کچھ مزید سائبر وار فیئر کے بارے میں

کچھ مزید سائبر وار فیئر کے بارے میں
کچھ مزید سائبر وار فیئر کے بارے میں

  



اپنے منہ میاں مٹھو بننا میرے نزدیک حد درجہ قابلِ مذمت ہے لیکن اظہارِ حقیقت یہ ہے کہ کل کا جو کالم سائبر وار فیئر پر تھا اسے بہت سے قارئین نے پسند کیا اور بیشتر نے تقاضا کیا کہ چونکہ اس موضوع پر نہ صرف اردو پرنٹ میڈیا بلکہ انگریزی معاصر میں بھی شاذ و نادر ہی کوئی کالم / مضمون پڑھنے کو ملتا ہے اس لئے اس اہم فیلڈ کے بارے میں زیادہ آگہی دیجئے…… سو آج کا کالم بھی اگرچہ اسی موضوع پر ہے لیکن وہ جو کہا جاتا ہے کہ کمرے میں زیادہ اندھیرا ہو تو زیادہ شمعیں جلانا پڑتی ہیں تو میں اپنے کالم نگار بھائیوں (اور بہنوں) سے توقع رکھوں گا کہ وہ بھی اس موضوع پر لکھیں تاکہ ایک نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیکل فیلڈ کی ضرورت اور اہمیت واضح تر ہو سکے۔

آج کا دور انفرمیشن کا دور ہے جس میں ملکی سلامتی کے لئے ہرطرح کے معلوماتی سیلاب سے ہمارے جیسے ترقی پذیر اور تشنہ لب معاشروں کو سیراب ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ آج کی بعض ریاستوں کی جغرافیائی حدود کا تصور اگرچہ صدیوں پرانا ہے لیکن سائبر ٹیکنالوجی نے ان حدوں کو لامحدود کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ مشرق و مغرب کے قلابے ملا دیئے گئے ہیں بلکہ ایسے نئے قلابے بھی دریافت ہو چکے ہیں جو کسی بھی روک ٹوک سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں۔ ذرا اس بات پر غور کیجئے کہ ہم انٹرنیٹ کی سہولیات پر تو کرفیو نافذ کر سکتے ہیں لیکن سائبر سپیس (Space) ایک ایسی کائنات ہے جو کسی کرفیو کو قبول نہیں کرتی۔اس ٹیکنالوجی نے معلومات عامہ کو دنیا کے ایک کونے سے اٹھا کر دوسرے کونے تک پہنچانے میں پلک جھپکنے کے دورانیئے کو بھی مختصر کر دیا ہے۔ اس تیز ترین وسیلہ ء معلومات نے جہاں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگہی دی ہے وہاں اس آگہی کو کرپٹ کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ سائبر وار فیئر ایک نہائت پیچیدہ موضوع ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہء جنگ ہے جو روائتی جنگ (Conventional War) سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس میدانِ جنگ کو سائبر سپیس کہا جاتا ہے۔

اس جنگ کو لڑنے کے طور طریقے مختلف اور متعدد ہیں۔ مثلاً اول یہ کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت سی مطلوبہ اور حساس نوعیت والی معلومات کی جاسوسی کی جا سکتی ہے۔ ڈیجیٹل معلومات کو چرانا اور اس کے گھر میں نقب لگانا اب باقاعدہ اس وار فیئر کی ایک ٹیکٹکس(چال) بن چکا ہے…… دوم یہ کہ کمپیوٹر پروگراموں کی جو ویب سائٹس (Web Sites) بنائی جاتی ہیں ان کی ”لوٹ مار“ بھی آسان ہو گئی ہے یعنی ان Sites پر اچانک ڈاکہ ڈال کر اس کو بے اثر یا بے کار بنایا جا سکتا ہے…… سوم یہ کہ کسی بھی کمپیوٹر کا ڈیٹا کسی بھی جگہ سے اچک کر اپنی ”جیب“ میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اس کی سینکڑوں ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں، مثلاً آپ نے کسی کاروبار کے لئے کوئی فیکٹری لگائی اور اس میں ڈیجٹیل کمپیوٹر بھی نصب کر دیئے ہیں تو ان کمپیوٹروں سے گزرنے والا ڈیٹا جو آپ کے لئے انتہائی خفیہ مواد ہو گا وہ اس سائبر وار فیئر کے توسط سے اچک کر اپنے ہاں لایا جا سکتا ہے اور اس قسم کی فیکٹری اپنے ہاں قائم کی جا سکتی ہے۔ امریکہ کی بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کو چین نے اچک کر اپنے ہاں لگا لیا۔ اور ایسی فیکٹری کے آغاز سے انجام تک کے تمام تعمیری مراحل کو ایک تصویری شکل میں آپ کے سامنے رکھ دیاجائے تو آپ اس فیکٹری کی تعمیرِ نو کو روک نہیں سکتے۔ امریکہ کی سِلی کون وادی میں آج جو جدید مشنیں کام کر رہی ہیں، جو ایجادات سامنے آ رہی ہیں اور جن نئی معلومات کا سافٹ ویئر چشم زدن میں آپ کے پاس آ رہا ہے

