رکھا جائے، کیا وہ جانتی ہیں کہ اس وقت ملک کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہیں، اس کی ذمہ داری اٹھانے کی بجائے جتنے بُرے فیصلے ہیں، وہ تحریک انصاف کی حکومت سے کرائے جائیں، تاکہ آئندہ کے لئے عوام تحریک انصاف کو ووٹ دینا تو کجا، اس کا نام تک سننا گوارا نہ کریں۔ وزیراعظم عمران خان تو اپنی دھن میں ملک کو ٹھیک کرنے پر لگے ہوئے ہیں، لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اس ملک میں کروڑوں عوام بھی رہتے ہیں، جن کے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ اور ان کے معاشی منیجرز یک طرفہ ٹریفک چلائے جا رہے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ جن لوگوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے، وہ اس کی سکت بھی رکھتے ہیں یا نہیں؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ حکومت کی سمت درست نہیں، ایک خود ساختہ خواب کے پیچھے دوڑ رہی ہے۔ خوشحالی و خود انحصاری کا خواب، جس کی تعبیر دور دور تک نظر نہیں آ رہی۔ عوام کی قوتِ خرید کو زمین سے لگا کر ملک کو اٹھانے کا خواب دیوانے کی بڑ ہی نظر آتا ہے۔

3

عمران خان جب اقتدار میں آئے تھے، ان کے عزائم کس قدر بلند تھے۔ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد انہوں نے قومی اسمبلی میں کس درجہ جوشیلے انداز میں تقریر کی تھی۔ کسی کو نہ چھوڑنے اور ملک میں قانون کی عملداری قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ یوں لگ رہا تھا، جیسے وہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں اور ہر فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ اس وقت بھی بعض دبی دبی آوازوں نے مشورہ دیا تھا کہ عمران خان کو حکومت بنانے کی بجائے اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے، کیونکہ کپتان جو ایجنڈا لے کر اقتدار میں آئے تھے، اس کے لئے لولی لنگڑی حکومت کارگر ثابت نہیں ہو سکتی تھی، مگر وہ بائیس برسوں سے جس اقتدار کے لئے جدوجہد کررہے تھے، اسے اتنے قریب پا کر کھونا بھی نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے چند نشستیں رکھنے والی پارٹیوں سے کڑی شرائط پر اتحاد کیا۔ حکومت بنائی،اچھی ٹیم نہ ملی تو حالات بس سے باہر ہوتے گئے۔ اقتصادی ٹیم کو تبدیل کیا، نئی ٹیم بنائی، وہ بھی کچھ نہ کر پائی اور عوام کو ریلیف دینے کی کوئی ایک کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی، اب اس ٹیم میں بھی اختلافات کی افواہیں گردش کر رہی ہیں، کیونکہ جو اہداف دیئے گئے تھے، وہ پورے نہیں ہو پا رہے، اُلٹا مسائل میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب ایک طرف یہ چیلنج ہے تو دوسری طرف اتحادی ہیں کہ چین سے بیٹھنے نہیں دے رہے۔ اتحادی تو رہے ایک طرف، خود تحریک انصاف کے اندر گروپ بندی اور فارورڈبلاک بننے کی افواہیں بھی ہر روز سننے کو ملتی ہیں۔ اپوزیشن کو تو بظاہر دیوار سے لگا دیا گیا ہے…… اس میں اپوزیشن کا اپنا کیا کردار ہے اور حکومت نے اسے ناکام بنانے کے لئے کیا جادو پھونکا ہے، اس سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن چاہے جتنی بھی کمزور اور ناکام ہو جائے، اس سے حکومت کو کبھی تقویت یا کامیابی نہیں ملے گی، کیونکہ حکومت کی کارکردگی بہتر ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

ایسے حالات میں جب ایم کیو ایم نے اپنی چال چلی ہے تو حکومت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ شاخِ نازک پر بنا آشیانہ ڈانوا ڈول ہو گیا ہے۔ حکومت سمجھی تھی کہ بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل ہونے کی جو دعوت دی تھی، وہ ایم کیو ایم نے حکومتی کوششوں سے رد کر دی، مگر اس کے لئے ایم کیو ایم کو دیا کیا گیا؟ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں۔ اب ایم کیو ایم نے کراچی کے لئے تیس ارب دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کپتان تو ایک ارب دینے کو تیار نہیں ہوتے، تیس ارب کیسے دیں گے؟ ……ایک مرتبہ پھر اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، مگر ایم کیو ایم والے کوئی اناڑی کھلاڑی نہیں، لوہا گرم دیکھ کر بروقت چوٹ لگانا ان کی پرانی عادت ہے۔ اگلے چند دنوں میں سب دیکھیں گے کہ ایم کیو ایم کے پیپلزپارٹی سے رابطے شروع ہو گئے ہیں، یہ ایسی چال ہوگی جو جوڑ توڑ میں نا تجربہ کار تحریک انصاف کے اوسان مزید خطا کر دے گی۔

حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ کپتان کو ایم کیو ایم کے کچھ ایسے مطالبات ماننے پڑجائیں جو ان کی بنیادی پالیسی سے لگا نہیں کھاتے۔ ایم کیو ایم چاہتی ہے کہ کراچی پر اس کا غلبہ برقرار رہے، اس لئے اس کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ کراچی میں جتنے بھی ترقیاتی کام کرائے جائیں، ان پر ایم کیو ایم کا ٹھپہ ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم بلدیہ کراچی کے لئے اربوں روپے کے فنڈز اس لئے مانگ رہی ہے کہ کراچی کی میئرشپ اس کے پاس ہے۔ پھر وہ اسی ہلے میں اپنے وہ دفاتر بھی واپس لینا چاہتی ہے، جو ایم کیو ایم نے شہر کے مختلف حصوں میں قبضے کرکے قائم کئے تھے۔ کراچی آپریشن کی کامیابی میں ان سیکٹرز دفاتر کی بندش نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ظاہر ہے یہ دفاتر آسانی سے ایم کیو ایم کو نہیں دیئے جا سکتے۔ ایک کمزور حکومت کے معاملات جس انداز سے چلتے ہیں، موجودہ حکومت کے بھی اسی انداز سے چل رہے ہیں، ایسے میں کوئی بڑی کامیابی معجزے کے بغیر ممکن نہیں اور فی الوقت کسی معجزے کا امکان بھی دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔

مزید : رائے /کالم


loading...