پاکستان اور ملائشیا کی تجارت بڑھانے کیلئے تعاون کی تجویز

پاکستان اور ملائشیا کی تجارت بڑھانے کیلئے تعاون کی تجویز

  



لاہور (پ ر)وزیر ٹریسا کوک (Teresa Kok)10جنوری 2020کو منعقدہ پانچویں پاکستان ایڈیبل آئل کانفرنس میں کلیدی خطاب کرنے کیلئے مدعو تھیں۔ان کے ساتھ اس تقریب میں حکومت پاکستان کے مشیر برائے تجارت،ٹیکسٹائل،صنعت و پیداوار اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد بھی شریک تھے۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان دونوں ممالک کے باہمی مفادات سے وابستہ مختلف امور پر بات چیت ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ خوشگوار تعلقات سمیت باہمی تجارت میں اضافے کیلئے دیگرمواقعوں کی تلاش پر زور دیا۔پاکستان ملائشین پام آئل اور مصنوعات کا اہم در آمد کنندہ ہے،سال 2018میں پاکستان نے ملائشیا سے 1.16ملین ٹن پام آئل در آمد کیا جس کی مالیت 0.83ارب امریکی ڈالرز بنتی ہے،اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اس بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں ملائشین پام آئل کے شیئر میں اضافے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔پاکستان،ملائشیا کو درکار چاول،پھل اور دیگر مصنوعات کا بڑا بر آمد کنندہ ہے اور عبدلرزاق داؤد نے ملائشیا پر تجارتی طریقہ کار کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ملائشیا کو پاکستان سے ان اشیاء کی بر آمدات سہل طریقے سے کی جاسکیں۔ملائشین وزیر ٹریسا کوک نے اس موقع پر بتایا کہ سری لنکا کے Medium Density Fireborads))MDFبر آمد کنندگان کو کم ڈیوٹیاں ادا کرنے کی سہولت حاصل ہے جہاں ملائشیا کی زیادہ معیاریMDFزیادہ در آمدی ٹیرف سے مشروط ہے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان دیگر مصنوعات کی تجارت کے مواقعوں پر بھی بات چیت ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے ان معاملات کو اپنے اپنے ممالک کے متعلقہ حکام تک پہنچانے پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا تا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید اضافے کیلئے راہیں ہموار کی جاسکیں۔وزیر ٹریسا کوک نے کراچی میں منعقدہ پانچویں پاکستا ن ایڈیبل آئل کانفرنس سے بھی کلیدی خطاب کیا۔

انہوں نے پام آئل کے استعمال کنندہ کی حیثیت سے پاکستان کی اہمیت اور پورٹ قاسم پر پاکستان و ملائشیا کے مشترکہ منصوبے کے تحت ریفائنری سے متعلق خیالات کا اظہار کیا،انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک عرصے سے ملائشین پام آئل و مصنوعات کا باقاعدہ خریدار ہے۔انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ پاکستان میں ملائشین پام آئل کی فروخت میں اضافے کے وسیع امکانات ہیں کیونکہ پاکستان اپنی ضروریات کا محض 20فیصد خوردنی تیل ہی تیار کرتا ہے اور ملکی طلب و ضرورت پوری کرنے کیلئے پاکستان کا انحصار در آمدی خوردنی تیل پر ہی ہے۔

پاکستان میں آبادی،آمدن اور استعمال میں اضافے کے باعث گزشتہ سات برسوں سے خوردنی تیل کی طلب میں سالانہ4.5فیصد کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔وناسپتی گھی کی تیاری میں پام آئل کا وسیع استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں اسے فوڈ انڈسٹری میں بطور خام مال پر ترجیح دی جاتی ہے،خاص کر فرائنگ اور کنفکیشنری آئٹمز میں اس کا استعمال وسیع پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ملائشین کمپنیوں نے پاکستان میں نمایاں سرمایہ کاری کررکھی ہے،ایف جی وی،کے ایل کے اور آئی او آئی 1993سے Westbury Groupکے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں ہیں۔وزیر ٹریسا کوک نے واضح کیا کہ پاکستان ان پہلے بر آمدی ممالک میں شامل ہے جہاں ملائشیا نے بلک انسٹالیشن و ریفائنری اور پام آئل کی ہینڈلنگ کیلئے مخصوص لیکوئیڈ کارگو جیٹی میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ٹریسا کوک نے اس سے قبل پورٹ قاسم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ریئر ایڈمرل سید حسن ناصر شاہ سے بھی ملاقات کی،انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے ملائشیا کے جلد دورے کی اطلاعات پر بھی انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔

مزید : علاقائی


loading...