اس کو روکنے کا کوئی حربہ / وسیلہ آ پ کے پاس نہیں۔ امریکہ میں ایسے ہزاروں لاکھوں کارخانے اور پراجیکٹ ہیں جن کا تعمیری ڈیٹا سائبر وار فیئر کے توسط سے اچک لینا، ممکنات میں سے بن چکا ہے۔…… چہارم یہ کہ آپ کسی بھی فیلڈ کا کوئی سا ساز و سامان (Equipment) اگر مینو فیکچر کر رہے ہیں تو اس کی تعمیر و تشکیل کو آپ سائبر وار فیئر کے ذریعے Disrupt بھی کر سکتے ہیں۔ یعنی اس میں خلل اندازی کا اختیار آپ کو حاصل ہو سکتا ہے…… پنجم یہ کہ اگر آپ کوئی نیا انفراسٹرکچر کسی جگہ کھڑا کر رہے ہیں تو اس کی تفصیلات اور تصاویر تو آپ حسبِ معمول Whatsapp کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس انفراسٹرکچر کے اہم اور حساس تشکیلی مراحل کی تفاصیل آپ سائبر سپیس پر ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ اصول ایک مسلسل تگ و دو کا حصہ ہے۔ کسی بھی پراجیکٹ کا معمار اور بانی یہ کوشش کرتا ہے کہ اس پراجیکٹ کی تفصیلات کی سیکیورٹی کا از بس اہتمام کیا جائے۔ دوسری طرف آپ کا حریف بھی ہے کہ ان تفصیلات کو اچک لے جانے میں دن رات کوشاں رہتا ہے۔ہم اکثر سنتے اور پڑھتے آئے کہ چین ریورس انجینئرنگ میں ایک خاص الخاص مقام کا حامل ملک ہے۔ آپ اگر کوئی جدید ترین دفاعی ہتھیار (مثلاً F-35 طیارہ) امریکہ سے خریدتے ہیں اور اگلے روز اس کو چین بھیج دیتے ہیں تو اس بات کا امکان موجود رہتا ہے کہ چین بہت جلد اس کی ہوبہو نقل بنا لے گا۔ لیکن اس میں جو خفیہ آلات، راڈارز اور سنسرز وغیرہ نصب ہیں ان میں جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر استعمال کیا گیا ہے۔ اس سافٹ ویئر کی سیکیورٹی کا بھی ایک فول پروف پروگرام اس حصے پر نصب ہے جس تک بظاہر چینی انجینئروں کی رسائی ممکن نہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر آج نہیں تو آنے والے کل میں یہ رسائی قابلِ حصول ہو گی۔

امریکہ میں انٹرنیٹ سیکیورٹی پر بہت کام ہو رہا ہے۔ ان کمپنیوں میں سے ایک کا نام میک آفی (Mc Afee) سیکیورٹی کمپنی ہے۔اس کمپنی کا بانی جان میکافی ایک امریکی تھا جس نے یہ کمپنی 35،40 برس پہلے لگائی تھی۔ اس کمپنی کا کام یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ہزاروں پیداواری یونٹوں میں نصب کمپیوٹروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ایسے سافٹ ویئر تیار کرتی ہے جس کو کوئی ہیکر (Hacker) نہیں چرا سکتا۔ لیکن قربان جائیے ٹیکنالوجی چوروں کے کہ آج اگر یہ کمپنی کسی طرح کا سافٹ ویئر تیار کرتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ یہ فول پروف سیکیورٹی کا ضامن سافٹ ویئر ہے تو چند دنوں بعد اس کا توڑ نکال لیا جاتا ہے۔ آپ Mc Afee کو گوگل کریں تو اس طرح کی سیکیورٹی کمپنیوں کا ایک بحرِ بے کراں آپ کو نظر آئے گا۔ یہ کمپنی ہر سال ایک رپورٹ شائع کرتی ہے جس میں سائبر وار فیئر اور اس سے متعلقہ معلومات کا ایک وسیع سمندر آپ کے سامنے کھل جائے گا۔ دس بارہ برس پہلے میکافی کی ایک سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دنیا میں 130ممالک ایسے ہیں جو ایسے پروگرام ڈویلپ کررہے ہیں جن کو بطور ہتھیار (Weapon) استعمال کرکے دنیا بھر کے ممالک کی فنانشل مارکیٹوں اور حکومتوں کے کمپیوٹرائزڈ نظاموں وغیرہ میں خلل اندازی (Disruption) کی جا سکتی ہے۔

