نارووال سپورٹس سٹی کیس، احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7روز کی توسیع

      نارووال سپورٹس سٹی کیس، احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7روز کی ...

  



اسلام آباد(آئی این پی) احتساب عدالت نے نارووال سپورٹس سٹی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 روز کی توسیع کردی، عدالت میں احسن اقبال روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ تاریخ میں نیب کے جو لطیفے لکھے جائیں گے ان میں میرے خلاف کیس سب سے اوپر ہوگا، کیا میں نے نارووال میں کوئی نائٹ کلب یا کسینو کھولا ہے؟،یہ ایک کھنڈر جگہ تھی ہم نے اس کو مکمل کیا، ایسے بہت سے منصوبے ہیں جن میں وفاقی حکومت صوبوں کی مدد کرتی ہے۔ پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے رخصت ہونے پر احسن اقبال کو احتساب عدالت کے جج اعظم خان کے روبرو پیش کیا گیا۔اس موقع پر نیب نے موقف اپنایا کہ نارووال سپورٹس سٹی منصوبے کی فیزیبلٹی اسٹڈی نہیں کروایا گیا جو بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی منصوبے پر وفاقی حکومت کا اختیار نہیں تھا، احسن اقبال اپنے علاقے کو نوازنا چاہتے تھے اور محض اپنی خواہش کے لیے وفاقی حکومت کا خزانہ لٹایا۔ان کا کہنا تھا کہ احسن اقبال بدعنوانی کے عمل کے مرتکب ہوئے ہیں اور نیب آرڈیننس کے سیکشن 10 بی میں کرپشن کے علاوہ کرپٹ پریکٹس کا الگ سے ذکر ہے'۔انہوں نے بتایا کہ احسن اقبال کے ریمانڈ میں گزشتہ سماعت پر 7دن کی توسیع ہوئی تھی جن میں سے 2دن وہ پارلیمنٹ جاتے رہے۔انہوں نے عدالت سے احسن اقبال کے مزید14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔احسن اقبال کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ نے ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد منصوبہ وفاقی حکومت نہیں بنا سکتی اور اس وقت وفاقی حکومت 2 ڈیم کس قانون کے تحت بنا رہی ہے اور کراچی میں وفاقی حکومت کس قانون کے تحت منصوبہ بنا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم نے ایگزیکٹو فنکشن کا اختیار ختم نہیں کیا بلکہ صرف قانون سازی کا اختیار صوبوں کو منتقل کیا۔انہوں نے کہا کہ نارووال سپورٹس سٹی کی منظوری دینے والے بورڈ میں چاروں صوبوں کے فنانس ڈویژن کے سیکرٹری سمیت وزیر اعظم آزاد کشمیر اور صوبوں کی پلاننگ ڈویژن کے ممبران بھی شامل تھے۔وکیل دفاع کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی بجٹ اس منصوبے پر نہیں لگ سکتا تھا تو کیا یہ منظوری دینے والے لوگ اندھے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نارووال سپورٹس سٹی میں کوئی جرم بنتا ہی نہیں، کسی منصبوے پر ایک سو روپے لگنا تھے اور 2 سو لگ گئے تو جرم کہاں سے ہو گیا، اگر پیسے کسی کی جیب میں گئے ہوتے تو جرم بنتا۔ان کا کہنا تھا کہ 70 سال میں پاکستان میں ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنا، حکومت نے 40 کروڑ کا بجٹ روک کے منصوبے کو کھنڈر بنا دیا ہے جسے اب دوبارہ بحال کرنے میں اربوں روپے لگیں گے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میں ایک درخواست دینا چاہتا ہوں، عمران خان نیازی کو اس کیس میں شامل کیا جائے کیوں کے انہوں نے منصوبے کا بجٹ روکا۔ان کا کہنا تھا کہ کرتار پوری راہداری میں قوانین کی خلاف ورزی کی گئی اس پر نیب خاموش کیوں ہے، ہم سیاست دانوں کو الٹی چھری سے ذبح کیوں کیا جاتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے احسن اقبال کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 دن کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 20 جنوری کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 احسن اقبال

مزید : صفحہ آخر