تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک پیج پر، اپوزیشن بے وقعت ہو گئی: سراج الحق

تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک پیج پر، اپوزیشن بے وقعت ہو گئی: ...

  



لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ اس وقت ملک میں دینی جماعتیں اصل اپوزیشن ہیں۔ خود کو اپوزیشن کہنے والی سابقہ حکمران پارٹیاں حکومت کے ساتھ مل گئی ہیں۔ پی ٹی آئی، پی پی اور مسلم لیگ ن ایک پیج پر ہیں۔ اپوزیشن بے وقعت ہوگئی ہے۔ اب عام آدمی پی پی پی اور مسلم لیگ کے اپوزیشن ہونے کے دعوے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر کشمیریوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم کو بھی مایوس کیاہے۔ 5 فروری کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھر پور طریقے سے منایا جائے گا۔کشمیر کی آزادی پاکستان کی تکمیل،سا لمیت اور دفاع کے لیے ناگزیر ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنی میزبانی میں منصورہ میں ہونے والے ملی یکجہتی کونسل کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت کے ریاست مدینہ کے نعرے کو عوام نے اس لیے سراہا تھا کہ لوگوں کو غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات اور عام آدمی کو تعلیم، صحت اور سستے انصاف کی سہولتیں ملیں گی مگر حکمرانوں نے ریاست مدینہ کا ایسا مذاق بنایا ہے کہ اب لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست مدینہ حکمرانوں کے کسی ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔ 

سرا ج الحق

لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی میزبانی اور صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر کی صدارت میں ملی یکجہتی کونسل کے منصورہ میں ہونے والے اجلاس میں 26 جماعتوں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں قومی و بین الاقوامی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ پیش کیا۔ اجلاس میں پیرہارون گیلانی، قاضی نیاز حسین نقوی، علامہ عارف واحدی، علامہ ثاقب اکبر، علامہ زبیر احمد ظہیر، حافظ عاکف سعید، مولانا عبدالمالک، مولانا سبطین سبزوار ی، سید اقبال رضوی، پروفیسر محمد ابراہیم، اسد اللہ بھٹو، حافظ عبدالغفار روپڑی، پیر غلام رسول اویسی، صاحبزادہ سلطان احمد علی، مولانا عبدالرؤف ملک، جاوید قصوری، ڈاکٹر طارق سلیم، نذیر احمد جنجوعہ، حافظ کاظم رضا، پیر لطیف الرحمن شاہ، مولانا اسماعیل شجاع آباد ی، اسد نقو ی اور مولانا اسلم صدیقی و دیگر قائدین شریک تھے۔ اجلاس میں منظور کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سربراہی اجلاس امریکہ کی طرف سے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی راہنما ابو مہدی المہندس پر حملہ کی شدید مذمت کرتاہے اور یہ سمجھتاہے کہ امریکہ کا یہ اقدام صرف ان رہنما?ں پر نہیں بلکہ عالم اسلام پر حملہ ہے اور امریکہ کی دہشت گرد پالیسیوں کا تسلسل اور بیّن ثبوت ہے۔ امریکہ عالم اسلام کادوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ امریکہ،پاکستان،افغانستان،عراق، شام اور دیگر مسلمان ممالک سے نکل جائے اور یمن میں جنگ فی الفور ختم کی جائے۔ اسی طرح امریکہ کی سرپرستی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیر میں ایک طویل کرفیو کی بھی اجلاس شدید مذمت کرتاہے اور مطالبہ کرتاہے کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا احترام کرے اور فوری کرفیو اٹھائے،بے گناہ کشمیریوں کاقتل عام بند کرکے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر فوری عمل کرتے ہوئے انہیں حق خود ارادیت فراہم کرے۔ اجلاس نے حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی پرسخت مایوسی کااظہار کیا ہے اور کہاہے کہ حکومت پاکستان نے کشمیر کی مسلمہ پالیسی سے صریحاً انحراف کیا ہے۔ قوم 5فروری کو یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ملک گیر احتجاج کرے گی اور ملک بھر میں ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم اور اس میں شامل سیاسی جماعتوں کی سطح پراحتجاجی پروگرام منعقد کرے گی۔ قوم کشمیر اور فلسطین پر کوئی سودے بازی قبول نہیں کرے گی۔ اجلاس میں کوالالمپور کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کی عدم شرکت اور بائیکاٹ کی مذمت کی گئی اور کہاگیاکہ نہ صرف اندرونی بلکہ خارجہ محاذ پر بھی حکومت پاکستان نہ صرف مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے 

اجلاس

مزید : صفحہ آخر


loading...