سینیٹ، پوسٹ آفس، پوسٹل سروسز قانون کی تنسیخ و نفاذ، معاشرتی ہم آہنگی کے بلز متفقہ منظور

سینیٹ، پوسٹ آفس، پوسٹل سروسز قانون کی تنسیخ و نفاذ، معاشرتی ہم آہنگی کے بلز ...

  



اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)سینیٹ نے دی پوسٹ آفس بل 2019ء،پوسٹل سروسز سے متعلق قانون کی تنسیخ اور نفاذ اور معاشرتی ہم آہنگی بل دوہزار انیس اتفاق رائے سے منظورکرلئے۔ پیر کو اجلاس کے دور ان آئین کے آرٹیکل 213اور215 میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا گیا،بل لیگی سینیٹر جنرل(ر) عبدالقیوم نے پیش کیا،چیئرمین سینیٹ نے آرٹیکل 213اور215 میں ترمیم کا بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔اجلاس کے دور ان دی پوسٹ آفس بل 2019ء ایوان بالاء سے منظور کرلیا گیا بل ایم کیو ایم کی سینیٹر خوش بخت شجاعت نے پیش کیا۔اجلاس کے دور ان پوسٹل سروسز سے متعلق قانون کی تنسیخ اور نفاذ کا بل منظورکرلیا گیا بل خوش بخت شجاعت نے پیش کیا،مذکورہ بل ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اجلاس کے دور ان اسلام آباد معاشرتی ہم آہنگی بل دوہزار انیس سینیٹ میں پیش کیا گیا،معاشرتی ہم آہنگی بل دو ہزار انیس سینیٹر رانا مقبول نے سینیٹ میں پیش کیا، وزیرداخلہ اعجاز شاہ نے بل پر مزید مشاورت کرنے کا مشورہ دیدیا،معاشرتی ہم آہنگی بل 2019ء اتفاق رائے سے منظورکرلیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ بلدیاتی نظام موجود ہے لہذا یہ بل واپس لیاجائے۔سینیٹر رانا مقبول نے کہاکہ یہ بل لوکل لیول پر ہم آہنگی کیلئے لایا گیا،دوکروڑ کے شہر میں ایک شخص کپڑے نہ ہونے پر خودکشی کرلیتاہے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ بل سے معاشرے میں ہم آہنگی اور آپس میں فیصلے کریں گے،بل کی منظوری سے حکومت پر معاشرتی بوجھ کم ہوگا۔اجلاس کے دور ان چاروں ہائی کورٹس کے مزید بنچز بنانیسے متعلق آئینی ترمیمی بل ایک بار موخر کر دیا گیا،دو تہائی ممبران ناں ہونے کیوجہ سے آئینی ترمیمی بل موخر ہوا،چیرمین سینیٹ نے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف سے مشاورت کے بعد دوبارہ بل لانے کا اعلان کیا۔آئین کے آرٹیکل 198 میں مزید ترمیم کا بل سینیٹر جاوید عباسی نے تیار کیا۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق عوامی مشکلات کے پیش نظر لاہور،سندھ،بلوچستان،پشاور ہائی کورٹس کے مزید بنچز بنائی جائیں،پیپلزپارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو کا کمیٹی میں چیئرمین واپڈا کی مسلسل غیر حاضری کا شکوہ کیا، سینیٹر سسی پلیجو نے کہاکہ کہتے ہیں سندھ بیراج کی تعمیر اپکے لئے تحفہ ہے،اگر تحفہ ہے تو ہمیں خددودخال سے توآگاہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر آبی وسائل اور چئیرمین واپڈا کمیٹی میں نہیں آتے۔ سینیٹر رحمان ملک  نے کہاکہ جب ڈالر مہنگا ہوگا تو باہر سے آئی اشیاء بھی مہنگی ہونگی،پرائس اینڈ کنٹرول اتھارٹی بنانی چاہیے،ہر کوئی من مانی قیمتیں بناتا ہے،پرائس اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے۔اجلاس کے دور ان دریائے سندھ پر سندھ بیراج کی تعمیر سے متعلق تحریک پیپلز پارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے پیش کرنے تھی،متعلقہ وزیر کی عدم حاضری کے باعث تحریک آئندہ ہفتے تک موخر کردی گئی،متعلقہ وزیر کو آئندہ ہفتے حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی۔ سسی پلیجو نے کہاکہ سندھ بیراج کی تعمیر کا معاملہ ایک اہم معاملہ ہے، تحریک پر جواب دینے کے لئے ایوان میں متعلقہ وزیر بھی موجود نہیں۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے چار مرتبہ چیئرمین واپڈا کو بلایا، چیئرمین واپڈا ایک دفعہ بھی کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔سسی پلیجو نے کہاکہ چیئرمین واپڈا پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں، کمیٹی نے چیئرمین واپڈا کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرانے کا فیصلہ کیا ہے، کوئی بھی پارلیمان سے بالاتر نہیں، متعلقہ وزیر بھی ایوان میں موجود نہیں،سندھ بیراج کی تعمیر سے متعلق اعتماد میں لیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ سینیٹر جاوید عباسی  نے کہاکہ ملک کا وزیراعظم کہتاہے کہ مسائل قبر میں حل ہونگے،وزیراعظم نے کہا کہ تیل نکلے گا۔سینیٹر ایواب آفریدی  نے کہاکہ ہماری اپوزیشن آل روانڈر ہے ہر موضوع پر بات کرلیتے ہیں،مینوفیکچرنگ پاکستان میں ہوگی تو قیمتیں کم ہونگی،اب بھی فریج کے لئے کمپرریسر باہر سے منگواناپڑتا ہے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے کہاکہ لنگر ہماری تہذیب وتمدن کا حصہ ہے،لنگر خانوں پر حکومت کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہورہا،لنگر خانوں میں مخیر حضرات کی وجہ سے غیریب آدمی تین وقت عزت سے روٹی کھاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاروں کے کارخانوں پر ڈی پاکٹ کی تھیوری نافذ کی جائی گی،ڈی پاکٹ تھیوری کے نفاذ سے جانی نقصان پر کارخانوں کو ادا کرناہوگا۔ہماری حکومت میں گاڑیوں کے 18کارخانے لگے جس میں 5چل پڑے۔چیئرمین سینیٹ نے معاملے پر مزید بحث کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔سینیٹ میں ملک میں سی پیک منصوبوں پر عملدرامد کے حوالے سے قرارداد پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے  سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ وفاقی دالحکومت میں سکلز اینڈ ڈیویلپمنٹ پروگرام شروع کیا ہے۔اجلاس کے دور ان سی پیک منصوبوں پر عملدرامد کی قرار سینیٹ میں منظورکرلی گئی،حکومت کی جانب سے ایچ ای سی کے بجٹ میں 10فیصد کٹوتی کیخلاف قرداد متفقہ طور پر ایوان بالاء سے منظور کی گئی قرداد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے پیش کی۔ حکومت کے انسانی وسائل کی تربیت و ترقی کے لئے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ضروری اقدام اٹھانے کی قرارداد منظور کرلی۔ پیر کواجلاس کے دوران سینیٹر سیمی ایزدی نے یہ قرارداد پیش کی جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے ہنر سب کے لئے، ہنر مند پاکستان پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت ایک لاکھ 70 ہزار نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دی جائے گی۔ 14 اقدامات کے تحت 40 شعبوں کا تعین کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دور ان حکومت کے زیر انتظام تمام ہسپتالوں میں جدید ترین ٹراما سینٹر کے قیام کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے قرارداد پیش کی کہ یہ ایوان سفارش کرتا ہے کہ حکومت اپنے انتظامی کنٹرول کے تحت تمام ہسپتالوں میں جدید ترین ٹراما سینٹر کے قیام کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے۔ ایوان نے یہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔سینیٹ میں اپوزیشن نے گاڑیوں پر عائد ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا ہے،ملک کا پہیہ چلنا ضروری ہے،حکومت نے جاپان سے سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی درآمد بھی ختم کر دی ہے، انڈسٹری کو ریلیف دیا جائے، لوگوں کو روزگار دینا چاہئے،لوگوں کو خیرات مانگنے پر کیوں مجبور کر رہے ہیں، ٹیکسوں میں کمی کی جائے۔سابق چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی وفات پر تعزیتی قردار ایوان بالاء سے متفقہ طور پر منظور کرلی گئی،تعزیتی قرارداد قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے پیش کی،ایوان بالا میں فخرالدین ابراہیم اور کوئٹہ دھماکے کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

سینیٹ

مزید : صفحہ آخر