گزشتہ کالم میں لکھا گیا تھا کہ پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کو بہت سے ملکوں سے خطرات لاحق ہیں۔ انفرمیشن وار فیئرگویا ایک نیا میدان جنگ ہے جس میں پاکستان کے معرضِ خطر میں آنے والے اہداف کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان زیرِ خطرہ اہداف میں پاکستان کی سلامتی، یکجہتی، علاقائی سالمیت، ثقافتی شناخت، نظریاتی اساس اور نسلی انسلاک (Cohesion) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے سٹرٹیجک اثاثہ جات (جوہری بم، میزائل، کثیر الفاصلاتی طیارے وغیرہ) اور اس کی مسلح افواج بشمول اس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں (آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی) بھی سائبر حملوں کی زد پر ہیں۔ ہم آئے روز دھماکوں کی خبریں دیکھتے اور پڑھتے ہیں، کوئٹہ پر گزشتہ تین دنوں کے اندر (7جنوری تا10جنوری 2020ء) دو تباہ کن حملے ہو چکے ہیں جن میں بہت سا جانی نقصان ہوا ہے۔ سات جنوری کا دھماکہ ایک ریموٹ کنٹرول دھماکہ تھا اور دھماکہ خیز مواد ایک موٹرسائیکل میں چھپایا گیا تھا۔ لیکن 10جنوری والا خودکش تھا۔حملہ آور مغرب کی نماز میں دوسری قطار میں کھڑا تھا جس نے خودکش جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس حملے میں ایک DSP بھی مارا گیا۔ اس کی ٹائمنگ پر بھی غور کریں، جونہی نمازکھڑی ہوئی، دھماکہ کر دیا گیا۔ اس دوسرے دھماکے بعد ہمارے ٹیلی ویژن چینلوں پر بلوچستان کے وزیر داخلہ کا بیان آیا کہ یہ خودکش حملے اور دہشت گردانہ کارروائیاں CPECکے خلاف کی جا رہی ہیں۔

لیکن وزیر موصوف کو معلوم ہو گا کہ CPECتو اب پاکستان گیر منصوبہ ہے۔ چند ماہ بعد ایم ایل ون شروع ہونے والا ہے۔ اس راہداری کی تکمیل میں کئی شاہراہیں تعمیر کی گئی ہیں جن میں سینکڑوں پل بھی ہیں۔ یہ شاہرائیں / موٹرویز پاکستان کے چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان میں بھی مکمل ہوچکے یا ہو رہے ہیں۔ تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ جو دھماکے ان ایام میں بلوچستان میں ہو رہے ہیں وہ کل کلاں پاکستان میں کسی اور جگہ بھی ہو سکتے ہیں؟ میں ان صفحات میں قبل ازیں ہائی برڈ وار فیئر پر لکھ چکا ہوں۔ سائبر وار فیئر اسی ہائی برڈ جنگ کا ایک ذیلی پہلو ہے۔ یہ جنگ کوئی روائتی (کائی نیٹک) جنگ نہیں بلکہ غیر روائتی جنگوں کے ایک وسیع تر سلسلے کا ایک ذیلی حصہ ہے۔ اس حملے میں اقتصادی جنگ، سفارتی جنگ اور اس قبیل کی وہ ساری جنگیں شامل ہیں جن میں کنونشنل ہتھیار اور کنونشل حربے (Tactics) استعمال نہیں کئے جاتے۔

مقامِ اطمینان ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج، کنونشنل اور نان کنونشنل طریقہ ہائے جنگ سے عہدہ برآ ہونے کا پورا پورا سامان کر رہی ہیں …… کوشش کروں گا کہ ان صفحات میں، مسلح افواج کی بالعموم اور پاکستان آرمی کی بالخصوص ایسی مساعی کا ذکر کروں جن کے بارے میں بوجوہ پاکستانی پبلک کو آگہی نہیں دی جاتی۔ لیکن اب تو یہ کوئی خفیہ معلومات نہیں رہیں، بلکہ معلوماتِ عامہ کی ذیل میں آ چکی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں وقت آ گیا ہے کہ آئی ایس پی آر انگریزی اور اردو زبانوں میں ایسا مواد (کتابچوں کی شکل میں) شائع کرکے عام کرے جو عوامی آگہی کی ذیل میں آتا ہے اور آج کے ہر قاری کی معلوماتی تشنگی فرو کرنے کا سامان کرتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...